طبلِ جنگ بج چکا…

1,099

ان دنوں ملکی سیاست میں گرما گرمی عروج پر ہے، عرصہ دراز تک قرنطینہ میں رہنے والی اپوزیشن نے موقع ملتے ہی حکومت کے خلاف محاز کھول دیا۔ سال 2018 کے الیکشن جیتنے کے بعد تحریک انصاف کی جب حکومت بنی تو ماضی کی طرح اس وقت بھی شکست کی شکار تمام سیاسی جماعتوں نے دھاندلی کا شور مچایا لیکن کسی بھی قسم کی احتجاجی تحریک لانے میں ناکام رہے۔ اس وقت اپوزیشن کی تمام مختلف الخیال سیاسی جماعتیں ایک پیج پر نہ آ سکیں، پھر وہ چاہے الیکشن کے فوری بعد الیکشن کمیشن کے سامنے کیا جانے والا احتجاج ہو یا صدارتی الیکشن، اپوزیشن ایک نہ ہو سکی۔ چیرمین سینیٹ کے خلاف لاٸی جانے والی تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ میں بھی اپوزیشن کو منہ کی کھانا پڑی۔ مولانا فضل الرحمن کا دھرنا ہو یا انٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیے کا پرچار، اپوزیشن کا آرمی چیف کی مدتِ ملازمت میں توسیع پر تنازع، اور تو اور ان سب میں اہم بات کہ جب تحریک انصاف حکومت الیکشن میں کئے گٸے وعدوں پر عملدرآمد میں ناکام نظر آٸی تب بھی متحدہ اپوزیش عوامی ایشوز پر قابل ذکر کردار ادا کرنے سے قاصر نظر آئی۔

اپوزیشن کا مسٸلہ یہ رہا کہ وہ حقیقی معنوں میں متحد ہونے میں ناکام اب تک ناکام ہے کیونک یہ تمام مختلف الخیال لوگ ماضی میں ایک دوسرے کے ڈسے ہوئے ہیں، پاکستان مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی ایک دوسرے کے خلاف کرپشن کے مقدمات بناتے رہے ہیں اور ایک دوسرے کے خلاف کم و بیش ویسے ہی الزامات لگاتے آئے ہیں جیسا وہ اس وقت تحریک انصاف کیخلاف بیانیہ سامنے لا رہے ہیں، انہی وجوہات کی بنا پر یہ لوگ آج بھی ایک دوسرے کیلئے اعتماد کی وہ حقیقی فضا قائم کرنے سے قاصر ہیں جو اپوزیشن کی حکومت مخالف تحریک کیلئے اشد ضروری ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اپوزیشن ماضی میں حکومت کو ٹف ٹاٸم دینے میں مکمل طور پر ناکام نظر آٸی لیکن اب جب تحریک انصاف کی حکومت کو دو سال سے زیاد کا عرصہ گزر چکا تو اپوزیشن اپنے تمام تر سیاسی اختلافات کے باوجود نہ صرف ایک پلیٹ فارم پر متحد ہو گئی ہے بلکہ حکومت کیلٸے سیاسی مشکلات پیدا کرنے کیلئے پر تول رہی ہے۔ اپوزیشن نے ملک بھر میں احتجاجی تحریک کاآغاز کر دیا ہے اور اسی سلسلے میں جلسے، جلوسوں کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ یہ سب ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ایک طرف تو سینیٹ الیکشن قریب ہیں اور دوسری طرف گلگت بلتستان کا الیکشن اور ساتھ ہی بلدیاتی الیکشن کیلئے بھی حکومت و اپوزیشن کو عوامی حمایت درکار ہے۔ اپوزیشن معاملے سے بخوبی واقف ہے کہ اگر متعلقہ اسمبلیوں سے عددی برتری کی بدولت اگر حکومت سینیٹ الیکشن میں کامیابی حاصل کر لیتی ہے تو اپوزیشن کی سیاسی مشککات میں اضافہ ہو سکتا ہے اور اس بات کا امکان بھی موجود ہے۔

اپوزیشن یہ بھی جانتی ہے کہ پی ٹی آئی حکومت پانچ سال مکمل کر بھی لے تو عمران خان اپنی خراب پرفارمنس کی وجہ سے خود بخود ایکسپوز ہو جاٸیں گے اور آنے والے الیکشن میں عوام کا وہ اعتماد حاصل کر نے میں ناکام رہیں گے جو 2018 کے الیکشن میں انہیں حاصل رہا۔ لیکن اسکے باوجود بھی اپوزیشن عمران خان کی حکومت سے جان چھڑانے کیلیے ایک بار سارے کارڈز ضرور استمعال کرے گی اور وہ تقریباَ ایسا کر چکی ہے۔

اپوزیشن اب ایک طرف تو عوام کے سامنے اپنا مٶ قف رکھ رہی ہے اور ساتھ ہی ساتھ دوسری جانب قومی سلامتی کے اداروں کے خلاف محاز آراٸی کے راستے پر بھی گامزن ہے۔ عوام اپوزیشن کی اس محاز آراٸی پر مبنی بیا نیے کی حمایت نہیں کر پاٸیں گے کیونکہ وہ ا ن اداروں پر اعتماد کرتے ہیں اور ہر پاکستان کے دل میں قوم سلامتی کے اداروں کیلیے نرم گوشہ موجود ہے۔ اپوزیشن اداروں کے خلاف محازآرائی کر کے اپنی پوزیشن مزید کمزور کر رہی ہے اور اس چیز کا فاٸدہ پاکستان تحریک انصاف کو ہو سکتا ہے لیکن اگر اپوزیشن اپنی توجہ صرف عوامی ایشوز جیسا کہ مہنگائی، بے روزگاری، آٹا اور چینی پر مرکوز رکھے تو بھر پور عوامی تاٸید حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکتی ہے جو تحریک انصاف کیلیے ایک بہت بڑا چیلنج ہو گا۔ اب دیکھتے ہیں کہ مستقبل قریب میں ملکی سیاست میں کونسی تبدیلیاں آتی ہیں، تاہم اللہ تعالٰی سے دُعا ہے کہ جو بھی ہو وہ مملکت پاکستان کے حق میں بہتر ہو، آمین۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

محمد کامران پاکستانی سیاسی نظام میں مثبت تبدیلی چاہتے ہیں جس کیلئے قلم آزمائی کا شعار اپنایا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.