پی ڈی ایم کا میدان اور نوازشریف کی سیاست

685

پی ڈی ایم حکومت مخالف تحریک سے اب ادارے مخالف تحریک بن چکی ہے، اس اپوزیشن اتحاد میں جتنی پارٹیوں کے سربراہان شامل ہیں، سب کا ایک ہی مقصد ہے اور وہ ہے اداروں کی تذلیل کرنا، سب کا ایک ہی نعرہ ہے اداروں کی بے توقیری کیسے کی جائے۔ سمجھ نہیں آتی ان سیاسی پارٹیوں کی منزل کیا ہے۔ پی ڈی ایم میں جتنی بھی پارٹیاں مل جل کر اکٹھی بیٹھی ہیں سب کی باتوں میں تضاد ہے۔ ایک کا موقف ہے میری حکومت سے کوئی لڑائی نہیں، اس حکومت کو لانے والوں سے لڑائی ہے۔ جس کو پی ڈی ایم کا سربراہ بنایا گیا ہے، وہ کہتا ہے میری لڑائی اس حکومت سے ہے، یہ حکومت ناجائز ہے، دھاندلی سے آئی ہے۔ ایک اور پارٹی رہنما اداروں سے مدد بھی مانگتا ہے اور ساتھ یہ بھی کہتا ہے کہ میں پی ڈی ایم کا حصہ ہوں۔ دوسری جانب حکومت سمجھتی ہے کہ یہ سب بنارسی ٹھگ ہیں، انہوں نے ملک کو بے تحاشا لوٹا ہے، آج ملک جن حالات میں ہے یہ سب انہی کا کیا دھرا ہے۔ اپوزیشن کا سارا بیانیہ ملکی اداروں کے خلاف ہے لیکن عوام ادارے مخالف بیانیے میں ان کے ساتھ نہیں ہیں۔

نواز شریف کی پی ڈی ایم کے جلسوں میں دوسری تقریر ہے، اس سے پہلے نواز شریف نے گوجرانوالا کے جلسے میں تقریر کی ہے جس میں نواز شریف نے اداروں کے سربراہان پر الزام لگائے۔کراچی والے جلسے میں نواز شریف نےتقریر نہیں کی جبکہ پی ڈی ایم کے جلسوں میں دوسری تقریر نواز شریف نے کوئٹہ کے جلسے میں کی ، کوئٹہ میں بھی نواز شریف نے اسی طرح اداروں کی تذلیل کی ہے ۔نواز شریف نے اسی طرح اداروں کے سربراہان کا نام لے کر خطاب کیا جیسے پہلے کیا۔ نواز شریف کا مقصد صرف اداروں پر بات کر کے اپنی نالائقی کو چھپانا ہے ،ان کا طرز حکومت ہمیشہ بادشاہوں جیسا رہا ہے حتی کہ بعض یاران ِ دل کے مطابق امیرالمومنین بننے کی کوشش تک کر بیٹھے۔ انھوں نےاپنی ہر حکومت میں اداروں کو اپنی مرضی کے مطابق چلانے کی کوشش کی ہے ، ہر ادارے کو پنجاب پولیس بنانے میں لگے رہے۔ یہ اب بھی چاہتے ہیں کہ حکومت میں ہوں ،جیسے کہں ہر ادارہ ویسے چلے ۔حالانکہ حقیقت میں ہر ادارے کا اپنا طور طریقہ ہے، نظم وضبط ہے ۔جو ادارہ نوازشریف کی نہ سنے تو یہ ان کے مخالف ہو جاتے ہیں، یہی وجہ ہے نواز شریف کی کبھی طاقتور اداروں سے نہیں بنی۔

نواز شریف کا بیانیہ ووٹ کو عزت دو ،اب پہلے جیسا پرکشش نہیں رہا کیونکہ اب نواز شریف نے اس بیانیےکو اپنی ذاتی انا بنا دیا ہے۔ حالانکہ یہ بیانیہ بہت مضبوط عوامی بیانیہ بن سکتا تھا لیکن نواز شریف نے اس بیانیے کاخود ہی جنارہ نکالنا شروع کر دیا ہے۔ ایک تو آپ سزا یافتہ ہیں، ابھی آپ کی سزا چل رہی ہے، آپ بیماری کا بہانہ بنا کر ملک سے باہر گئے ہوئے ہیں۔ آپ باہر جاتے ہی انقلابی بن گئے ہیں جبکہ حقیقت میں علاج کی بجائے سیاست کر رہے ہیں۔ اگر آپ اتنے ہی انقلابی ہیں ملک میں واپس آئیں، یہاں بیٹھ کر عوام کے ساتھ مل کر ووٹ کو عزت دیں، پھر ہم سمجھیں گے آپ کے اندر عوام کا درد ہے اور آپ حقیقی لیڈر ہیں۔ مگر آپ باہر بیٹھ کر صرف اداروں کی تذلیل کر رہے ہیں اور ملکی سلامتی کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ آپ کی دولت باہر، آپ کی اولاد باہر، آپ عوام کو بے وقوف بنانے کے لیے اقتدار میں آتے ہیں، آپ کو صرف اس ملک میں اقتدار کی بھوک ہے، آپ کے اندر تھوڑا سا بھی عوام کا درد ہے تو واپس آئیں اور عوام کو لیڈ کریں۔

نوازشریف تین دفعہ اس ملک کے وزیراعظم رہ چکے ہیں، نہ عوام کو اچھے ہسپتال دے سکے ہیں نہ ہی تعلیم کے اچھے ادارے قائم کیے ہیں، نہ ہی ملک کے اداروں کی اصلاحات کی ہیں۔ آپ نے ایک ادارے کو بھی اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے نہیں دیا۔ پی آئی اے، پاکستان ریلوے، پاکستان سٹیل، مل یہ سب ادارے آپ کے ہر دور میں برباد ہوئے ہیں، نہ ہی ملک میں غربت کم کی ہے۔ آپ نے اس ملک کے لیے کیا ہی کیا ہے؟ عوام ہر دفعہ آپ سے بے وقوف نہیں بن سکتے۔

نواز شریف نے کوئٹہ کے جلسے میں اداروں پر وہی گھسے پٹے الزام لگائے کہ اداروں نے دھاندلی کروائی، اداروں نے مجھے حکومت سے نکلوایا، اداروں نے عمران خان کو ہمارے اوپر مسلط کیا۔ کوئٹہ کا جلسہ تھا اس لیے آپ کو مسنگ پرسن بھی یاد آئے، اس کا لزام بھی آپ نے اداروں پر لگایا، بلوچستان میں یہ مسنگ پرسن والی کہانی آج کی تھوڑی ہے، اس حکومت سے تھوڑی شروع ہوئی ہے، نواز شریف صاحب آپ بھی تین دفعہ ملک کے وزیراعظم رہے ہیں۔ آپ کے ہر دور میں بھی یہی ہوتا رہا ہے۔ آج اچانک آپ کو مسنگ پرسن کی یاد آ گئی۔ ملک میں اس طرح کی آگ لگا کر آپ کو کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ آپ اداروں کیخلاف نفرت کی آگ اگل کر اپنے بیانیے کے دشمن بنے ہوئے ہیں اور یہ آپ کاا دارے مخالف بیانیہ اپنی موت آپ مر جائے گا۔ آپ کی اپنی پارٹی کے لوگ آپ کے ادارے مخالف بیانیے کے ساتھ نہیں ہیں، آپ نے کہا عمران خان صاحب میری آپ سے کوئی لڑائی نہیں ہے، میری لڑائی اداروں سے ہے۔ آپ یہ کہہ کر کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ ادارے آپ کےاس طرح کے بیانات سے کمزور ہونگے، آپ اس طرح کی باتیں کرکے اپنے آپ کو اور اپنے بیانیے کو کمزور کر رہے ہیں۔ آپ اداروں کے اندر اپنے لیے نہ ختم ہونے والی نفرت پیدا کررہے ہیں جوکہ آپ کو اور آپ کی پارٹی کو لے ڈوبے گی۔

نواز شریف صاحب، آپ ادارے مخالف بیانیے سے اپنی سیاسی ساکھ کو نقصان پہنچا رہے ہیں، آپ اپنی پارٹی کو ایک ایسی بند گلی کی طرف لے کے جارہے ہیں جس سے واپسی کا کوئی راستہ نہیں، آپ اداروں سے نفرت میں اتنے دور جا رہے ہیں جہاں آپ کو اپنے سیاسی نقصان کے علاوہ کچھ نہیں ملے گا۔ آپ اپنی 35سالہ سیاسی جدوجہد کا جنازہ نکال رہے ہیں۔ آپ یہ سمجھ رہے ہیں کہ عوام آپ کے ساتھ ہیں تو یہ آپ کی غلط فہمی اور آپ کی خام خیالی ہے۔ عوام اپنے اداروں کے ساتھ ہیں، عوام اپنے اداروں کی بے توقیری برداشت نہیں کر سکتی، اس کا آپ کو آج نہیں کل ضرور احساس ہوگا کہ آپ نے جو اداروں کے ساتھ کیا، غلط کیا، آپ کے جو دوست آپ کو اس طرح کے مشورے دے رہے ہیں وہ آپ کے حقیقی دوست نہیں، بھیانک دشمن ہیں۔

نواز شریف صاحب خدارا، اداروں کی عزت کریں، ملک سے باہر بیٹھ کر اداروں کا مذاق نہ بنائیں۔ یہ ریاست کے ادارے ہیں، آپ کی جاگیر نہیں۔ ملک کی سلامتی انہی اداروں سے ہے۔ انہی اداروں کی وجہ سے ریاست قائم ہے اور ریاست ہے تو آپ بھی حکمران ہیں۔ آپ کی ہر تقریر ریاستی اداروں پر الزامات کی ہوتی ہے، آپ الزامات سے باہر نکلیں ملک کا سوچیں۔ یہ ملک صرف نواز شریف کا نہیں ہے یہ ہر پاکستانی کا ملک ہے۔ آپ ملک کو ریاست کے طور پر دیکھیں نہ کہ اپنی ذاتی جاگیر کے طور پر، ابھی بھی وقت ہے ریاستی ادارے مخالف بیانیے کو چھوڑ دیں ورنہ جس طرف آپ ریاستی اداروں کو لے کے جارہے ہیں، ایک وقت آئے گا آپ اداروں کے بغض میں اتنے دور چلے جائیں گے کہ واپسی ناممکن ہوگی۔ عوام آپ سے حساب مانگیں گے، آپ کے پاس عوام کو دینے کے لیے کچھ نہیں ہوگا، تب اس ملک کا اللہ حافظ ہوگا اور لوگ ماضی کے سارے سیاستدانوں کو بھول جائیں گے، پھرسیاست کا دمادم مست قلندر ہوگا اور آپ کا گریبان ہوگا اور عوام کے ہاتھ ہونگے۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.