خوش قسمتی کی دستک….

844

سیاسی بحران پوری شدت سے ملکی سیاست کو لپیٹ میں لے رہا ہے، اس سے اور تو کچھ فرق پڑتا ہے یا نہیں مگر عام آدمی کی زندگی مزید تلخ ضرور ہو جائے گی۔ ملک میں مہنگائی بہت زیادہ بڑھ گئی ہے جس سے جینا اتنا مشکل ہو گیا ہے کہ لوگ زندگی اذیت سمجھنا شروع ہو گئے ہیں۔ موہوم سی امید ہے کہ آنے والے سالوں میں شائد کچھ بہتری آئے اور خوشحالی ہمارے مقدروں کا بھی حصہ بنے۔ پاکستان میں حکمرانوں کی ناچاقیوں کی وجہ سے ملکی حالات مزید خراب ہو رہے ہیں اور ہر کوئی حالات کا ذمہ دار دوسرے کو ٹھہرا کر خود کو بری الذمہ قرار دے رہا ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ اپوزیشن ہمیں کام نہیں کرنے دے رہی۔ اپوزیشن کا شور ہے کہ حکومت احتساب کے عمل سے انتقام لے رہی ہے، جو بھی ہو ایک بات تو طے ہے کہ احتساب کے عمل کو رکنا نہیں چاہیے، دیکھتے ہیں کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔ عوام کو اس قصے سے دور ہی رہنا چاہیے، احتجاج سمیت کسی ملک دشمن سرگرمی کا حصہ نہ بنتے ہوئے اپنے کام دھندے پر توجہ مرکوز رکھنی چاہیے۔ اللہ اللہ کرکے لاکھوں لوگوں اور فوج کی بے شمار قربانیوں کے بعد ملک میں امن قائم ہوا ہے۔ اب اس امن کو قائم رہنا چاہیے اور اس کے لیے ہم سب کو مل کر کوششیں کرنی ہیں۔

کورونا سے متعلق تمام اختیاطی تدابیر اختیار پر عمل ضروری ہے، فساد کا باعث بننے والی تمام چیزوں سے دور رہنا ہے، فرقہ بندی دشمن کی چال ہے جس میں کسی صورت نہیں آنا، اپنی رائے کے ساتھ ساتھ اپنے بھائی کی رائے کا بھی اخترام کرنا ہے، نہ کسی کو اپنا عقیدہ چھیڑنے دو نہ ہی کسی کا عقیدہ چھیڑو، کسی بھی عمل کو انجام دینے سے پہلے اس کی سچائی بھانپنا ضروری ہے۔

یسے میں شکر گزاری کو اپنی عادت بنا کر خوش قسمتی کو اپنے دروازے پر دستک دینے کی دعوت دیں۔ کیوں کہ شکر گزاری ہے خوش قسمتی کی کنجی ہے۔ فرمایا گیا : جو جتنی شکرگزاری کرے گا اسے اتنا ہی دیا جائے گا، اس لیے شکر واجب ہے۔ زندگی میں ہر چیز کی اہمیت ہے۔ ایسے ہی جذبات ہیں۔ وہ جذبہ محبت ہو یا نفرت، لڑائی ہو یا صلح، غضہ ہو یا پیار، ہمدردی ہو یا سخت دلی۔ ان جذبات کا درست اور بروقت استعمال ہی انسان کو انسان کی معراج پر قائم رکھتا ہے۔ نرم دلی اور ہمدردی ہی انسان کو انسان رہنے دیتی ہے۔ بہت سی ناخدائی کا وجود اسی ہمدردی کی عدم موجودگی کی وجہ سے ہے۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

اسماء طارق الفاظ کے ساتھ کھیلنا خوب جانتی ہیں، سماجی معاملات پر ان کی گہری نظر ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.