کیا گوری رنگت پر بحث جائز ہے؟

975

گوری رنگت اور انگریزی، یہ ہمارے معاشرے کے دو پسندیدہ خصائص مانے جاتے ہیں، بندہ گورا بھی ہو اور پھر فر فر انگریزی بھی بولے واہ واہ تو کرنا بنتا ہی ہے۔

یہ ہمارے معاشرے کی اجتماعی سوچ ضرور ہے تاہم یہ سچ ہرگز نہیں۔ بے شک اکثریت انہی دونوں خصوصیات کی بنا پر انسانوں کو پرکھتی ہے لیکن اس کو ایک سائیڈ پر رکھ کر اگر دیکھا جائے تواکثریت کی غلط بات کو محض اس لئے ماننا ضروری نہیں ہوتا کہ بہت سے لوگ ایسا کہہ رہے یا کر رہے ہیں۔

کسی بھی سچ کو پرکھنے کی واضح دلیل یہی ہے کہ اگر اقلیت بھی درست بات کرے اور اسکی بات میں وزن اور منطق ہو تو اسے بلا چوں و چراں مان لیا جائے۔ لیکن یہ کہاں کی عقل مندی ہےکہ آٹے کی پرات میں چہرہ لت پت کر کے آمنہ الیاس کی طرح منہ سفید کر کے ہی گوری رنگت والی کریموں اور اس سے متعلق اشتہارات کرنے والوں پر طنز کیا جائے؟

دراصل ہمارا مسئلہ کسی کو بھی شخصی آزادی نہ دینا ہے، اب اگر کوئی ماڈل یا اشتہار بنانے والی کمپیناں اپنے رزق و روزی کے لئے ایسے تشہیری پروگرام چلاتی ہیں تو آپ کے پاس صاف اور سیدھی چوائس یہی ہے کہ فوری طور پر چینل تبدیل کر لیں، نہ ہی ایسے اشتہار دیکھیں اور نہ ہی انھیں پروموٹ کرنے کا باعث بنیں اور نہ ہی ایسے اشتہاروں میں کام کریں۔ بلکہ آپ جیسے بھی ہیں خود پر نہ تو ترس کھائیں اور نہ ہی کبھی احساس برتری کا شکار ہوں، ہمیشہ اللہ تعالی کے شکر گذار ہوں کہ اس نے آپ کو بہترین انداز میں پیدا کیا۔

بہت سے لوگوں کو میں نے دیکھا کہ ان کی واجبی سی شکل و صورت ہے لیکن لوگ ان کے دیوانے ہیں جس کی بنیادی وجہ ان کا اچھا اخلاق اور ان کے پیشے میں ان کی مہارت کا ہونا ہے۔ اس لئے کہ شکل و صورت کی اہمیت ایک حد تک ہے۔ اگر کوئی بہت خوبصورت انسان ہو لیکن بات کرتے ہوئے کسی تہذیب کا خیال نہ رکھے تو اسکی خوبصورتی بجائے خوش کرنے کے تکلیف میں مبتلا کر دیتی ہے اور انسان اس کوفت سے فورا نجات حاصل کرنا چاہتا ہے۔

سچی بات تو یہ ہے کہ ایک تو انسان کسی حال میں خوش نہیں، کسی کو کالا ہونے کا قلق ہے تو کوئی گورا ہو کر پریشان ہے۔ کوئی موٹا ہے تو لوگ کہتے ہیں کہ بھئی آُپ کون سی چکی کا آٹا کھاتے ہیں جو اتنے صحت مند ہیں اور کوئی پتلا ہو تو یہ سنتا ہے کہ لگتا ہے کہ کچھ کھانے کو نہیں ملتا یار تم تو بالکل تنکے ہو۔ گوری لڑکیاں تو یہاں تک شکایت کرتے ہوئے ملتی ہیں کہ جو بھی کوئی رشتہ دیکھنے آتا ہے تو یہی کہتا ہے کہ یہ لڑکی تو پھیکے شلجم جیسی ہے، اسلئے ہمیں رشتہ منظور نہیں۔

اس لئے اپنی رنگت کو لے کر نہ تو پریشان ہوں نہ ہی کسی کی کامیابی سے خائف ہو کر الٹی سیدھی ویڈیو بنائیں۔ ایسی ویڈیو وائرل بھی ہو جائے گی اور اس پر لائکس بھی آجائیں گے لیکن لوگوں کے ذہن میں آپ کی ایک غلط شبیہ بن جائے گی جو اتنی آسانی سے نہیں مٹے گی۔

یاد رکھیں کہ اکثر لوگوں کو تنقید کرنے کی عادت ہوتی ہے کیونکہ وہ اپنی کامیابی آپ کی ناکامیوں میں ڈھونڈتے ہیں۔ اچھا ماڈل یا کوئی بھی اچھی شخصیت بننے کے لئے یہ کہیں نہیں لکھا ہوا کہ آپ اپنی تعریف کرنے کے لئے دوسروں کی بدتعریفی کریں۔ کیونکہ ایسا طرزعمل یہی ظاہر کرتا ہے کہ آپ میں کوئی صلاحیت نہیں اور آُپ اپنے مقابل ہم پیشہ افراد سے خائف ہیں۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

راضیہ پیشے کے اعتبار سے صحافی ہیں، گذشتہ 16 سال سے مختلف اخبارات اور ٹی وی چینلز سے بطور محقق، رپورٹر اور پروڈیوسر منسلک ہیں اور ملکی و غیر ملکی پلیٹ فارمز پر قلم کاری بھی کرتی ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.