پنجاب روزگار سکیم ایک گیم چینجر۔ایک فلاحی منصوبہ

1,200

الیکشن سے قبل تحریک انصاف نے قوم کو ایک خواب دیکھایا تھا کہ وہ برسراقتدار آ کر قوم کو بھکاری نہیں بلکہ خودمختار بنائیں گے اوریوں اِس خواب کو تمام تر مشکلات اور مخالفین کی مزاحمت کے باوجود آج تعبیر ملتی نظر آرہی ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی جانب سے بے روزگاراورمحروم طبقے کو پنجاب روزگار سکیم کے ذریعے اپنے پاؤں پر کھڑا کر نا ایک مستحسن اقدام ہے۔اِس سکیم سے ایک طرف صوبے میں بے روزگاری کا خاتمہ ممکن ہو گا تو دوسری طرف نوجوان طبقہ خود انحصاری کی منزل کی جانب رواں دواں بھی ہوجائے گا۔

اگرد یکھا جائے پاکستان دنیا کے ان پندرہ ممالک میں شامل ہے جہاں آبادی کے اعتبار سے نوجوانوں کی تعداد زیادہ ہے،اعدادوشمار کے مطابق15 سے 30 سال عمر کے افراد کی تعداد تقریباً 40% سے زائد ہے اور یہی نوجوان جذبہ، ہمت،بلند حوصلے اور جدت پسندانہ رحجان کے مطابق قوم کی خدمت اور بھرپور خدمت کا ولولہ رکھتے ہیں مگر افسوس ماضی میں اس قومی اثاثے کو سراسرایسا نظرانداز کیا گیا کہ یہ قابلیت اور ہنرمندیوں سمندرپار کی اُڑان بڑھنے لگیں اور یوں پاکستان ایک فکر سے محروم ہونے لگا۔مگر اب صورتحال بدل رہی ہے اور یہ بات حوصلہ افزاء ہے کہ وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی زیرقیادت حکومت پنجاب مسلسل کوشاں ہے کہ نئے پنجاب کی تعمیر و خوشحالی میں اِن نوجوانوں کی صلاحیتوں کو بھی بروئے کار لایا جائے اور اِس ضمن میں پنجاب روزگار سکیم جس کا طرہ امتیاز شفافیت اور میرٹ ہے،ایک کلیدی کردار ادا کرسکتا ہے۔

گزشتہ روز 30ارب روپے کی پنجاب روزگار سکیم کے حوالے سے پنجاب سمال انڈسٹریز کارپوریشن اوربینک آف پنجاب میں معاہدے پر دستخط کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے کہا کہ پنجاب کی تاریخ کی یہ سب سے بڑی روزگار سکیم ہے۔30 ارب روپے سے زائد کے قرضے آسان شرائط پر دیئے جائیں گے -16 لاکھ سے زائد لوگوں کو رو زگار ملے گا- پنجاب روز گار سکیم سے فائدہ اٹھا کر ہنر مند نوجوان دوسروں کو بھی روزگار فراہم کرنے کے قابل ہوں گے-انہوں نے کہا کہ نوجوان ہی نہیں بلکہ چھوٹی اوردرمیانے درجے کی صنعتوں کے مالکان بھی اپنے کاروبار کو فروغ دے سکیں گے-سب سے بڑا سرمایہ ہنر ہے اور ہم ہنر کو سرمایہ کاری میں بدل رہے ہیں -پنجاب روز گار سکیم ایک گیم چینجر ثابت ہو گی-یہ حکومت کا فلیگ شپ پراجیکٹ ہے –

تفصیلات کے مطابق پنجاب سمال انڈسٹریز کارپوریشن اوربینک آف پنجاب کے اشتراک سے ایک لاکھ سے ایک کروڑ روپے تک کے قرض آسان اور قابل قبول شرائط پر انتہائی کم شرح سود پر فراہم کیے جائیں گے جبکہ 20سے 50سال تک کے مرد حضرات، خواتین اورخواجہ سراء بھی فائدہ اُٹھاسکیں گے -پنجاب روزگار سکیم کے ذریعے ٹیکسٹائل کے 26سب سیکٹرز سمیت23مختلف شعبوں کے 339سب سیکٹرزکیلئے کاروبار،تجارت اورمینوفیکچرنگ کے لئے چھوٹے قرضے دیئے جائیں گے-سرکاری رپورٹ کے مطابق اب تک 9ہزار428افراد نے قرضے کیلئے درخواستیں جمع کرائی ہیں۔6ہزار138درخواستوں کے ساتھ مطلوبہ فیس جمع نہیں کرائی گئی جبکہ3ہزار35درخواستوں کے ساتھ فیس جمع کرائی گئی ہے۔پنجاب سمال انڈسٹریز کارپوریشن نے 1619درخواستوں کو پراسس کیا ہے جو اِس بات کا ثبوت ہے کہ عوام اِس منصوبہ میں بھرپور دلچسپی کا مظاہر ہ کر رہی ہے جبکہ حکومت بھی سنجیدگی سے عملی اقدامات کر رہی ہے

چونکہ پنجاب روزگار سکیم روزگاری کے حوالے سے اپنی نوعیت کا پنجاب میں سب سے بڑا پروگرام ہے تو ضروری ہے کہ بے روزگاری کے خاتمے اور محروم طبقات کے معیار زندگی کوبلند کرنے کے لیے ایسے فلاحی پروگرام کا تسلسل برقرار رکھا جائے اور اِس کے دائرہ کار کوبھی وسیع سے وسیع تر کیا جائے تاکہ یہ سکیم ایک تحریک کی صورت اختیار کرتے ہوئے معاشرے میں سے امیر اور غریب طبقات کے درمیان حائل خلیج کو ختم کرنے کیلئے کارگر ثابت ہوسکے۔

سن دو ہزار تیرہ سے صحافت سے وابستہ ہیں ،پہلا تعارف ادبی رپورٹس ہے جبکہ فیجر رائٹنگ کے علاوہ ’’دوسرا رُخ‘‘کے عنوان سے کالم نویسی بھی کر رہے ہیں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.