آل پارٹیز کانفرنس کا اصل ایجنڈا؟

1,438

ملکی سیاسی حالات پر پیپلزپارٹی کی قیادت میں اپوزیشن نے چند روز قبل اے پی سی منعقد کی جس میں مسلم لیگ(ن)، جمیعت علماءاسلام(ف)، اے این پی اور دیگر اپوزیشن اتحادی جماعتوں نے شرکت کی، مشترکہ اعلامیہ میں حکومت وقت کے خلاف 26 نکاتی ایجنڈا کے تحت مملکت خداداد میں قانون، آئین اور جمہوریت کی بالادستی کے لئے مشترکہ جدوجہد کا اعلا ن کیا گیا اور جلسے جلوسوں، ریلیوں اور استعفوں تک کے آپشن کو بھی استعمال کرنے کی بات ہوئی۔ اس بارے میں دانشوروں، سیاستدانوں اور تجزیہ کاروں کی طرف سے اپنے اپنے نقطہ نظر سے تبصرے جاری ہیں۔

قطع نظر ان چند باتوں کے کہ کس سیاسی پارٹی کے پاس کتنی سٹریٹ پاور ہے اور وہ عوام کو سڑکوں پر لانے کی کتنی صلاحیت رکھتی ہے، کس نے کشمیر کاز کو تیس سال کے لئے بھول جانے کی بات کی اور اسی پالیسی پر کام کیا، کس نے اپنے دورہ بھارت میں کشمیری حریت کانفرنس کے رہنماوں سے ملاقات کو مناسب نہ سمجھا، انہیں ناراض کیا اور اپنے پیش روؤں کی طرح کشمیر کو نظرانداز کیا، کون بطور چیئرمین کشمیر کمیٹی عرصہ پانچ سال خاموش رہا اور کشمیر کے نام پر بیرونی دوروں میں متمول تارکین وطن سے اپنے لئے چندہ اکٹھا کرتا رہا، کس نے اپنے دور حکمرانی میں ملک دشمن کلبھوشن یادیو کا نام تک نہیں لیا اور الٹا اسے آسانیاں فراہم کرنے کی خاطرملی بھگت سے عالمی عدالت انصاف تک رسائی فراہم کی، کس نے اپنے ذاتی مفادات کی خاطر مودی سرکار کو بیش قیمت تحائف دیئے اور معروف ہندوستانی صنعتکار جندال کے لئے تمام قوانین کو بالائے طاق رکھتے ہوئے بغیرویزہ کے مری میں ملاقات کا اہتمام کیا۔

وہ کون لوگ تھے جو کم وبیش عرصہ تیس سال تک بر سراقتدار رہے اور اپوزیشن میں سے ایک پارٹی صوبائی سطح پرآج بھی بر سر اقتدار ہے۔ انہوں نے اپنے اپنے دور حکومت میں ملک پر قرضوں کے انبار لگا دیئے جس کی سود اس ملک کا غریب آدمی اپنا خون پسینہ بیچ کر ادا کر رہا ہے، کس نے معیشت کا بیڑہ غرق کر کے رکھ دیا، کس نے قرض اتارو، ملک سنوارو سکیم کے تحت اربوں روپیہ اکٹھا کیا جس کا کوئی حساب کتاب نہیں کہ کدھر گیا، کس نے اپنی ذاتی تشہیر اور مال بنانے کے چکرمیں مہنگے اور خطیر قرضوں پرمیٹرو بس اور اورنج ٹرین جیسے میگا پراجیکٹس شروع کئے جو کہ لاکھوں روپے ماہانہ سبسڈی کی وجہ سے حکومت کے گلے میں کانٹوں کی مالا ہیں۔

کن لوگوں نے عوام کو بنیادی انسانی ضروریات صحت، تعلیم اور فوری انصاف سے محروم رکھا ، بنیادی ڈھانچہ کی تعمیر، ادارہ جاتی اصلاحات، زرعی اصلاحات اور گھریلو صنعت کے فروغ کی جانب توجہ نہ دی اور معیشت کو نقصان پہنچایا۔ کس نے اداروں کو کمزور کیا، کون تھا جس نے سپریم کورٹ پر حملہ کروایا، کس نے مرضی کے فیصلے لینے کے لئے جسٹس ملک قیوم کو فون کالز کیں اور جن کی ریکارڈنگز بھی منظر عام پر آتی رہیں۔ کس نے ملکی بیوروکریسی جو کہ انتظامی طور پر ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے کو سیاست زدہ کیا اور اپنے ذاتی مفادات کے تحفظ کے لئے استعمال کرنے کی روایت ڈالی، کو ن لوگ تھے جنہوں نے بیوروکریسی کو ساتھ ملا کر ملکی معیشت اورملکی نظام کو تباہ و برباد کیا۔ کن لوگوں کے کالے کرتوتوں اور منی لانڈرنگ کی وجہ سے ملک کو فیٹف میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

وہ کون لوگ تھے جنہوں نے بیرونی دنیا میں ملکی تعلقات مضبوط اور نئے اتحادی بنانے کی بجائے مضبوط ذاتی تعلقات قائم کرنے کو ترجیح دی اور دوست ممالک کو ناراض کیا ۔ کس نے اور کن مفادات کی خاطرپاک ایران گیس پائپ لائن پر پاکستان کی طرف سے کام نہیں کیا جبکہ ایران کی طرف سے کام مکمل ہے، اپنے دور حکومت میں ایران کی طرف سے بچھائی گئی بجلی کی لائن کو آگے توسیع دے کر نیشنل گرڈ میں شامل کیوں نہیں کیا۔ سمندر میں گرنے والے پانی کو محفوظ کرنے کے لئے کس نے کتنے ڈیم بنائے، ملکی معیشت اورزرعی ترقی میں مہمیز کا کردار ادا کرنے والے کالاباغ ڈیم پر اتفاق رائے پیدا کرنے کے لئے کس نے کیا اقدامات کئے۔ کن لوگوں نے نجی پاورہاؤسز کے ساتھ مہنگے ریٹس اور ملکی کرنسی کی بجائے ڈالرمیں ادائیگی کے معاہدے کئے ۔ کس کے ادوار حکومت میں لوگ آٹا، چینی کے لئے سارا سارا دن یوٹیلیٹی سٹورز کے باہر لائنوں میں کھڑے رہتے تھے اور شیر آ گیا، آٹا کھا گیا ایک معروف نعرہ بن گیا تھا۔

کون لوگ ہیں جو خود مارشل لاء کی پیداوار اور آج بھی چھپ چھپ کر ملتے ہیں اور الزام اس فوج پر جو دنیا کی بہترین افواج میں سے ہے اور دنیا ان کی پیشہ وارانہ مہارت اور قربانیوں کی معترف ہے، وہی فوج جو آج بھی ملکی دفاع کی خاطر ہر اندرونی وبیرونی محاذپر قربانیاں دے رہی ہے کو نشانہ بناتے ہیں، کبھی سوچاہے مادر وطن کے دفاع کی خاطرجن بزرگ والدین نے اپنے جوان بیٹے، جن بہنوں نے اپنے بھائی، جن خواتین نے بھرپور جوانی میں اپنے سروں کے تاج اور جن معصوم بچوں نے اپنے باپ قربان کر دیئے ان کے دلوں پر کیا بیتتی ہو گی جب یہ اقتدار کے پجاری فوج پر آوازیں کستے ہیں۔ کہنے کو تو بہت کچھ ہے مگران لوگوں کی کس کس ادا کا رونا روئیں اور آہ و زاری کریں۔

اب اس بیٹھک یعنی اے پی سی کا ذرامختلف انداز میں جائزہ لیتے ہیں کہ آخر اس کے پس پردہ کیا مقاصد ہیں اور اس کے پیچھے کیا حقیقت نظرآتی ہے، یہ لوگ کسے بیوقوف بنا رہے ہیں، کسے سنا رہے ہیں اور کس کا ایجنڈا پورا کرنے کی جانب گامزن ہیں۔

ہہ ملک وقوم کے دشمن ہمارے لیڈر نہیں، لیڈروں کے بھیس میں چھپے سیاسی اداکار، بہروپئے اور قزاق ہیں جوباری باری حملہ آور ہوتے، ملک کوجی بھرکر لوٹتے، قوم کا خون نچوڑتے، منہ صاف کرتے ہوئے ملکی ناو کو بیچ سمندر تھپیڑوں میں ہچکولے کھاتی چھوڑ کر فرار ہو جاتے ہیں اور پھر اگلی باری تک ہمیں ساحل کی نوید میں ہمدردانہ بیانات سے بیوقوف بناتے رہتے ہیں۔

علاقائی اور خطے کے دفاعی، جغرافیائی اور تزویراتی معاملات کا اگر سرسری سا جائزہ لیں توایک پریشان کن صورتحال نظر آتی ہے، آنے والے چار سے چھ ماہ کا عرصہ بہت اہمیت کا حامل ہے، نئے اتحاد بنتے اور پرانے ٹوٹتے نظر آ رہے ہیں جس کا شائد ہمیں بحثیت قوم اندازہ ہی نہیں یا ہم کرنا ہی نہیں چاہتے۔ بھارت چین بارڈر پر کیا صورتحال ہے اور یہ آگے چل کر کیا صورت اختیار کر سکتی ہے سوچنے کی بات ہے، لداخ کا علاقہ نہ صرف ہند و چین بلکہ ہمارے لئے بھی انتہائی اہمیت رکھتا ہے، سیاچن جو دنیا کا بلند ترین محاذ جنگ ہے اس کی ہندوستانی سپلائی لائن اسی لداخ سے ہو کر گزرتی ہے ، لداخ سے ہمارا گلگت بلتستان خصوصاً سکردو کا علاقہ بہت قریب پڑتا ہے، یہاں پر ذرا سی کمزوری یا غفلت ہمیں مشکل میں ڈال سکتی ہے کیونکہ چین کے ہاتھوں ہزیمت کا بدلہ چکانے کے لئے انڈیا اس علاقے میں کوئی مس ایڈونچر کر سکتا ہے۔

ہمسایہ ملک افغانستان میں امریکی افواج کے انخلا اور انٹرا افغان مذاکرات پر کام ہو رہا ہے، آنے والے وقت میں طالبان کے افغان حکومت میں ممکنہ کردار، افغانستان میں ہندوستانی مفادات پر اس کے اثرات اور نتیجہ میں پیدا ہونے والی صورتحال کے پیش نظر ہمیں ایک مدبرانہ پالیسی اختیار کرنے کی ضرورت ہے، جنوبی چین میں امریکہ ، بھارت اور ان کے اتحادی اکٹھے ہو رہے ہیں ، تائیوان جو کہ چین کا ہی ایک صوبہ ہے ، میں امریکی پشت پناہی میں حالات خراب کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ہو سکتا ہے کہ نومبر دسمبر تک چین تائیوان میں اپنی افواج اتار دے۔

سی پیک منصوبہ جس سے ہماری دگرگوں معیشت کو ایک بھرپور اٹھان مل سکتی ہے، تعمیروترقی کا ایک نیا دور شروع ہو سکتا ہے، یہ ملک دشمن طاقتوں بشمول بعض عرب ممالک کو بہت کھٹکتا ہے۔ گزشتہ دور حکومت میں اس پر جو کام سست روی کا شکار تھا اور اس پر چین ہم سے ایک حد تک نالاں بھی تھا، اب اس منصوبہ پر تیزی سے کام جاری ہے اور نئے معاہدے بھی ہو رہے ہیں۔ روس چین کے ساتھ ہمارے بڑھتے اور مضبوط ہوتے تعلقا ت کس قدر امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کے مفادات کے لئے خطرہ ہیں اس کا اندازہ بخوبی کیا جا سکتا ہے۔

اصل خطرہ خطے میں امریکی واسرائیلی مفادات کو ہے جن کے تحفظ میں عرب ممالک کو بھی اعلانیہ طور پر شامل کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ یہ خطرہ انہیں خطے میں موجود تین بڑی مسلم فوجی طاقتوں پاکستان، ترکی اور ایران سے ہے ۔ اقوام متحدہ کے حالیہ سربراہی اجلاس میں ترکی کے ایک بار پھر مسلئہ کشمیر کے منصفانہ حل پر زور اور اس پر بھارتی رد عمل آنے والے وقت کا منظر نامہ بیان کرتے نظرآتے ہیں۔ یاد رہے کہ ممکنہ حالات کے تناظر میں مخبر صادق خاتم النبین ﷺ قرب قیامت کے باب میں ہند چین لڑائی اور اس خطے میں یہودیوں (اسرائیل) کی اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر اہل اسلام کے ساتھ آخری فیصلہ کن جنگ اور اس میں عربوں کا کرداراپنی احادیث میں صدیوں پہلے ہی بیان فرما گئے ہیں۔

ان سب باتوں کے پیش نظر کہ جب خطے میں بڑی تیزی کے ساتھ تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں تو یہ لوگ کس ایجنڈا کے تحت اکٹھے ہو کر ملک کو عدم استحکام سے دو چار کرنے اور پاک فوج ، جو کہ ملکی سلامتی کی ضامن ہے اس وقت تمام اندرونی وبیرونی محاذوں پر بخوبی نظر رکھے ہوئے حکومت وقت کے ساتھ ملکر ملکی استحکام کی جانب گامزن ہے، بعض عناصر پاک فوج کو سیاست میں الجھا کرملک کو دفاعی، سیاسی اور معاشی طور پر کمزور کرنے کی جانب کوشاں ہیں۔ کوئی شک نہیں کہ عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں ، معیشت کمزور ہے مگر دیکھا جائے تو یہ سب کس کا کیا دھرا ہے ،یہ قزاق، لٹیرے اور سیاسی بہروپئے کس کو بےوقوف بنا رہے ہیں۔ کیا عوام ان کا ماضی، ان کا کچاچٹھاسب بھول گئے ہیں، ہرگز نہیں بھولے۔

آج ہمیں اگر مشکل حالات در پیش ہیں تو اس میں ہم عوام بھی برابر کے شریک ہیں کہ آزمائے ہوئے لوگوں کو بار بار آزماتے چلے آرہے ہیں ، کہاوت ہے کہ آزمائے ہوئے کو آزمانا بےوقوفی کی نشانی ہے)، جس کسی کو بھی اپنا سیاسی لیڈر بناتے ہیں پھر اس کی پوجا کرنے تک چلے جاتے ہیں اور اس کی کرپشن اور ملک دشمنی پرسب کچھ جانتے بوجھتے ہوئے بھی اس کا جھوٹا دفاع کرنا اپنا فرض عین خیال کرتے ہیں ، ہونا تو یہ چاہئے کہ کوئی بھی سیاسی لیڈر ہو۔ اسے ملک و قوم کی خدمت کا موقع دیں اگر وہ توقعات پر پورا اترے ، کچھ کر دکھائے تو اسے دوبارہ مسند اقتدار پرلے آئیں، بصورت دیگر اس سے نجات حاصل کر لیں۔ مگر یہ سب کرے گا کون، اتنا شعور ہوتا تو ہم دہائیوں سے ان بہروپئے لٹیروں کو کیوں آزما رہے ہوتے اور کیوں ان کی پوجا پاٹ کرتے۔ اب یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ با شعور ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے ان بہروپیوں کے اصل چہروں کو پہچانیں اور ان کے ملک دشمن مذموم مقاصد کو ناکام بناتے ہوئے ان کے منصوبوں کو خاک میں ملا دیں۔

دوسری طرف حکومت وقت کو بھی چاہئے کہ وہ سفارتی سطح پر مسلئہ کشمیر کوبدلتے ہوئے حالات کے تناظر میں بھرپور انداز میں لیکر آگے بڑھے گو کہ موجودہ دور حکومت میں کشمیر کاز ایک بار پھر سے زندہ ہوا ہے اور سلامتی کونسل میں ہمیں کامیابیاں ملی ہیں۔ امریکی اور اتحادی ممالک کے مفادات اور دباؤ کو پس پشت ڈالتے ہوئے بلا امتیاز محب وطن سیاسی لیڈروں کے ساتھ باہمی مشاورت سے خالصتاً ملکی وملی مفاد میں اپنے آزادانہ فیصلے کرے اورپرانے دوستوں کے ساتھ ساتھ نئے اتحادی ممالک کی طرف بھی توجہ دے۔ نئی تجارتی منڈیوں اور معاہدوں سے ملکی معیشت کو مضبوط کرنے ، سی پیک کے تناظر میں ٹیکنالوجی اور صنعتی ترقی بشمول گھریلو صنعت کے فروغ، ادارہ جاتی اصلاحات خصوصاً فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب بھرپور توجہ دے تا کہ معیشت بھی ترقی کرے اور برآمدکنندگان کے عرصہ دراز سے حل طلب مسائل بھی حل ہو سکیں۔

صنعتی اور تجارتی طبقہ سے بھی گزارش ہے کہ ان سیاسی بہر وپیوں کا ساتھ دینے کی بجائے خدارا اپنے ذاتی مفادات کو پس پشت ڈالتے ہوئے دیانتداری کے ساتھ ملکی ترقی وسلامتی میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں تاکہ ہم آنے والے وقت میں ملک و اسلام دشمن عناصر کو شکست فاش دے سکیں، یہ ملک ہے تو ہم ہیں، پہلے ہی ہم اپنی کوتاہیوں اور دشمن کی ریشہ دوانیوں سے مملکت کا ایک ٹکرا گنوا چکے ہیں۔ اگر ہمارا کردار ایسا ہی رہا اور ہم تبدیل نہ ہوئے تو کل اللہ کریم کی بارگاہ میں جواب دہ ہو ں گے، پھر وہاں نہ کوئی اتحادی ہو گا اور نہ ہی مفادات کا تحفظ کرنے والا، ہوں گے تو صرف ہمارے اعمال اور نیک نیتی۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

فرخ نذیر سوشل ایشوز پر لکھنا پسند کرتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.