تباہی کا راستہ مت اختیار کریں..

1,050

رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا “تم سے پہلی قومیں اس لئے برباد ہوئیں کہ جب اُن کا کوئی بااثر شخص یا امیر و کبیر جرم کرتا تو اُسے چھوڑ دیا جاتا اور جب کوئی معمولی سا آدمی جرم کرتا تو اُسے سزا دی جاتی”۔بخاری، رقم 4304

قبیلہ مخزوم کی فاطمہ بنت الاسود نے جب چوری کا ارتکاب کیا تو اس وقت چور کی سزا ہاتھ کاٹنا مقرر تھی، قریش کو یہ تشویش لاحق ہوئی کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے کون کہے کہ اس عورت سے نرمی برتی جائے۔ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے نسبت کی بناء پر اسامہ بن زیدؓ کو اس مقصد کے لیے تیار کر کے مخذومی عورت کو حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے سامنے پیش کر دیا گیا مگر اسامہؓ نے جب اس کی سفارش کی تو آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا چہرہ مبارک غصے سے سرخ ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تم اللہ کی مقرر کردہ سزا میں سفارش کر رہے ہو؟ اسامہ نے معذرت کر لی۔ اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے کھڑے ہو کر اللہ کی حمد و ثناء کے بعد لوگوں سے جو خطاب فرمایا، اس کا مفہوم کچھ یوں ہے۔ ‘اے لوگو! تم سے پہلی قومیں اس لئے تباہ ہوئیں کہ جب کوئی بڑا آدمی جرم کرتا تو اسے چھوڑ دیا جاتا اور جب کوئی معمولی شخص اسی جرم کا ارتکاب کرتا تو اسے سزا دے دی جاتی۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، اگر فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم بھی چوری کرتیں تو میں ان کے بھی ہاتھ کاٹنے کا حکم دیتا’۔

حضرت عمر فاروقؓ کے دور خلافت میں ایک عام آدمی اُن سے خطبے کے دوران ان کے کُرتے کے بارے میں سوال کرتا ہے اور وہ خندہ پیشانی سے جواب دیتے ہوئے اس کی وضاحت پیش کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے۔ عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اونٹ خریدا، کچھ عرصہ بعد وہ لاغر و کمزور اونٹ فربہ ہو گیا، جناب عمر رضی اللہ عنہ نے بیٹے کی سرزنش کی اور کہا لوگ کہیں گے خلیفہ وقت کے بیٹے کا اونٹ ہے اس لئے فربہ ہے۔ فورا حکم دیا کہ اونٹ بیت المال میں جمع کروایا جائے۔

حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ جب کسی کو کسی صوبے یا شہر کا والی مقرر کرتے تھے تو پہلے اس کی جائیداد اور مال کا حساب لے لیتے تھے اور جب وہ اپنے منصب سے الگ ہوتے یا ان کے متعلق دوران تقرر اگر ان کو یہ علم ہو جاتا کہ ان کے پاس غیر معمولی دولت جمع ہوگئی ہے تو وہ اس کا محاسبہ کرتے اور زائد دولت بیت المال میں جمع کروا دیتے۔ ان کے دور میں گورنروں کو قانون کی خلاف ورزی کی پاداش میں سزا بھگتنا پڑی۔ فاتح مصر عمرو بن العاص کے بیٹے عبداﷲ کو (جس نے کسی شخص کو بلاوجہ مارا تھا) آپ نے اس کے باپ کے سامنے کوڑے لگوائے مگر کسی کو حوصلہ نہ پڑا کہ کچھ مخالفت کرسکے۔ فاتح شام حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو معزول کیا۔ فاتح ایران سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ سے جواب طلبی کی۔

اللہ کا شکر ہے اس زمانے میں دین اسلام کو اور حجاز مقدس کو کوئی خطرہ لاحق نہ ہوا حالانکہ یہود و نصاریٰ کو اس وقت کی اسلامی سلطنت سے زیادہ خطرہ تھا۔ کیونکہ سلطنتیں فتح کی جارہی تھیں، جب جناب عمر رضی اللہ عنہ اپنے سپہ سالاروں اور گورنروں کا محاسبہ کر رہے تھے۔ جناب خالد بن ولید رضی اللہ عنہ تو رشتہ دار بھی تھے اور انھیں جنگ کے دوران معزول کیا گیا۔ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بھی کہہ سکتے تھے کہ لشکر کا مورال گر جائے گا، ہم جنگ ہار جائیں گے، اصول کی پابندی لازم تھی۔

سورتہ الحج میں خدا تعالی ارشاد فرماتا ہے: ” پس کتنی ہی ایسی بستیاں ہیں جو ظالم تھیں ہم نے انہیں تباہ کر دیا تو وہ اپنی چھتوں سمیت گری پڑی ہیں اور کئی ایک بیکار کنویں اور کتنے ہی مضبوط محل ویران پڑے ہیں۔ کیا انہوں نے کبھی زمین میں گھوم پھر کر نہیں دیکھا کہ ان کے دل ان باتوں کو سمجھنے والے ہوتے یا کانوں سے ہی ان کی باتیں سن لیتے، بات یہ ہے کہ صرف آنکھیں ہی اندھی نہیں ہوئیں بلکہ وہ دل اندھے ہو چکے ہیں جو سینوں میں پڑے ہیں”۔

سورہ الاعراف میں ارشاد ہے: ”اور کتنی ایسی بستیاں تھیں، جنہیں ہم نے ہلاک کر دیا۔ تب آیا ان پر ہمارا عذاب رات کے دوران یا دوپہر کے وقت جب وہ آرام کر رہے تھے۔ پھر جب ان پر ہمارا عذاب آ گیا تو ان کا کہنا یہی تھا کہ ہم خود ہی اپنے اوپر ظلم کرنے والے تھے۔” (آیات 4,5)

آگے فرمایا گیا: ”کیا ان بستیوں کے لوگ اس بات سے مامون ہیں کہ ان پر ہمارا عذاب رات کے دوران آ جائے اور وہ سوئے پڑے ہوں؟ کیا ان بستیوں کے لوگ اس بات سے مامون ہیں کہ ان پر ہمارا عذاب چاشت کے وقت آ جائے اور وہ کھیل میں لگے ہوں؟”

عذاب کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ دشمن بستیاں ویران کر دے۔ عزت و آبرو برباد کر دے۔ قوم کو اپنا غلام بنا لے۔ عزت و آبرو تو ہم لوگوں کی تار تار ہو چکی ہے، کبھی اس در کبھی اس در کبھی دربدر، کبھی امریکہ کے ہراول دستہ کے غلام تو کبھی کسی ملک سے قرضے مانگتے پھرتے ہیں، نہ ملے تو آئی ایم ایف کا دم بھرنے لگتے ہیں، الغرض ندامت و پشیمانی ہی ہمارا مقدر ہے لیکن عبرت ہم نے حاصل نہیں کرنی۔

یہ بات تو طے ہے کہ احتساب عام آدمی کا ہی ہوتا ہے، اور ہوتا رہے گا۔ عام آدمی اگر 1 مہینہ بجلی کا بل نہ دے تو واپڈا کی ضلعی انتظامیہ اسکا میٹر کاٹ جاتی ہے جبکہ سرکاری دفاتر اور ملازم دل کرے تو بل دے دیں، نہیں تو نادہندہ بن کر بھی بجلی استعمال کرتے رہیں کیونکہ انکو کچھ نہیں کہا جاتا۔ عام آدمی اگر کسی جرم میں پکڑا جائے تو پولیس اس سے وہ جرم بھی قبول کروا لیتی ہے، جو اس نے کئے نہیں ہوتے ہیں۔ جبکہ امرا جرم کر کے ثبوت نہ ہونے اور نامکمل تفتیش کی بنیاد پر رہا ہو جاتے ہیں اور اگر اس سے بھی کام نہ بنے تو ڈیل و ڈھیل، پلی بارگین اور دیت کا قانون ہی کافی ہے، نوازشریف، شاہد خاقان عباسی، علیم خان، جہانگیر ترین، سراج درانی، زرداری صاحب سمیت کتنے ہی ہیں کہ مزید ناموں کے لئے پوری فہرست چھاپنا پڑے گی۔ عام آدمی ٹیکس نہ دے تو حکومت جائیداد کی قرقی کا فرمان جاری کر دیتی ہے جبکہ امرا اپنی ناجائز زمین کو بھی ریگولرائز کروا لیتے ہیں۔

پاکستان بنا تو اسلام کے نام پر تھا مگر اسلامی اصول لاگو کرنے پر پابندی ہے، جب تک ہمارے ہاں‌ غریب اور امیر کیلئے ایک جیسا قانون نہیں ہو گا تب تک پاکستان ترقی نہیں‌ کر سکتا، ابھی بھی وقت ہے سنبھل جائیں‌ ورنہ تباہی مقدر ہو گی.

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

زین سہیل وارثی سیاسی و سماجی موضوعات پر قلم اٹھانا پسند کرتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.