استاد بنئے تھانیدار نہیں…

1,212

پوری کلاس سہمی کھڑی تھی، ایسا نہیں تھا کہ کسی کو کچھ آتا نہیں تھا یا کسی میں کچھ سیکھنے کی لگن نہیں تھی۔ بات محض اتنی سی تھی کہ ریاضی کی استانی میڈم ارسلا سے سب ایسے ہی خوفزدہ رہتے تھے۔ کیونکہ کبھی وہ کان کھینچنے لگتیں تو کبھی معمولی سا سوال حل نہ کرنے پر بچیوں کو مار مار کے ادھ موا کر دیتی تھیں۔ وہ نہ صرف ہاتھوں کا بے دریغ استعمال کرتیں بلکہ مولا بخش بھی ان کی مدد کے لئے موجود رہتا۔ اس وقت بھی یہی صورتحال درپیش تھی، شدید ڈر اور خوف کی فضا نے کلاس کی سب بچیوں کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔

اس وقت ایک لڑکی صدف مفرد تجزی کے سوال کو درست حل نہ کرنے پر مار کھا رہی تھی اور اب تک میڈم ارسلا اسے ۵۰ کے قریب اسٹک مار چکی تھیں پھر بھی ان کا غصہ ٹھنڈا نہیں ہو رہا تھا۔ میڈم ارسلا کی مددگار جونئیر استانی بار بار کہہ رہی تھیں کہ خدارا مس ارسلا، اس بچی پر رحم کریں لیکن قوم کی معمار کے منہ سے نہ صرف مغلظات جاری تھے بلکہ بچی پر اتنا تشدد کیا جا رہا تھا کہ وہ نڈھال ہو کر اپنے آپ کو بچانے کی ناکام کوشش میں چیخوں پر چیخیں مار رہی تھی، کلاس میں دہشت کا ماحول طاری تھا اور دیگر بچیاں تھر تھر کانپ رہی تھیں۔

عقوبت خانہ نما یہ منظر صرف ایک دن کی بات نہیں، بلکہ یہ روز کا معمول تھا۔ میڈم ارسلا انگریزی اور ریاضی دونوں مضامین کی استاد تھیں۔ بلکہ شاید انھیں استاد کی بجائے تھانیدار کہنا زیادہ مناسب ہو گا۔ سب ہی کلاس میں ان سے ڈر کر رہتے تھے۔ ان کے دل میں نہ تو رحم تھا اور نہ ہی خدا خوفی۔ وہ اپنی سیٹ پر بھی بیٹھتیں تو نشانہ ان کی زد میں ہوتا۔ کسی بچی کی شرارت پر اسکے قریب آ کر کان مروڑے بغیر تو ان کو شائد سانس ہی نہیں آتی تھی، ورنہ سیٹ پر بیٹھے بیٹھے ہی لکڑی کی موٹی سی اسٹک ایسی پھینکتیں کہ بچیوں کو اپنا سر پھٹتا محسوس ہوتا۔

حالانکہ انگریزی اور ریاضی، یہ دونوں مضامین ایسے ہیں جن کے بہتر انداز سے پڑھانے پر ہی طالبعلموں کے بہترین تعلیمی کرئیر کا انحصار ہوتا ھے۔ لیکن میڈم ارسلا کے ظالمانہ اور بے رحم طریقہ تدریس نے طالب علموں کا ان دونوں مضامین سے دل اچاٹ کر دیا تھا نتیجہ یہی تھا کہ سکول کے رزلٹ پر اس کا انتہائی منفی اثر پڑ رہا تھا۔

میں یہ بات 1980 کی دہائی کی کر رہی ہوں جب میں خود اسی کلاس کی طالبہ تھی اور یہ سب میرے ساتھ بھی ہوا تھا۔ مجھے آج تک ریاضی سے کبھی محبت نہیں رہی، کوئی لگائو نہیں رہا، ایسا نہیں تھا کہ میں کند ذہن تھی لیکن صرف ریاضی میں میری کمزوری کی وجہ میڈم ارسلا کا رویہ تھا۔ انھیں سکول سے کیوں نکالا نہیں جا سکتا تھا کہ وہ پرنسپل کی بہن تھیں اور غلطی سے انھیں پرائمری کلاس کے میتھ پر عبور حاصل تھا جس کا خمیازہ معصوم بچیوں کو بھگتنا پڑتا تھا۔ آج بھی جب میں کبھی اپنے سکول جاتی ہوں تو مجھے بہت خوشی ہوتی ہے کہ میڈم ارسلا اب وہاں نہیں ہیں کیونکہ ان کی وفات ہو چکی ہے۔

یہ ساری کہانی سنانے کا مقصد استاد کی تذلیل نہیں صرف حقائق سامنے لانا ہے اور بچوں پر ظلم کرنے والے اساتذہ کو یہ بتانا ہے کہ بچے ان کی کبھی بھی دل سے عزت نہیں کرتے، جو مار پیٹ کو تعلیم کا لازمی جزو خیال کرتے ہیں۔ درحقیقت وہ اپنی اہمیت طالب علموں کی نظر میں کھو دیتے ہیں۔ دوسری طرف اگر نفسیاتی اعتبار سے دیکھا جائے تو بچوں پر جب تشدد کیا جاتا ہے تو یہ بات ان کے ذہن پر نقش ہو جاتی ہے اور زندگی بھر انھیں اس استاد اور اس مضمون سے نفرت ہو جاتی ہے۔

یہ امر غور طلب ہے کہ بچوں پر تشدد کرنے والے استاد دراصل اپنے شعبے سے مخلص اساتذہ کا نام بھی خراب کر رہے ہیں۔ کیا ان نام نہاد معلموں کا یہی کام رہ گیا ہے کہ وہ اپنے نفسیاتی عوارض کا مداوا، طالب علموں پر ناجائز سختی کرکے کریں، کیونکہ ایک ذی شعور انسان، معصوم بچوں کو بے دریغ جسمانی تشدد کا نشانہ  بنا ہی نہیں سکتا، بچے تو پھول ہوتے ہیں، پھول کے ساتھ سختی کا کیا کام، یہ صورتحال کہ بچوں پر تشدد ہو رہا ہو اور تشدد کرنے والا (نام نہاد استاد) بچوں کے رونے پر خوش ہو رہا ہو۔ ایسے حالات تو یا عقوبت خانوں میں‌ ہوتے ہیں‌یا تھانوں میں‌، جہاں‌ سزائے موت یا ڈکیتی جیسے سنگین جرائم کے ملزمان سے تھانے دار جرم قبول کروانے کیلئے ایسے ہتھکنڈے آزمائے جاتے ہیں۔

دوسری جانب ہمارے دین میں بھی استاد کا رتبہ بہت بلند ہے جبکہ ہمارے نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ والہ وسلم بھی معلم بنا کر بھیجے گئے اور جس احسن طریقے سے انھوں نے دین کی تبلیغ کی اور غیروں کو بھی اپنا بنایا وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ تو آج کل ہمارے شعبہ تعلیم میں ویسا مشفقانہ رویہ کیوں نہیں اپنایا جاتا۔ علم تقسیم کرنا ایسا فریضہ ہے جسے ہر کوئی ادا نہیں کر سکتا۔ اگر آپ اپنے پیشے کے ساتھ وفادار نہیں تو تدریس ترک کر دیں اور کوئی اور کام شروع کریں۔ خدارا تعلیمی اداروں میں استاد، استاد ہی رہیں، جرائم قبول کروانے والے تھانے دار نہ بنیں۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

راضیہ پیشے کے اعتبار سے صحافی ہیں، گذشتہ 16 سال سے مختلف اخبارات اور ٹی وی چینلز سے بطور محقق، رپورٹر اور پروڈیوسر منسلک ہیں اور ملکی و غیر ملکی پلیٹ فارمز پر قلم کاری بھی کرتی ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.