مسئلہ وسائل کا نہیں، قابلیت کا ہے!!!

1,429

وہ 20 ستمبر 1916 کو لاہور کے ایک نواحی گاؤں میں پیدا ہوا، چار بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹا تھا۔ جس گاؤں میں پیدا ہوا وہ سارے کا سارا ان پڑھ تھا۔ حیرت انگیز طور پر اس بچے کو پڑھنے لکھنے کا بہت شوق تھا لیکن مسئلہ یہ تھا کہ اس گاؤں میں کوئی سکول ہی نہیں تھا۔ لہذا اس کو پڑھنے کے لئے دوسرے گاؤں جانا پڑتا جو تقریباً اس کے گھر سے ڈیڑھ میل دور تھا، ننھے طالبعلم کو راستے میں ایک برساتی نالہ بھی عبور کرنا پڑتا تھا۔

پرائمری پاس کرنے کے بعد مڈل کلاس کے لئے پھر وہ ایک اور یعنی تیسرے گاؤں جاتا۔ بچے کی انتھک محنت کا اللہ پاک نے صلہ یوں دیا کہ مڈل کا جب رزلٹ آیا تو وہ نہ صرف امتیازی نمبروں سے پاس ہوا بلکہ وظیفہ بھی حاصل کیا۔ یوں‌ علاقے بھر میں‌ ماں‌ باپ کا سر فخر سے بلند کیا، اس کی نیک نامی کے چرچے ہونے لگے. مزید تعلیم کے لئے اسے لاھور آنا پڑا، وظیفے کے سبب یہاں اسے ایک اچھے سکول میں داخلہ مل گیا۔

اب یہ ننھے طالبعلم سے نوجوان لڑکا بن چکا تھا۔ گاؤں لاھور سے 13 کلو میٹر دور تھا، غربت کی وجہ سے اسے اپنی تعلیم جاری رکھنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا مگر اس نے ہار ماننے کی بجائے مسائل سے لڑنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے کچھ سوچ بچار کے بعد گاؤں سے دودھ لا کر شہر میں فروخت کرنے کی ٹھانی، یہ اس کی تعلیمی اخراجات کیلئے کافی تھا۔ اب یہ نوجوان فجر کی اذان سے پہلے اٹھتا، مختلف گھروں سے دودھ اکٹھا کرتا اور پھر دودھ کو گدھا گاڑی پر سوار کر شہر پہنچتا۔ وہاں وہ سارا دودھ ایک دو دکان داروں کو فروخت کرتا پھر وہ بچہ مسجد میں کپڑے تبدیل کرکے سکول چلا جاتا۔ کالج تک وہ یہ کام کرتا رہا اور تعلیمی سلسلہ یونہی جاری رہا۔

1935 میں اس نوجوان کی محنت پھر رنگ لائی اور اس نے میٹرک کے امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کی۔ اب اگلا مرحلہ کالج تھا، اس مرتبہ بھی وظیفہ ملا تھا لہذا بڑی آسانی سے ایک اچھے کالج میں داخلہ مل گیا۔ کالج میں کوٹ پہننا لازمی تھا، اس کے پاس کوٹ نہیں تھا، جب اس بات کا علم اساتذہ کو ہوا تو انھوں نے اس کی مدد کی۔ یوں اپنی محنت اور اللہ پاک کے سہارے اس کا تعلیمی سلسلہ چلتا رہا اور بالآخر 1939 میں اس نے منزل مقصود پا لی اور بی اے آنرز مکمل کر لیا۔ 1946 میں وکالت کی ڈگری بھی حاصل کر لی۔

محنت کی عادت تھی، حوصلے بلند تھے، ایک کے بعد ایک منزل اس کی راہ میں آتی چلی گئی۔ 1970 میں یہ صاحب قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوگئے، ان کے پاس وفاقی وزارتیں بھی رہیں، نومبر 1996 سے فروری 1997 تک وزیراعظم پاکستان بھی رہے۔ اب شائد آپ بھی جان گئے ہوں اس حوصلہ مند، جفاکش اور اٹل ارادوں کے حامل شخص کا نام ملک معراج خالد تھا جو قائداعظم کا سچا پیروکار اور پاکستان سے شدید محبت کرنے والا مخلص سیاستدان تھا۔

ملک معراج خالد کی زندگی آج کے اس نوجوان کی امید ہے جو موجودہ حالات سے مایوس ہو چلا ہے۔ جس کے پاس وسائل نہیں، کوئی رہنمائی کرنے والا نہیں۔ ماں باپ غریب ہیں، اسے پڑھا لکھا نہیں سکتے، اچھا لباس و خوراک مہیا نہیں کر سکتے۔ تو اے آج کے نوجوان! جنہوں نے کچھ کرنا ہوتا ہے وہ بغیر وسائل کے اور دودھ بیچ کر بھی کمال کر جاتے ہیں۔ اج کا نوجوان کپڑے، جوتے سے لے کر کورونا فیس ماسک تک برانڈ تو چاہتا ہے لیکن خود معراج خالد کی طرح بازاروں میں دودھ بیچنے کو تیار نہیں۔ میرا نوجوان گوگل کی طرح منافع تو کمانا چاہتا ہے لیکن خود تعلیم کے حصول کیلئے مشکلات کا سامنا کرنے کو تیار نہیں. دنیا کا امیر ترین شخص تو بننا چاہتا ہے لیکن جیف بیزوس کی طرح نائب صدر کے عہدے کو چھوڑ کر ایک چھوٹے سے گیراج سے کاروبار شروع کرنے کے لیے تیار نہیں. بحریہ ٹاؤن اور ملک ریاض جیسی ترقی تو چاہتا ہے لیکن خود ملک ریاض کی طرح شروع میں عام ٹھیکیدار بننے کو تیار نہیں، تو جناب پھر یہ کہنے دیجئے کہ مسئلہ وسائل کا نہیں بلکہ قابلیت کا ہے۔ اج کا نوجوان وسائل کی کمی کو روتا ہے لیکن خود کو قابل بنانے کو تیار نہیں۔ نوجوان ڈگریاں ہاتھوں میں لے کر خوار تو ہو رہا ہے کیونکہ اس کے پاس ڈگری تو ہے لیکن وہ قابلیت نہیں جو مارکیٹ طلب کرتی ہے۔ اب تو یہ عالم ہے کہ مہنگی ترین ڈگری لے کر معمولی سی تنخواہ میں گزارہ کرکے بھی یہ نوجوان خوش ہیں۔ اپنی قابلیت بڑھا کر اپنا چھوٹا سا سیٹ اپ شروع نہیں کرتے جو محنت کے بعد کل کو بڑا بھی ہو گا کیونکہ انسان کی محنت اللہ تعالی کبھی ضائع نہیں کرتا، بس آزمائش شرط ہے۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

اریبہ اعیم ساسی و سماجی موضوعات پر لکھنا پسند کرتی ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.