سرور کونین محمد مصطفی ﷺ

966

اللہ عزوجل، قادر مطلق کی جملہ مخلوقات میں جو کہ نور سے، نار سے یا مٹی سے پیدا کی گئیں سب میں عظیم تر مخلوق حضرت انسان ہے۔ اور پھر انسانوں میں انسان کامل، بے مثل بشر، خاتم المرسلین، سیّدالعالمین، صاحب قاب قوسین، جناب طٰہٰ و یٰسین، حامل مقام محمود، خلقتِ نور، رسول کریم محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقامِ عظمت و رفعت کا کیا ٹھکانہ، جہاں باری تعالیٰ کا نام آتا ہے، وہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کا نام مبارک آتا ہے۔

کلمہ طیبہ آپ کے شرف کی دلیل، کلمہ شہادت آپ کی صداقت کا ثبوت ہے۔ اذان آپ کی شان وعظمت کا اعلان ہے۔ تکبیر آپ کے علوِ مرتبت کی علامت ہے، نماز آپ کی جلالت قدرکی شہادت ہے۔ آپ ﷺ کی اطاعت اللہ کی اطاعت ہے، قرآن میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود وسلام کا حکم آپ کے ارتفاع منزلت کا نقش ہے۔

اللہ ربّ العزت نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایسا بنایا کہ نہ اس سے پہلے ایسا کوئی بنایا ہے نہ بعد میں کوئی بنائے گا۔ سب سے اعلیٰ، سب سے اجمل، سب سے افضل، سب سے اکمل، سب سے ارفع، سب سے انور، سب سے اعلم، سب سے احسب، سب سے انسب، تمام کلمات مل کر بھی آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی شان کو بیان کرنے سے قاصر ہیں، اگر سارے جہاں کے جن و انس ملکر بھی خاتم النبین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان اقدس اور سیرت طیبہ کے بارے میں لکھنا شروع کریں تو زندگیاں ختم ہو جائیں مگر رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان کا کوئی ایک باب بھی مکمل نہیں ہو سکے گا۔

اللہ رب العزت نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا ہے ”اے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، ہم نے آپ کے ذکر کو بلند کر دیا ہے۔ لہذا جس ہستی کا ذکر خالق کائنات بلند کرے، جس ہستی پر اللہ تعالیٰ کی ذات درود و سلام بھیجے، جس ہستی کا ذکر اللہ رحمن و رحیم ساری آسمانی کتابوں میں کرے، جس ہستی کا، چلنا، پھرنا، اٹھنا، بیٹھنا، سونا، جاگنا، کروٹ بدلنا، کھانا، پینا۔ جن کی ذات اقدس بنی نوع انسان کیلئے باعث نجات، باعث شفاء، باعث رحمت، باعث ثواب، باعث حکمت، باعث دانائی ہو اور اللہ ربّ العزت کی ذات نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات بابرکت کو مومنین کیلئے باعث شفاعت بنا دیا ہو، اس ہستی کا مقام اللہ اور اللہ کا نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی جانتے ہیں۔ پھر اس ہستی کے متعلق سب کچھ لکھنا انسانوں اور جنوں کے بس کی بات نہیں۔

اللہ تعالیٰ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بے شمار خصوصیات عطافرمائی ہیں جن کو لکھنا تو در کنارسارے جہان کے آدمی اور جن ملکر گن بھی نہیں سکتے۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ذات اقدس الفاظ اور ان کی تعبیرات سے بہت بلند وبالا تر ہے۔ آپ کائنات کا مجموعہ حسن ہیں، آپ کا قد نہ زیادہ لمبا تھا نہ پست، ماتھا کشادہ تھا، سر مبارک بڑا اور خوبصورت، آپ کے بال نیم گھنگریالے تھے، آپ کی بھوئیں گول دلکش تھیں جہاں وہ ملتی ہیں وہاں بال نہ تھے، وہاں ایک رگ تھی جو کہ برہم ہونے پر پھڑکتی تھی، آنکھ مبارک کے بارے میں ہے کہ آپ کی آنکھیں لمبی، خوبصورت، سرخ ڈوروں سے مزین تھیں، موٹی اور سیاہ، سفیدی انتہائی سفید، آپ کی پلکیں بڑی دراز، آپ کی ناک مبارک آگے سے تھوڑا اٹھا ہوااور نتھنوں سے باریک، ایک نور کا ہالہ تھا جو ناک پر چھایا رہتا تھا، آپ کے ہونٹ انتہائی خوبصورت تراشیدہ، تھوڑے دہانے کی چوڑائی کے ساتھ، دانت بڑے خوبصورت اور متوازی اور ان میں کسی قسم کی کوئی بے ربطگی نہ تھی، انتہائی باہم مربوط، پہلے چار دانتوں میں خلاء تھا، جب آپ مسکراتے تو دانتوں سے نور نکلتا ہوا سامنے پڑتا تھا، گال مبارک نہ پچکے ہوئے نہ ابھرئے ہوئے ، چہرہ چودھویں رات کے چاند کی طرح چمکتا ہوا گول تھا، داڑھی مبارک گھنی تھی۔

ام مبارک رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ” میں نے ایک نوجوان دیکھا، بڑا صاف ستھرا، حسین سفید چمکتا چہرہ، جیسے کلیوں میں ایک تازگی ہوتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا رنگ چمکتا تھا نوخیز کلیوں کی طرح، اور فرماتی ہیں کہ آپ نہ ایسے موٹے تھے کہ نظروں میں جچے نہیں اور نہ ایسے دبلے اور کمزور تھے کہ بے رعب ہو جائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم وسیم و قسیم تھے (عربی زبان میں وسیم بھی خوبصورت کو کہتے ہیں اور قسیم بھی خوبصورت کو کہتے ہیں، وسیم وہ خوبصورت ہوتا ہے جسے جتنا دیکھیں اس کا حسن اتنا بڑھتا ہے جسے دیکھتے ہوئے آنکھ نہ بھرے، قسیم اسے کہتے ہیں جس کا ہر عضو الگ الگ حسن کی ترجمانی کرتا ہو، جس کا ہر عضو حسن میں کامل اور اکمل ہو )۔

اللہ تعالیٰ نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سراج منیر کا لقب دیا، یہ لقب صرف آپ کو ہی دیا گیا، جس کا مطلب ہے” روشن چراغ “ آپ نبوت کا روشن آفتاب ہیں۔ آپ کے آفتاب کی کرنیں اہل بیتؓ کے بعد اصحابؓ پر پڑیں، پھر تمام دنیا پر پھیل گئیں۔ انہی کرنوں کی بدولت دنیا کے تمام خطے پر اسلام پھیل گیا اور ان کرنوں نے چپہ چپہ پر ہدایت کا نور پھیلایا۔

علامہ قرطبی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے حسن و جمال میں سے بہت تھوڑا سا ظاہر فرمایا اگر سارا ظاہر فرماتے تو آنکھیں اس کو برداشت نہ کرسکتیں۔ حضرت یوسف علیہ السلام کا سارا حسن ظاہر کیا لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے حسن کی چند جھلکیاں دکھائی گئیں اور باقی سب مستور رہیں، کوئی آنکھ ایسی نہ تھی جو اس جمال کی تاب لا سکتی، اس لئے ہم وہی کچھ کہتے ہیں جو اہل بیتؓ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو دیکھ کر ہم تک پہنچایا۔

حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ شاعر رسول اللہ نے ان الفاظ میں بیان کیا” آپ جیسا حسین میری آنکھ نے نہیں دیکھا، آپ جیسے جمال والا کسی ماں نے نہیں جنا، آپ ہر عیب سے پاک پیدا ہوئے، آپ ایسے پیدا ہوئے جیسے آپ نے خود اپنے آپ کو چاہا ہو۔ “ یہاں شاعر کا تخیل اتنی بلندی پر گیا ہے کہ ساری دنیا کا نعتیہ کلام ایک پلڑے میں اور یہ ایک مصرع دوسرے پلڑے میں ہوتو اس کا وزن زیادہ ہے۔ غرضیکہ آپ کے اسوہ حسنہ پر عمل پیرا ہو کر ہی ہم دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں اور محبوب ربّ العالمین صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی جناب میں سرگوشی، جنبش لب، اشارہ ابرو، آنکھوں کے ذریعے اس طرح رمز و کنایہ کرنا جس سے کسی قسم کی گستاخی کا پہلو نکلتا ہو ،ہر گز روا نہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں میں سب سے زیادہ سرور کونین حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی محبت پیدا فرمائے اور ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی سیرت و کردار کو اپنا کر دین اسلام کی تبلیغ و ترویج اور معاشرے کی اصلاح کا ذریعہ بنائے، آمین۔

رانا اعجاز سیاسی و سماجی موضوعات پر لکھنا پسند کرتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.