”فرانس کی گستاخی اور ہماری ذمہ داری”

991

یہ بات شاید بہت کم لوگ جانتے ہوں گے کہ فرانس براعظم یورپ کا ایسا ملک ہے جس کی باقی یورپ کے مقابلے سب سے زیادہ آبادی مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ جرمنی کے ہمسائے میں واقع فرانس کی 66 ملین کی مجموعی آبادی میں مسلمانوں کی تعداد یقینی طور پر سات ملین کے لگ بھگ ہے اور یہ تعداد دن بدن تیزی سے بڑھتی جا رہی ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ آئینی طور پر سیکولر ریاست فرانس میں اسلام کو مسیحیت کے بعد دوسرا بڑا مذہب ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ اس ملک میں مسلمانوں کی اکثریت کا تعلق شمالی افریقہ کی سابقہ فرانسیسی نوآبادیوں سے آنے والے تارکین وطن سے ہے جن میں سے الجزائر، مراکش اور تیونس سب سے اہم ہیں۔

شاید یہی وجہ ہے کہ فرانس میں اسلام کے حوالے سے ایک تشویش کی لہر پائی جاتی ہے، یا دوسرے لفظوں میں جسے اسلاموفوبیا کے نام سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے کیونکہ انہیں خطرہ ہے کہ اگر یہاں اسلام اسی طرح مزید پھلتا پھولتا رہا تو اگلے بیس، تیس سالوں میں یہاں مسلمان اقلیت نہیں رہیں گے۔ اس لیے وہاں کبھی حجاب پر پابندی کا قانون بنا کر اپنی دانست میں اسے روکنے کی کوشش کی جاتی ہے اور کبھی شارلی ایبڈو کی شکل میں انتہائی اوچھی اور نیچ حرکتیں کر کے مسلمانوں کے ایمانی جذبات کو مجروح کیا جاتا ہے۔

پچھلے چند ماہ کے دوران فرانسیسی عوامی اور تعلیمی اداروں میں مسلمانوں کے لیے حلال خوراک اور کھانے پینے سے متعلق مذہبی احکامات پر عمل درآمد کے حوالے سے بھی ایک بڑا موضوع زیر بحث ہے اور اس حوالے سے قانون سازی کی باتیں کی جا رہی ہیں۔

اب کچھ دن پہلے فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون نے بھی اس سلسلے میں اپنی باطنی خباثت انڈیل کر رکھ دی اور گستاخانہ خاکوں کے دفاع کے حوالے سے کھل کر سامنے آ گئے۔ دنیا میں ایسا بہت کم ہوا ہے کہ کسی بڑے ملک کے سربراہ نے سرکاری سطح پر اپنے ہی ملک کی ایک بڑی اقلیت کے مذہبی جذبات کو بھڑکانے میں اہم کردار ادا کیا ہو۔ خاص کر سائنس و ٹیکنالوجی کی نت نئی ایجادات سے مزین اس جدید دور میں جب پہلے سے ہی عالمی فضا میں گولہ و بارود کی بو رچی بسی ہوئی ہو اور جسے ختم کرکے پرامن دنیا کے خواب دیکھے جا رہے ہوں، وہاں ایک ذمہ دار سمجھے جانے والے ملک کے سربراہ کا اس قدر غیرذمہ دارانہ کردار یقیناً ایک بڑا لمحہ فکریہ اور افسوسناک ہے۔

اب جب کہ عالمی سطح پر بارہا دنیا کے دوسرے بڑے مذہب اسلام کے پیروکاروں کے ایمانی جذبات سے کھیلنے کا سلسلہ جاری ہے اور بار بار توہین آمیز فلمیں اور خاکے بنا کر ہمارے ایمانوں کو تولا جاتا ہے تو ہمیں اپنی تمام مصلحتوں اور مادی تقاضوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے خواب غفلت سے جاگنا ہو گا اور ٹوٹی ہوئی تسبیح کے دانوں کی طرح بکھری امت مسلمہ کو متحد کرنے کا فریضہ سرانجام دینا ہو گا۔

آج بلاشبہ وقت آ گیا ہے کہ او آئی سی جیسے نیم مردہ گھوڑے میں بھی جان پڑ سکتی ہے کیونکہ فرانس کے اس بیہودہ اور شرم ناک عمل پر تمام امت مسلمہ ایک جیسا درد محسوس کر رہی ہے۔ کیا گورا کیا کالا، کیا عربی کیا عجمی، کیا شیعہ کیا سنی، دیوبندی، وہابی، سبھی مسلمان فرقوں اور گروہوں کے لیے نبی مکرمﷺ کی ذات بابرکات اللہ تعالیٰ کے بعد سب سے زیادہ محترم اور جان سے پیاری ہستی ہے اور ہر ایک کا دل اس واقعے کے بعد زخمی ہے۔

ایسے میں فروعی اور گروہی اختلافات بھلا کر عالم کفر کو ایک مثبت، ٹھوس اور جان دار پیغام دیا جانا واجب ہے تاکہ آئندہ کوئی ایسی کسی بیہودگی کی جرأت نہ کر سکے۔

کتنی افسوس ناک بات ہے کہ دنیا میں 50 سے زیادہ معاشی و دفاعی طور پر طاقت ور مسلم ممالک ہونے کے باوجود دنیا کے ہر خطے میں اگر کوئی کسی کے زیر عتاب ہے تو وہ مسلمان ہے۔ کہیں اس کی جان محفوظ نہیں اور کہیں اس کا ایمان محفوظ نہیں، کہیں نعوذ بااللہ قرآن جلایا جاتا ہے اور کہیں خاکے، فلمیں اور کارٹونز بنا کر اس کے دل کو تڑپایا جاتا ہے۔ کہیں ان کی نسل کشی کی جا رہی ہے اور کہیں ان سے شہری حقوق چھینے جا رہے ہیں۔

یقیناً اس میں ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ ہم نے نبی مکرمﷺ کے ملت واحد کے فارمولے کو بھلا دیا اور اپنی اپنی اڑھائی انچ کی مساجد لے کر بیٹھ گئے ہیں۔ امت مسلمہ کے اجتماعی مسائل پر اپنے ذاتی و گروہی مفادات کو ترجیح دینے لگے، مادیت ہماری رگ رگ میں یوں رچ بس گئی کہ دین و ملت کی ناموس اور وقار کو پس پشت ڈال دیا۔ ”علامہ اقبالؒ” کی روح سے انتہائی معذرت کے ساتھ کہ ”کابل میں چبھے کانٹے پر ہندوستاں کے پیرو جواں نے بے قرار ہونا چھوڑ دیا”۔

اب یہاں اس معاملے میں کوئی زیادہ بڑے تیر مارنے کی ضرورت نہیں، دنیا کی تمام بڑی معیشتوں کی طرح فرانس کی معیشت کا انحصار بھی بڑے مسلم ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات پر ہے اور بحیثیت مسلمان ہم جانتے ہیں کہ ایک غیر مسلم کا دنیاوی مال و اسباب پر کس قدر ایمان و یقین ہے۔ ان کا اوڑھنا بچھونا مادیت اور دنیاوی آسائش و لذتیں ہی تو ہیں۔ اگر اور کچھ نہیں تو کم از کم ہم فرانس کو معاشی طور پر ایک بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں اور یقیناً پچھلے کچھ دنوں سے اس عمل میں مثبت پیش رفت بھی ہوئی ہے۔ سوشل میڈیا پر اس حوالے سے منظم مہم جاری ہے۔ ادھر قطر، ایران، کویت، اردن اور فلسطین سمیت کئی مسلمان ممالک نے بھی سرکاری سطح پر فرانس کے معاشی بائیکاٹ کا اعلان کر دیا ہے۔

ترکی کے صدر نے بھی انتہائی سخت موقف اختیار کرتے ہوئے ایمانویل میکرون کو دماغی مریض قرار دے ڈالا جس پر فرانس کو ترکی سے اپنا سفیر واپس بلانا پڑا۔ اب یہ خبر بھی آ چکی ہے کہ فرانسیسی صدر نے عرب ممالک سے معاشی بائیکاٹ نہ کرنے کی اپیل کی ہے جو بلاشبہ ایک بڑی کامیابی ہے۔

عالم اسلام کی مضبوط اور پہلی ایٹمی قوت ہونے کے ناطے ہمیں بھی اس سلسلے میں موثر کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ اگرچہ ہمارے دفتر خارجہ نے فرانسیسی سفیر سے احتجاج بھی کیا ہے اور وزیر اعظم نے فیس بک کے مالک کو ایک خط بھی لکھا ہے لیکن شاید یہ اقدامات ناکافی ہیں۔ ہمیں انفرادی و اجتماعی سطح پر اپنے نبی ﷺ کی عزت و ناموس کی خاطر فرانس کے باقاعدہ معاشی بائیکاٹ پر سنجیدگی سے غور کرنا چاھیے اور ترکی اور باقی عرب ممالک کی طرح سرکاری سطح پر ان فرانسیسی کمپنیوں پر مکمل پابندی عائد کرنی چاھیے جو اپنے برانڈز کے بدلے اربوں روپے کا سرمایہ یہاں سے کما کر لے جاتی ہیں۔ کیونکہ بلاشبہ ایک مسلمان کے لیے حرمت رسول ﷺ سے بڑھ کر کچھ بھی اہم نہیں۔ اگر ہم صرف اس پر ہی سنجیدگی سے عمل شروع کر دیں تو بلاشبہ ان شیطان صفت ممالک کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے اور مستقبل میں ان کی شرانگیزی سے بچا جا سکتا ہے۔

طاہر ایوب سماجی و سیاسی موضوعات پر قلم اٹھاتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.