عمران خان کا عالمی رہنما بننے کا سفر….

1,558

وزیراعظم عمران خان نے 24 ستمبر کو اقوام متحدہ کے 75 ویں اجلاس سے خطاب کیا جس میں انھوں نے دنیا بھر میں مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے مظالم اور اسلامو فوبیا، مسئلہ کشمیر، بھارت میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم، منی لانڈرنگ، مسئلہ فلسطین، افغان امن عمل، گستاخانہ خاکوں، کورونا کی موجودہ صورتحال اور ایل او سی پر بھارتی جارحیت جیسے معاملات پر بات کی ہے۔

عمران خان نے بھارت سے متعلق کہا کہ وہاں اسلامو فوبیا بہت شدت اختیار کر چکا ہے جس میں ریاست براہ راست ملوث ہے۔ ہندو انتہا پسند نظریئے کی بنیاد آرایس ایس نے 1920میں رکھی جس کا نشانہ مسلمانوں کو بنایا گیا لیکن کسی حد تک عیسائی بھی اس شدت پسند نظریئے سے متاثر ہوئے۔ اسلامو فوبیا میں مسلمانوں کے مقدس مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔ پوری دنیا میں مسلمانوں پر ظلم ہو رہا ہے۔ قرآن مجید کو بھی جلایا جا رہا ہے۔ فرانسیسی جریدے چارلی ایبڈو کی جانب سے پیغمبر اسلام ﷺ کے متنازع خاکوں کی دوبارہ اشاعت پر بھی وزیراعظم پاکستان نے عالمی دنیا کو خبرادار کیا ہے کہ اس جہالت پر مبنی عمل کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ یہ سب اظہار آزادی رائے کے نام پر کیا جا رہا ہے جو کہ پوری مسلم امہ کے لیے ایک خوفناک صورتحال ہے۔

کشمیر کے حوالے سے عمران خان نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر پاکستان کی عوام کی شہ رگ ہے۔ جموں وکشمیر پر بھارت نے 70 سال سے قبضہ کیا ہوا ہے، ہزاروں نوجوانوں کو اٹھایا جا رہا ہے، جیلوں میں بند کیا جا رہا ہے، کشمیر میں بھارتی مظالم اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کی رپورٹ کا حصہ ہیں۔ عالمی برادری اس پر خاموش ہے۔ یہ جو 5 اگست 2019 کو بھارت نے مقبوضہ وادی کی قانونی حیثیت تبدیل کی ہے جس میں آٹھ لاکھ بھارتی فوجیوں نے کشمیریوں کو محصور کیا ہوا ہے، کشمیری میڈیا کو خوفزدہ کیا ہوا ہے۔ عوام کی آواز کو دبایا ہوا ہے۔ انٹرنیٹ بھی بند ہے۔ کشمیر میں انسانی زندگی کی حیوانوں کی طرح تذلیل ہورہی ہے۔ عمران خان نے کہا ہے کہ جس طرح پر امن مظاہرین پر پیلٹ گن کا استعمال ہو رہا ہے اور معصوم و نہتے لوگوں کو اپاہج کیا جارہا ہے، عالمی برادری کو انسانیت سوز مظالم پر تحقیقات کرنی چاہیے۔ جس طرح کشمیر میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کیا جا رہا ہے اس پر بھی عالمی برادری کو سوچنا چاہیے۔

ایک طرف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے مشرقی تیمور پر اپنا کرادار ادا کیا تو مسئلہ کشمیر پر کیوں نہیں؟ ہم چاہتے ہیں اقوام متحدہ مسئلہ کشمیر پر اپنا کردار ادا کرے، ہم مسئلہ کشمیر کا پر امن حل چاہتے ہیں۔ بھارت سب سے پہلے مقبوضہ وادی کی سابقہ حیثیت بحال کرے، پھر کشمیری عوام کی رائے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلے کا حل ہو۔

وزیراعظم پاکستان نے اپنے خطاب میں کہا کہ بھارت لائن آف کنٹرول پر بلا اشتعال فائرنگ سے بین الاقوامی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی کر رہا ہے۔ اگر فاشسٹ بھارتی حکومت کی طرف سے کوئی اشتعال انگیزی کی گئی تو پاکستان اپنے دفاع کے لیے بھرپور جواب دے گا۔ پاکستان ورکنگ باؤنڈری اور ایل او سی پر بھارتی جارحیت کا ضبط کے ساتھ مظاہرہ کر رہا ہے۔ پاکستان خطے میں امن و استحکام چاہتا ہے۔ اس سے پہلے والے خطاب میں بھی عمران خان نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کے امن کی خواہش کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے۔ ہم تیار ہیں، ہر طرح کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دے سکتے ہیں۔

وزیراعظم نے مسئلہ فلسطین پر بھی اپنی پالیسی کو بیان کیا، عمران خان نے کہا کہ مسئلہ فلسطین کا حل دنیا کے امن کے لیے بہت ضروری ہے۔ پاکستان آزاد فلسطینی ریاست کا قیام چاہتا ہے جس کا دارالحکومت بیت المقدس ہو۔ پاکستان فلسطین کے مسئلے پر فلسطینی عوام کی حمایت کرتا ہے۔ عمران خان کے بھی فلسطین پر وہی جذبات ہیں جو پاکستان کے ہر لیڈر کے ہوتے ہیں۔ پاکستان پہلے دن سے فلسطین پر جو نقطہ نظر رکھتا ہے اس پر قائم ہے۔ فلسطینی مسلمانوں کی قربانیاں ایک دن ضرور رنگ لائیں گی، انشاءاللہ فلسطین ایک دن ضرور آزاد اور خودمختار ریاست بنے گا۔

عمران خان نے اپنے خطاب میں منی لانڈرنگ کے حوالے سے بھی بات کی جس میں ان کا کہنا تھا کہ ترقی پذیر ملکوں کو جتنی امداد ترقی یافتہ ملکوں سے ملتی ہے، اس سے کہیں زیادہ رقم منی لانڈرنگ کے ذریعے سے واپس ترقی یافتہ ملکوں کی طرف جاتی ہے جو کہ ایک بڑا ظلم ہے۔ یہ رقم غریب ملکوں کی ایلیٹ لوٹ کر ناجائز طریقے سے وہاں منتقل کرتی ہے۔ جنرل اسمبلی اس غیر قانونی رقم کی منتقلی پر کام کرے اور اس عمل کو رکوایا جائے۔ ترقی یافتہ ممالک اس بیرون ملک رقم کی منتقلی میں دلچسپی نہیں لیتے جس کی وجہ سے ترقی یافتہ ملکوں میں غربت میں اضافہ ہوتا ہے۔ ہمارے جیسے ملک ترقی نہیں کرسکتے۔ منی لانڈرنگ ترقی پذیر ملکوں کی بدحالی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے، اس کو روکا جائے۔ واضح رہے کہ منی لانڈرنگ کے حوالے سے اتنے بڑے فورم پر پہلے کبھی کسی لیڈر نے بات نہیں کی، یہ عمران خان ہیں جنہوں نے ہمیشہ پاکستان میں غربت کے خاتمے پر بات کی اور پوری دنیا کو اس مسئلے کو سنجیدگی سے لینے کے لیے کہا ہے۔ یہی بات عمران خان کو دیگر عالمی لیڈروں سے ممتاز کرتی ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے اپنے خطاب میں افغان امن عمل کی بھی بات کی۔ عمران خان پاکستان میں پہلے سیاستدان ہیں جنہوں نے کہا تھا کہ طالبان سے مذاکرات کریں، افغانستان میں امن صرف اور صرف طالبان سے مذاکرات سے ہی ممکن ہے۔ یہی ہوا کہ امریکہ کو 20سال بعد بھی مذاکرات ہی کرنے پڑے۔ پاکستان کا ان مذاکرات میں ایک کردار ہے جس کو امریکہ نے بھی مانا ہے۔ پوری دنیا کو یہ پتہ ہے کہ پاکستان کی مداخلت کے بغیر مذاکرات نہیں ہو سکتے۔ جتنا امریکہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کی کامیابی کی طرف جا رہا ہے اس کا سہرا پاکستان کے سر ہے اور عمران خان نے افغانستان میں قیام امن کے لیے اپنے کردار کو ایک دفعہ پھر دنیا کے سامنے رکھا۔

عمران خان نے اپنے خطاب میں ماحولیاتی آلودگی پر بھی بات کی جس میں انھوں نے کہا کہ ماحولیاتی آلودگی آنے والی نسلوں کے لیے سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنا اپنی عالمی ذمہ داری سمجھتا ہے۔ ہماری حکومت اپنے ملک میں 10 ارب درخت لگائے گی۔ ماحولیاتی آلودگی پر عمران خان کو پوری دنیا میں سراہا جا رہا ہے ان کا یہ کام عالمی لیڈر بننے کے سفر میں انسانیت کی خدمت کے لیے ایک بڑا کام ہے۔

وزیراعظم کا خطاب کورونا جیسے عالمی مسئلے سے خالی نہیں رہا، انھوں نے کہا کہ پاکستان میں کورونا پر قابو پانا ان کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ پاکستان میں لاک ڈاؤن بھی کیا گیا ہے لیکن ہم کبھی بھی لاک ڈاؤن کے حق میں نہیں تھے۔ ملک کو بند کر کے لوگوں کو بھوک سے نہیں مار سکتے تھے، اس لیے ہم نے ملک میں لاک ڈاؤن کھولا۔ بازار، صنعتوں اور تعمیراتی شعبے کو کھولا تاکہ عام آدمی کو روزگار ملے۔ اقوام متحدہ کے شعبہ صحت کے عالمی ادارے ڈبلیو ایچ او نے بھی پاکستان کی کورونا پالیسیوں کو سراہا ہے اور دنیا کو کہا ہے کہ دنیا پاکستان کی کورونا پر پالیسی سے سبق سیکھے۔

اقوام متحدہ نے ترقی پذیر اور ترقی یافتہ ممالک سے خطاب کے لیے ایک ایک لیڈر کا انتخاب کیا ہے، ترقی یافتہ ممالک کی نمائندگی جرمن چانسلر انجیلا مرکل کو دی گئی ہے اور ترقی پذیر ممالک کی نمائندگی کے لیے وزیراعظم پاکستان کا انتخاب کیا گیا ہے۔ یہ بھی وزیراعظم پاکستان عمران خان کی ذاتی کامیابی ہے جو کہ ان کو مسلم ممالک کے سربراہان میں ایک عالمی لیڈرکے طور پر نمایاں کرتی ہے اور پاکستان کے لیے بڑے اعزاز کی بات ہے۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.