امریکی جریدے نے بھارت کا مکروہ چہرہ برہنہ کر دیا

1,164

سات دہائیوں کی تاریخ گواہ ہے کہ بھارت جموں و کشمیر پر اپناغاصبانہ قبضہ جاری رکھنے کے لئے کشمیری مسلمانوں کا خون بہانے میں مصروف ہے۔ مودی سرکار کے ہاتھ خونِ انسان سے رنگین ہیں۔ یوں تو بھارت کی ریاستی ٗ آبی ٗ انسانی ٗ اخلاقی ٗ تہذیبی دہشت گردی کئی دہائیوں سے جاری ہے ٗجو پاکستان ہی نہیں بلکہ اقوام عالم بخوبی جانتی ہیں کہ بھارت موجودہ دور کا سب سے بڑا دہشتگرد ہے۔ بھارت کی کشمیر میں براہ راست دہشتگردی نے انسانیت کو شرمندہ کر دِیا جس کی مثال عالمی قوانین کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے پانچ اگست کو80 لاکھ کشمیریوں کے گھروں کو جیل بنا دیا گیا ہے۔ دُنیا کی تاریخ کا بدترین کرفیو اور لاک ڈاؤن پانچ اگست 2019 سے تاحال جاری ہے۔

رابطوں کے ذرائع بند ٗ میڈیا پر پابندیاں ٗ کشمیر کی آئینی حیثیت کو بدل کر کشمیریوں سے طاقت کے زور پر ان کا حق چھیننے کی کوشش ٗ آزادی پسندوں کو شہید ٗ آزادی اظہار پر پابندیاں ٗ سفر کی سہولیات سے محروم ٗ سیاسی قیادت کو قید کرنا ٗ مودی سرکار کا وطیرہ ہے۔ یہ دہشت گردی دُنیا دہائیوں سے دیکھ رہی ہے لیکن کسی پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔کئی عالمی رپورٹس بھارتی ظلم و بر بریت ٗ سفاکی کو بے نقاب کرتی رہی ہیں ٗ جن میں بھارتی ریاستی دہشت گردی ٗ وادی کشمیر میں انسانیت سوز مظالم کا تذکرہ ہوتا رہا۔لیکن اب تو بھارتی چہرہ دُنیا کے سامنے چاک ہو چکا۔

امریکہ کے دہشت گرد ی کے حوالے سے تہلکہ خیز انکشاف نے بھارتی دہشت گردی طشت ازبام کر دی۔ امریکی جریدے فارن پالیسی نے بھارت کے مکروہ چہرہ سے نقاب اتار دیا ہے جس کے مطابق بھارت عالمی دہشت گردی میں ملوث اوردُنیا کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔امریکی جریدے نے اپنی رپورٹ میں بھارت اور داعش کے گٹھ جوڑ کا بھی انکشاف کیا ہے۔رپورٹ میں بتایاگیا ہے کہ بھارتی دہشت گردی کی داستانیں تاریخی طور پر دُنیا کی نظروں سے اوجھل رہیں۔ مختلف ممالک میں دہشت گرد حملوں اور نئی لہر میں بھارتی سرپرستی نیا موڑ لے رہی ہے اور اگست میں داعش کے جلال آباد جیل پر حملے نے اس اْبھرتے ہوئے خطرے کو بڑھاوا دیا۔

امریکی جریدے کے مطابق داعش اور بھارتی گٹھ جوڑ نے 2019 ء میں سری لنکا میں ایسٹر پر بم دھماکے کیے، اس گٹھ جوڑ نے 2017 ء میں ترکی میں کلب پر حملہ، نیویارک اور اسٹاک ہوم میں حملے کیے، ان حملوں کی منصوبہ بندی میں بھارتی ہاتھ انتہائی پریشان کن ہے۔

فارن پالیسی میگزین نے بھارت کو انتہا پسند نظریات کے فروغ کی جڑ اور بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کا دہشت گردی میں ملوث ہونا کوئی نئی بات نہیں ہے ٗ بھارت کے دہشت گرد گروپوں کی سر پرستی کے واضح ثبوت موجود ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا کہ کشمیر میں بھی بھارت میں موجود انہی عناصر نے کردار ادا کیا اور بھارت کے پاکستان و افغانستان میں موجود نیٹ ورکس سے روابط کے واضح ثبوت ہیں ٗبھارتی دہشت گرد،افغانستان میں داعش کے ساتھ مل کر لڑرہے ہیں۔ شام کی لڑائی میں بھارتی دہشت گردوں کے ملوث ہونے کے بھی واضح ثبوت ملے ہیں۔

جریدے نے مزید انکشاف کیا کہ پہلے بھارت صرف خطے میں دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث رہا ٗ اب یہ بڑھ رہا ہے ٗ اسے روکا نہ گیا تو یہ علاقائی اور عالمی امن کے لیے انتہائی خطرناک ہوگا ٗ داعش اور بھارتی گٹھ جوڑ کے نتیجے میں دہشت گردانہ کارروائیوں میں واضح اضافہ ہوا ہے۔چاہے وہ2016ء اتا ترک ائرپورٹ یاچاہے وہ زیر ِ زمین پیٹرز برگ پر حملہ ہو۔

بھارتی دہشت گردوں نے خاص طور پر افغانستان اور شام کو بیس بنا کر دہشت گردانہ کارروائیوں میں حصہ لیا۔ کابل میں سکھ گردوارہ پر حملے میں بھارتی دہشت گرد ملوث تھے۔ داعش نے بھارت میں موجود اپنے دہشت گرد گروپس کا باضابطہ اعلان بھی کیا تھا۔ داعش کا یہی گروپ کشمیر میں بھی ملوث ہے ٗ ایک ہندو کےنائن الیون واقعہ میں مبینہ ملزم خالد شیخ محمد سے روابط کے بھی انکشاف ہیں۔ بھارت میں مودی نے ہندو نیشنلزم کو فروغ دیا ہے۔ ہندو نیشنلزم انتہا پسندی کو فروغ دے رہا ہے۔

ایک اور امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے کہاہے کہ بھارت میں مودی کی زیرقیادت بی جے پی کی حکومت کاواحد ایجنڈاانتخابات جیتنے کی خاطرہندواکثریت کو خوش کرنے کے لیے مسلمان ثقافت کومٹانا ہے۔ اخبار نے اپنی رپورٹ میں لکھاہے کہ نریندرمودی کم تعلیم یافتہ تماشے بازہے جوبھارت کی بھرپور مسلم ثقافت کو تباہ کررہاہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بابری مسجدکی شہادت کے مقدمے میں ملوث ملزموں کی بریت بھارتی جمہوریت کا ایک افسوسناک باب ہے ٗبھارت میں حقوق انسانی کی بڑے پیمانے پر خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں اور مودی حکومت نہ صرف خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہے بلکہ لوگوں کو مذہبی تعصب کے لیے حوصلہ افزائی کا باعث بن رہی ہے۔

عالمی دہشت گردی کے حوالے سے یہ تہلکہ خیز انکشاف ہے اور بھارت کو دہشتگرد ریاست ثابت کرنے کیلئے کافی ہے ٗ اس سے پہلے بھی بہت ساری مثالیں موجود ہیں جن میں بھارتی حکومت ہمسایہ ممالک میں دہشتگردی کی پشت پناہ رہی ہے اور بھارت ریاستی پالیسی کے طور پر دہشت گردی کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے۔ بھارتی جاسوس و دہشتگرد کلبھوشن یادیو، بھارتی ریاستی دہشت گردی کا زندہ ثبوت ہے۔اس کے علاوہ بھی بھارت کئی دہشت گردی کے واقعات میں ملوث رہا ہے۔

اب بھارت کی عالمی دہشت گردی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ٗ پاکستان اور دیگر ممالک کے ساتھ بھارت کا جنگی جنون ٗ دہشت گردی ٗ وادی کشمیر میں انسانیت سوز مظالم ٗ اقوام عالم کے قوانین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے خصوصی حیثیت ختم کرنا ٗ قالے قوانین کا راج ٗ ڈومیسائل کی تبدیلی جنوبی ایشیاء ہی نہیں ٗ عالمی امن کے لیے بھی خطرناک ہیں۔ جس کا انکشاف جریدے میں بھی کیا گیا ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ بھارت کے عزائم جنوبی ایشیا ء کے لیے ہی نہیں ٗ پوری دُنیا کے امن کے لیے خطرہ ہیں لہذا اس سے پہلے کہ بھارت خطے میں ایٹمی جنگ کے آغاز کا سبب بنے عالمی برادری اس کے خلاف ویسی ہی پابندیاں عائد کرے جو مسلمان ممالک پر بلا ثبوت لگادی جاتی ہیں۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

عابد ضمیر پیشہ ور صحافی ہیں، کرنٹ افیئرز سمیت دیگر موضوعات پر قلم آزمائی کرنے کے علاوہ سوشل میڈیا سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر ایکٹو ہیں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.