واقعہ کربلا، سانحہ یا انقلاب؟

1,867

سانحہ کربلا تاریخ اسلام کا ایک ایسا باب ہے کہ جس کے بغیر ہماری اسلامی تاریخ ادھوری ہے اوراگر اسے اسلامی تاریخ کی روح کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ اس موضوع پر تحریری اور تقریری صورت میں بیش بہا مواد موجود ہے جس میں بیان کرنے والوں کا اپنا اپنا نظریہ ہے (بشرطیکہ تاریخ کو تروڑ مروڑ کر پیش نہ کیا جائے)، اگر ہم غیر جانبداری سے اس واقعے کا تجزیہ کریں تو سانحہ کربلا کے پیچھے کئی ایک عوامل ہیں جو امام عالی مقام حسینؓ کی شہادت کا باعث بنے۔ معتبر تاریخی ذرائع سے ثابت ہے کہ جب یزید کو امت مسلمہ پر حکمرانی کے لئے نامزد کیا گیا تو اس وقت امام حسینؓ کے علاوہ دیگر تین جید صحابہ کرامؓ، عبداللہ بن زبیر، عبد اللہ بن عمر اور عبدالرحمن بن ابی بکر نے بھی اس نامزدگی کی مخالفت کی کیونکہ ایک فاسق و فاجر، زانی و شرابی کی بطور خلیفہ برحق اطاعت، اسلام کے خلاف تھی۔

امام عالی مقام حسینؓ کے یزید کی اطاعت اور بیعت سے انکار کے پیچھے مطمع نظر صرف ا ور صرف ایک ہی مقصد تھا، اطاعت خداوندی، قرآن وکعبہ کا تحفظ اور مشیت الہی کے سامنے سر تسلیم خم کرنا۔ آپؓ کے کربلا کی طرف عازم سفر ہونے کا واحد مقصد چونکہ حرمت کعبہ اور دین الہی کا تحفظ تھا اور اسی کی خاطر امام عالی مقامؓ نے میدان کربلا میں دین اسلام کی سر بلندی کی خاطر اپنے جاںنثار ساتھیوں کے ہمراہ جو اثرات اور نقوش چھوڑے ہیں وہ رہتی دنیا تک اپنی مثال آپ ہیں۔

میدان کربلا میں بقائے اسلام کی جنگ لڑتے ہوئے تین دن کے پیاسے جانثاران حسینؓ جس شجاعت، دلیری اور بے جگری سے لڑے، اس کا نظارہ چشم فلک نے نہ کبھی دیکھا اورنہ ہی آئندہ دیکھے گی، چھ ماہ کے شہزادہ علی اصغرؓ سے لے کر سن رسیدہ حبیب ابن مظاہرؓ اور جناب حسینؓ کی شہادت تک۔ اگر آپؓ چاہتے تو حاکم وقت یزید کی بیعت کر کے اپنی اور اپنے ساتھیوں کی جان بچا سکتے تھے مگر آپؓ نے اس کی بجائے دین الہی کے تحفظ کو فوقیت دی اور اپنے دین اور اصولی مؤقف پر ڈٹ گئے اور جام شہادت نوش کیا۔

معرکہ کربلا دراصل حق و باطل پر مبنی دو مختلف الخیال طاقتوں کے درمیان معرکہ آرائی کا نام ہے۔ ایک طرف اللہ، رسولﷺ اور کتاب اللہ کی تعلیمات پرصدق دل سے یقین رکھنے، عمل پیرا ہونے اور اس کی تبلیغ کرنے والی جماعت یہاں تک کہ مشیت الہی کی خاطر اپنی جانوں تک کا نذرانہ پیش کرنے والے اور دوسری طرف دنیاوی تخت وتاج ، مال و زر اور دین اسلام کو اپنی مرضی ومنشا ء کے مطابق ڈھالنے والا گروہ تھا۔

یہ تو تھا ایک اجمالی سا جائزہ تا کہ قارئین کو سانحہ کربلا کا پس منظر واضح ہو جائے۔ اہل بیت اطہارؓ کے اسوہ حسنہ، سیرت و کردار پر نظر ڈالیں تو خاتم رسولؐ سے لیکر امام زین العابدینؓ و مابعد خانوادہ رسولؐ کا ہر فرد، خواہ وہ میدان طائف ہو یا خیبر، بدر و احد ہو یا خندق، خلافت ہو یا اطاعت، شب عاشور خیمے جلائے جائیں یا پاک بیبیوں کی چادریں چھینی جائیں، کوفہ و شام کے بازاروں میں پھرایا جائے یا درباروں میں لایا جائے، ننھی سکینہؓ کے چہرہ اقدس پر طمانچے ہوں یا قیدوبند کی صعوبتیں، خانوادہ رسول ﷺ کا ہر شخص قناعت و سخاوت، جرات و شجاعت، فصاحت و بلاغت اور صبر واستقامت کا پیکر نظر آتا ہے۔ حضرت علیؓ نے اپنا حق سمجھنے، طاقت رکھنے اور اپنی تمام تر جرات و شجاعت کے باوجود مشیت الہی کے تحت میراث محمدؐ، قرآن اور امت کے تحفظ کی خاطر امن و امان کو مقدم رکھا حالانکہ نہ تو آپؓ کمزور تھے اور نہ ہی مجبور، آپؓ کا ہر عمل، تلوار کا نیام میں جانا اور نیام سے نکلنا سب رضائے الہی کے تحت تھا، خاتم الرسل محمدﷺ اور ان کی آلؓ میں سے کسی نے بھی اپنے ساتھ ہونے والے ظلم و زیادتی پر اپنے دشمنوں کے بارے غیر اخلاقی و نازیبا گفتگو کی ، نہ ہی لعنت و ملامت اور نہ ہی بددعا دی، کیونکہ ایسا کرنا ان کے مقام ومرتبہ اور شان کے خلاف تھا، بلکہ اپنے معاملات سپرد الہی کئے اور ان کے لئے ہدایت طلب کی۔

جناب حسینؑ کی ذات گرامی کسی ایک خاص مکتبہ فکر یا مذہب کی نمائندہ نہیں بلکہ باطل اور طاغوتی طاقتوں کے خلاف تمام انسانیت، حق خود ارادیت اورحق بات کی نمائندہ ہے۔ یہ علماء اور مذہبی رہنماؤں کی ذمہ داری ہے کہ اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے ملت کے اجتماعی شعور کی تربیت کریں، ان میں خود آگاہی اور ذمہ داری کا احساس پیدا کریں اور ان کی جدوجہد کے لئے صحیح سمت متعین کریں تا کہ ایک معتدل مزاج، امن پسندی اور رواداری پر مبنی صحیح اسلامی معاشرہ ابھرکر سامنے آ سکے۔

جو لوگ تفرقہ بازی اور فرقہ پرستی کو ابھارتے ہیں انہیں کتاب اللہ جگہ جگہ عذاب الہی کے بارے انتباہ کر رہی ہے کہ’’ نہ تو تم پر آسمان سے کوئی نا گہانی آفت نازل ہو گی اور نہ ہی تمہارے نیچے سے زمین کھینچی جائے گی مگر ہاں تمہیں گروہ در گروہ (فرقہ واریت) تقسیم کر کے آپس میں لڑا دیا جائے گا۔‘‘ سورہ انعام۔

ہمارا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم نے پیغامِ اہل بیت اطہارؓ کو اس کی روح کے مطابق سمجھا ہی نہیں، بس زبانی نعروں، دعووں اور مسلکی برتری تک ہی رہے اور اسے ہی آخرت میں اپنی نجات کا ذریعہ خیال کیا، حالانکہ روح کے مطابق تبھی سمجھا جا سکتا ہے جب ان مقدس ہستیوں کی معرفت حاصل کرنے کی حقیقی سعی کریں گے، محدود اور سطحی سوچ سے باہر نکل کر اپنے روح اور ایمان کی تمام گہرائیوں اور توانائیوں کے ساتھ ان سے عقیدت رکھیں گے اور ان کی سیرت کو اپنا عملی نمونہ بنا کر اپنی زندگیاں گزارنے کی جدوجہد کریں گے۔

سانحہ کربلا، ملت اسلامی کا بلا تفریق و امتیاز مشترکہ ورثہ بھی ہے اور وقت کا تقاضاء بھی۔ یہی واحد ورثہ ہے جس پر متحد ہو کر ہم ملک اور مذہب دشمن عناصر کو شکست دے سکتے ہیں، اب یہ انتخاب ہم نے کرنا ہے کہ آیا واقعہ کربلا پر فرقہ پرستی اور تفرقہ بازی میں پڑ کر دشمنوں کے ہاتھوں کھیلنا اور انہیں مضبوط کرنا ہے یا اسے ایک انقلاب کا راستہ بنا کر ملک ومذہب کو مضبوط کرنا ہے۔
بقول علامہ اقبال:س
قافلہء حجاز میں ایک حسینؑ بھی نہیں
گرچہ ہے تاب دارابھی گیسوئے دجلہ وفرات

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

فرخ نذیر سوشل ایشوز پر لکھنا پسند کرتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

3 تبصرے

  1. راضیہ سید کہتے ہیں

    بہت خوبصورت بھائی حق ادا کر دیا آپ نے ماشا اللہ ۔۔۔اللہ سلامت رکھیں آمین

  2. hassan Matloob کہتے ہیں

    Bht he khubsorat tehreer khuda apky Qalam main mazeed taqat day ky haq or such ko aesay he likhty rahain.

  3. Fatima کہتے ہیں

    Very well written MashaAllah

تبصرے بند ہیں.