’’ٹھنڈا فرش۔۔‘‘

8,799

غالباً اگست کا آخری عشرہ تھا، چہرے کے خدوخال بتا رہے تھے کہ فاقہ کشی کیا بلا ہوتی ہے، پچکے گال اور گالوں پر ماس کی بجائے ہڈیاں نمایاں، ہاتھوں پر نیلگوں مائل خون کی شریانیں یا لمبی پتلی ہڈیاں دِکھ رہی تھیں، چھوٹے چھوٹے سبز پرچموں کے نقوش سے پرنٹ شدہ ایک گھِسی پٹی شرٹ جو یقیناً سستے داموں جشن آزادی کے ہنگام جگہ جگہ لگے ٹھیلے والوں سے خریدی گئی یا ہدیتہ ً وصول شدہ تھی، میں ملبوس ستر پوشی کی روایت نبھاتے ہوئے وہ چار بچیوں کے ہمراہ بے حال لیکن غضب بھری آنکھوں کیساتھ اس معروف اخبار کی ریسپشن میں داخل ہوئی۔ بڑی بیٹی آٹھ دس سال، دوسری سات آٹھ ، تیسری پانچ چھ اور چوتھی چار پانچ برس کی ہوگی۔ چاروں معصوم بچیوں کا حلیہ بھی اپنی ماں سے کچھ مختلف نہ تھا۔ ایک فرق البتہ بہت واضح تھا، ہڈیوں کے ڈھانچے میں چلتی پھرتی ان کی ماں کے چہرے پر گرمی دانوں کا نام و نشان تک نہ تھا کہ شاید ماس ہی نہ تھا، ننھی کلیاں البتہ سر سے پاوں تک گرمی دانوں سے لدی پڑی تھیں۔ الجھے سلجھے چھوٹے چھوٹے بال، پرانی پرانی سی فراکوں میں ملبوس کسی ایک بچی کے پاوں میں بھی ایک طرح کی چپل نہ تھی، کہیں ٹاکی سے جوڑی قینچی چپل تو کہیں ایڑھیوں سے گھس گھس کر چھلکا بنے جوتی کے تلوے تھے۔

ریسپشن پر رش تھا، سکیورٹی گارڈ سے نمٹنے کے بعد وہ آناً فاناً ریسپشن تک آن پہنچی، ایک ہاتھ میں سب سے چھوٹی کا ہاتھ تھامے اور دوسرے میں چند کاغذ لہراتے وہ ریسپشن پر موجود انتظامی اہلکار سے مخاطب تھی؛ میری چار بیٹیاں ہیں، ایک کمرے کا کرائے کا مکان ہے، ان کا باپ ۔۔ یہ کہتے ہوئے اس نے شدھ پنجابی زبان میں دو چار انتہائی تیزابی گالیاں دیں، ان کا باپ نشئی ہے، کام کا نا کاج کا دشمن اناج کا ، کئی ماہ ہو گئے لاپتہ ہے، معلوم نہیں منحوس کی لاش کس گندے نالے سے ملنی ہے، ’’مولا کتے دی موت دووے بغیرت نوں۔‘‘ ان چار بچیوں کو پال رہی ہوں، کھانے پینے کا قحط ہے، جس باجی کے گھر صفائی کرتی ہوں کورونا کی وجہ سے انہوں نے چھٹی کروا رکھی ہے، اور یہ دیکھو! یہ میرے ہاتھ میں حالیہ تین بجلی کے بل ہیں، مالک مکان کی منت ترلا کر کے کرائے کی ادائیگی کیلئے مزید ایک ماہ کی مہلت تو لے چکی ہوں لیکن ان بِلوں کا کیا کروں؟

مدعا ٹالنے کے لئے بنا لگی لپٹی ریسپشن پر بیٹھے اہلکار نے کہا کہ بی بی یہ اخبار کا دفتر ہے واپڈا کا نہیں، قریبی لیسکو آفس تشریف لے جائیں۔ وہ پھٹ پڑی، ’’تینوں لووے مولا کمبختا!‘‘ یہ کہتے ہوئے وہ دھاڑتے ہوئے بولی؛ وہاں بھی گئی ہوں، ایک کمرہ ، ایک پنکھا ، ایک بلب ، فریج نہ ٹی وی، بیس ہزار بل، پھر چالیس ہزار اور اب ساٹھ ہزار، دو ہفتوں سے میٹربھی کاٹ کر لے گئے ہیں، کہتے ہیں پہلے یہ بل بھرو پھر بتی بحال ہوگی۔ کہاں سے بھروں اتنا بل؟
سنا تھا کہ اخبار میں خبر چھپے تو کچھ داد رسی ممکن ہوتی ہے، مجھے آپ کی مدد چاہیے۔ اخبار میں چھاپیں کہ ایک ماں کیساتھ کیا بیت رہی ہے۔ اس لئے آپ کی منتیں کر رہی ہوں۔ اس تکرار کے دوران وہ مسلسل ایک ہاتھ سے سب سے چھوٹی بچی کا ہاتھ تھامے رکھنے کی بھر پور کوشش کر رہی ہے اور باقی تینوں کو انتہائی پیار سے سمجھا رہی ہے کہ ایک ساتھ کھڑی رہیں، ادھر ادھر نہ ہوں۔ ریسپشن پر بمشکل آٹھ دس افراد کے کھڑے ہونے کی جگہ تھی، ریسپشن پر بیٹھا اہلکار ہر آنے جانے والے کو ’’انٹرٹین ‘‘کر رہا تھا، خاص مہمانوں کو انٹر کام کے ذریعے اندر بھجوا رہا تھا، معمول کی حاضریوں کو وہیں سے نمٹا رہا تھا، ڈاک وصولی کا کام بھی ساتھ ساتھ جاری تھا۔ یکا یک کچھ افراد آستینیں چڑھائے ریسپشن پر آن ٹپکے، ریسپشن پر تعینات اہلکار کے ہاتھ میں پریس ریلیز تھماتے ہوئے دھکمی آمیز لہجے میں کہنے لگے کہ ؛ ’’ساڈی خبر کل وی نئیں سی لگی، پرسوں مال روڈ تے مظاہرہ اے، کل خبر نہ لگی تے دس دینا اپنے مالکاں نوں کہ اسی ہون تواڈا بائیکاٹ کراں گے ۔۔ تے گل اگے وی ودھ سکدی اے۔۔‘‘ ابھی ان کا بھاشن ختم نہیں ہوا تھا کہ پیچھے سے باریش افراد کا ایک قافلہ درآمد ہوا، بعد از سلام دعا اہلکار سے وہ بھی مخاطب ہوئے؛ اس جمعہ ہمارا مرکزی اجتماع ہے، ایڈیٹر صاحب سے بات ہو گئی تھی وہ کہہ رہے تھے کہ پریس ریلز ریسپشن پر دیتے جائیں۔ پریس ریلیز پر اپنا وزٹنگ کارڈ نتھی کرتے ہوئے اس باریش قافلے کے امیر نے اہلکار کو عجب کمینی مسکراہٹ کیساتھ کہا؛ لیجیے! یاد سے اور بروقت پریس ریلیز ایدیٹر کی ٹیبل تک پہنچا دیجیے گا وگرنہ اچھرے میں آپ ہی کے گلی میں ہمارے کارکنان رہتے ہیں۔

ریسپشن پرلگا ائیر کنڈیشنر مسلسل سولہ ڈگری پر چل رہا تھا لیکن زیادہ افراد کی موجودگی سے قدرے گھٹن ہو رہی تھی اور وہ ماں ایک ہاتھ میں بل تھامے سیاسی اور مذہبی کارکنان کے بیچ ادھر ادھر سب سے چھوٹی بچی کو ڈھونڈ رہی تھی۔ ’’ہٹیں پیچھے میری بچی کہیں آپ کے قدموں میں نہ روندی جائے، ہٹیں پیچھے۔۔‘‘ یہ کہتے ہوئے وہ ہواس باختہ ہو رہی تھی اور ساتھ اپنی باقی تین بچیوں کو ڈانٹ رہی تھی کہ مہرو کا خیال کیوں نہ رکھا۔۔؟

اسی اثنا میں اپنی اپنی پریس ریلیز اہلکار کے ہاتھ تھمانے کے چکر میں دونوں گروہ آپس میں الجھ پڑے، حضرت مولانا مقامی سیاسی جماعت کے کارکنوں کو گرج دار لہجے میں ’’تینوں میں ویکھ لواں گا۔۔‘‘ کا واعظ سنا رہے تھے تو جواب میں سیاسی جماعت کے کارکن با ریش حضرات کے امیر کی شان میں لغو قصے بیان کر رہے تھے۔ اس دوران ریسپشن پر موجود ماں کے علاوہ کسی شخص کو پرواہ نہ تھی کہ اس چھوٹے سے کمرے میں آخر ننھی سی مہرو کہاں کھو گئی ہے۔ بد حال ماں مسلسل دہائیاں دیتی بِلک رہی تھی۔ مگر سیاست اور مذہب کے داعیان کے ہاں اسکور سیٹل کرنے کا مقابلہ چل رہا تھا ، ان کی بلا سے کہ کس کی مہرو کہاں کھو گئی ہے۔ کہیں امیر کی شان میں گستاخی پر منہ سے جھاگ نکل رہی تھی تو کہیں سیاسی جماعت کے کارکن اپنی ’’پہنچ‘‘ کے قصے بیان کرتے ہوئے آگ بگولہ ہو رہے تھے۔

پاس کھڑا ایک ملنگ جو روزانہ اسی ریسپشن سے شام کی چائے فری پینے آتا آگے بڑھا، نیچے جھکا تو اسے ٹاکی سے گانٹھی گئی چھوٹی سی قینچی چپل دکھائی دی۔ بھاری بھرکم پشاوری چپلیں پہنے تیسرے درجے کی سیاسی اور مذہبی قیادت کے قدموں کو پیچھے ہٹاتے ہوئے یہ ملنگ ریسپشن کے میز تک جا پہنچا۔ دو ہفتوں سے گھر کی بتی گل تھی، واحد پنکھا بھی بند تھا، گرمی دانوں سے بد حال ننھی کلی نہ جانے کب سے سیاسی اور مذہبی ہنگامے سے بے خبر قافلے کے امیر کے قدموں میں اونگھ رہی تھی۔ دایاں ہاتھ ریسپشن کے پائدان پر اور بایاں ہاتھ سر کے نیچے تکیے کے طور پر رکھے اسکا گلاب سا چہرہ فرش پر چسپاں تھا۔ اس کی پھٹی پرانی سرخ فراک بد ہواس چپلوں کی گرد سے مزید گرد آلود ہو چکی تھی ۔ ملنگ نے بے تاب ممتا کو آواز دی۔ ماں گالیاں دیتی میز کی جانب لپکی۔ ریسپشن پر یک لخت خامشی چھا گئی۔ جھنجھوڑتے ہوئے ، مہرو کو اٹھاتے وہ بولی، ’’ تجھے یہیں نیند آنی تھی کمبخت۔۔!‘‘
آنکھیں ملتے ملتے توتلی زبان میں مہرو فقط یہی کہہ پائی :
’’اماں! فرش بہت ٹھنڈا تھا، نیند آگئی۔۔!‘‘

A journalist associated with Dunya media group as Anchor/Special Correspondent. Host Program “Nuqta e Nazar”. Contributes for daily Dunya as columnist as well. He can be reached at Twitter:
@ajmaljami

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.