اپوزیشن اور بغاوت کے مقدمات….

1,296

وطن عزیز میں اپوزیشن پر بغاوت کے مقدمے کروانا کوئی نئی بات نہیں ہے، جب سے پاکستان بنا ہے یہ کھیل جاری ہے۔ بغاوت کے ٹُوُل کو ہر حکومت نے انتقامی ایجنڈے کے طور پر استعمال کیا ہے حالانکہ بغاوت کا لفظ ملک دشمنی کے زمرے میں آتا ہے لیکن ہمارے حکمران اس کا غلط استعمال کرتے ہیں۔ ذاتی رنجش پر ماضی میں بھی بے شمار لوگوں پر غداری کے مقدمے بنے۔ 60کی دہائی میں محترمہ فاطمہ جناح پر اس وقت کی حکومت نے غداری کے مقدمے کرائے، پھر 70 کی دہائی میں شیخ مجیب الرحمان جو مشرقی پاکستان میں عوامی مسلم لیگ کے سربراہ تھے، ان پر غداری کے مقدمے بنے۔

پاکستان میں غداری کے مقدموں کا ماضی بہت بھیانک ہے، ان مقدمات کا اندراج بھی اتنا آسان نہیں ہوتا بلکہ اس کو وفاقی یا صوبائی حکومت یا قانون نافذ کرنے والے ادارے کا کوئی اہلکار ہی کرا سکتا ہے، عام آدمی کے لیے ایسے مقدمے کا اندراج کرانا آسان نہیں۔

موجودہ حکومت نے بھی سابق حکمرانوں کی طرح بغاوت کے مقدموں کو ہی اپنے سیاسی انتقام کا ذریعہ بنایا ہے۔ آپ نوازشریف سے ہزار اختلاف کر سکتے ہیں، پر اس کو غدار نہیں کہہ سکتے۔ نواز شریف پاکستان میں اپوزیشن کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے لیڈر ہیں، تین دفعہ ملک کے وزیراعظم رہ چکے ہیں۔ پنجاب میں ابھی بھی ان کا کافی ووٹ بینک موجود ہے۔ وفاق میں بھی ن لیگ کا اپوزیشن لیڈر ہے۔

اسی طرح پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں بھی ن لیگ کا ہی اپوزیشن لیڈر ہے۔ آپ کس طرح ایک بڑی سیاسی جماعت کے لیڈر کا استحصال کر سکتے ہیں۔ جب آپ ایک بڑی جماعت کے لیڈر کو غدار کہیں گے تو ن لیگ پنجاب میں خاموش نہیں بیٹھے گی۔ ن لیگ پنجاب میں پنجابی کارڈ کا استعمال کرے گی جس طرح ن لیگ کے نمائندوں نے پگیں پہنی ہیں یہ ایک نئےفساد کو جنم دیا جا رہا ہے۔ اس سے ملک میں انارکی پھیلنے کاخطرہ ہے، اس وقت پاکستان جن معاشی بحرانوں میں گھرا ہوا ہے اس وقت ملک کسی نئے سیاسی ایڈونچر کا متحمل نہیں ہوسکتا۔

حال ہی میں لاہور میں ایک عام سائل نے شاہدرہ کے تھانے جا کر 40 سے زائد ن لیگ کے قائدین کے خلاف غداری کے مقدمے کی ایف آئی آر درج کروائی ہے، اس ایف آئی آر میں آزاد کشمیر کے وزیراعظم کا نام بھی شامل تھا۔ جب یہ ایف آئی آر میڈیا پر آئی تو ہر چینل نے اس کو چلانا شروع کردیا اور یوں اس دن پاکستان کی یہ سب سے بڑی خبر بن گئی۔ اس کے بعد فواد چوہدری نے ٹویٹ کیا کہ اس ایف آئی آر کا حکومت سے کوئی تعلق نہیں ہے، ایک عام آدمی نے کرائی ہے۔ جب وزیراعظم کو اس ایف آئی آر کا معلوم ہوا تو وہ بہت ناراض ہوئے۔
پھر بعد میں یہ پتہ چلا کہ ایف آئی آر جس آدمی نے کرائی وہ تحریک انصاف کا متحرک کارکن ہے، اس کا نام بدر رشید خان ہیرا ہے جو کافی سیاسی اثرو رسوخ رکھتا ہے۔ اس کی تحریک انصاف کے بڑے بڑے لیڈروں کے ساتھ تصویریں ہیں۔

جس طرح ہمارے وزیراعظم خود کو کشمیریوں کا سفیر کہتے ہیں، جب آزاد کشمیر کے وزیراعظم پر غداری کا مقدمہ ہوتا ہے اس سے موجودہ حکومت پر اپوزیشن کی طرف سے کئی سوالات کھڑے ہوتے ہیں۔ اپوزیشن کہتی ہے کہ آپ نے آزاد کشمیر کے وزیراعظم پر غداری کا مقدمہ کرا کے دنیا میں ہماری جگ ہنسائی کرائی ہے جس طرح بھارت میں مودی کی حکومت مقبوضہ کشمیر کے لیڈروں پر غداری کے مقدمے کرتی ہے، آپ نے آزاد کشمیر کے وزیراعظم پر غداری کا مقدمہ کر کے کشمیر کاز کو نقصان پہنچایا ہے۔

مقام حیرانی ہے کہ ایک عام آدمی جب ایف آئی آر درج کروانے تھانے جاتا ہے تو اس کو کتنی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جبکہ غداری کے مقدمے میں اتنی آسانی کے ساتھ ایف آئی آر کیسے کٹ گئی؟ نہ اس میں صوبائی حکومت ذمہ داری لینے کو تیار ہے اور نہ ہی وفاق۔ وزیراعظم عمران خان اگر سابق حکمرانوں کی ڈگر پر چلتے ہیں تو اپوزیشن کو دبانا، غدار کہنا ہی ان کا مقصود ہے تو پھر اس ملک کا اللہ حافظ ہے۔ جمہوری حکومتیں، اپوزیشن کو بھی حکومت کا ہی حصہ سمجھتی ہیں۔ جمہوریت کا حسن ہی اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلنا ہوتا ہے لیکن پاکستان میں حکومت اور اپوزیشن کا رول صرف ایک دوسرے کی تذلیل اور ایک دوسرے کو نیچے دکھانا ہوتا ہے۔ دوسری جانب اپوزیشن کا کردار بھی یہیں تک محدود رہتا ہے کہ حکومت کو کام نہیں کرنے دینا۔ حالانکہ بیرون ممالک میں اپوزیشن کی سوچ مثبت ہوتی ہے، اپوزیشن شیڈو گورنمنٹ کا کام کرتی ہے۔ حکومت کی غلط پالیسوں کی نشاندہی کرتی اور ملک دوست قانون سازی میں حکومت کی معاونت کرتی ہے۔ ملک کی ترقی میں حکومت کے ساتھ ساتھ اپوزیشن کا ایک جاندار کردار ہوتا ہے لیکن ہمارے ہاں اپوزیشن کا کام روڑے اٹکانا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ حکومت اپوزیشن کوآڑے ہاتھوں لینے پر مجبور ہو جاتی ہے۔ ہر حکومت اپوزیشن کے خلاف انتقامی کاروائیاں کرتی ہے اور بعض اوقات اپوزیشن پر غداری کے مقدمے بھی ہوتے ہیں جو کہ ملک کے لیے نیک شگون نہیں۔

وزیرعظم عمران خان نے حال ہی میں انصاف لائرز فورم میں خطاب کے دوران اپوزیشن کو ایک دفعہ پھر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اپوزیشن کرپشن بچانے کے لیے سڑکوں پر نکل رہی ہے، پی ڈی ایم مجھے ڈرانے کے لیے بنائی گئی ہے، اپوزیشن کا مقصد صرف این آر او لینا ہے۔ اگر میری حکومت نے ان کو این آر او دے دیا تو یہ عمل ملک کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہو گا۔ ملک میں قانون کی بالادستی ختم ہوجائے گی، ہر طرف انارکی پھیل جائے گی۔ عمران خان نے کہا کہ یہ جو نواز شریف صاحب باہر بیٹھ کر اداروں پر الزام لگا رہے ہیں، در حقیقت بھارت کو فائدہ دے رہے اور بھارت کی زبان استعمال کر رہے ہیں۔

حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے سے نفرت میں اتنے آگے جاچکے ہیں اب واپسی کا کوئی راستہ نہیں نظر آتا۔ اپوزیشن حکومت کو نہیں مانتی، اپوزیشن کے نزدیک حکومت ناجائز اور دھاندلی کی پیداوار ہے اور ردعمل میں حکومت، اپوزیشن کو نہیں مانتی۔ حکومت کے اپوزیشن کے حوالے جو نظریات ہیں وہ چور ڈاکو لٹیرے مافیاز یہ سب حکومت کے نزدیک اپوزیشن کی خوبیاں ہیں۔ اپوزیشن اور حکومت اب ایک بند گلی میں داخل ہو گئے ہیں جہاں ظاہری طور پر تو واپسی کا راستہ سجھائی نہیں دیتا مگر جمہوریت میں بہرحال واپسی کا راستہ ہوتا ہے۔ جمہوریت میں مفاہمت ایک اہم جزو ہے، حکومت اور اپوزیشن کو ایک دوسرے کو تسلیم کرنا ہوگا تب ہی یہ نظام آگے چل سکتا ہے۔ ورنہ ماضی میں جو اس ملک کے ساتھ ہوتا رہا ہے پھر وہی ہو گا۔ جب جمہوری لوگ ایک دوسرے کو برداشت نہیں کرتے تو پھر تیسری قوت کوموقع ملتا ہے۔ اس سے پہلے یہ قوت آئے، حکومت اور اپوزیشن کو مل کر ملک کے لیے سوچنا ہوگا۔ یہ جو حکومت غداری کے سرٹیفکیٹ تقسیم کر رہی ہے اس سے حکومت کو نقصان ہی ہوگا۔ جب آپ ملک کی بڑی پارٹیوں کے سربراہان کو غدار کہیں گے، اس سے اختلافات مزید بڑھیں گے۔ ملک اس وقت جن مسائل کا شکار ہے، ایسے میں اس طرح کے الزامات ملک کے لیے کینسر کا باعث بنیں گے۔ پاکستان پائندہ باد

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

1 تبصرہ

  1. sajjad کہتے ہیں

    bilkul sahi kaha ap ne

تبصرے بند ہیں.