آخر کب تک….

261

آج سے تقریبا دس سال قبل عدالت عالیہ کے حکم کے پر دہشت گردی سے بچاؤ کے لئے ہماری درسگاہ، ادارہ منہاج القرآن کے باہر حفاظتی رکاوٹیں رکھی گئی تھیں، گزشتہ دور حکومت میں تجاوزات ہٹانے کے نام پر سرکار کی طرف سے ایک بھرپور پولیس ایکشن کیا گیا اور یوں 17 جون 2014ء کا سورج ہمارے لئے موت کا پیغام لیکر طلوع ہوا، ہم بہنیں بیٹیاں دیگر افراد کے ساتھ اپنی درسگاہ کے سامنے پولیس کے جوانوں کی ریاستی غنڈہ گردی کے خلاف پر امن طور پر سراپا احتجاج تھیں کہ اپنے آقاؤں کی خوشنودی کے لئے بے گناہ و نہتی خواتین پر پولیس نے فائر کھول دیا جس کے نتیجے میں 14 افراد بشمول دو خواتین شہید اور 90 سے زائد زخمی ہوئے، ان میں بزرگ افراد اور خواتین بھی شامل تھیں۔ ستم بالائے ستم کہ ذمہ داران آج بھی اعلی عہدوں پر براجمان ہیں جبکہ ہم 6 سال گزرنے پر بھی انصاف کے لئے تاحال کوشاں ہیں۔

میں حاجی عطااللہ ٹریفک سارجنٹ امن و امان اور ٹریفک کنٹرول کرنے کی ڈیوٹی پر مامور جون2017ء میں جی پی او چوک کوئٹہ اپنے فرائض ادا کر رہا تھا کہ پیچھے سے آنے والی ایک تیز رفتارلگژری گاڑی نے مجھے آن کی آن میں روند ڈالا اور چلتی بنی، میں گھر کا واحد کفیل تھا۔ میرے بعد میرے اہل خانہ وبچے یتیمی کا تمغہ لئے زمانے کے سردوگرم تھپیڑوں میں تنہا رہ گئے، ریاست نے میری طرف سے مقدمہ کچھ ایسی شان سے لڑا کہ میرے قاتل (نامزد ملزم) کو روایتی عدم شواہد کی بنا پر با عزت بری کر دیا گیا کیونکہ نامزد ملزم کوئی عام معمولی شخص نہیں بلکہ رکن صوبائی اسمبلی اور ایک سیاسی پارٹی کے سربراہ و سابق رکن پارلیمنٹ کا کزن تھا۔ یاد رہے کہ اس حوالہ سے ویڈیو مختلف نیوزچینلز پر دکھائی بھی گئی جس میں مذکورہ شخص کی گاڑی کو واضح دیکھا جا سکتا ہے، مزید یہ کہ موقع پر موجود لوگوں کے میڈیا کو دئے گئے بیانات بھی ایک ریکارڈ ہیں۔

تقریبا ڈیڑھ سال قبل جنوری 2019ء میں، اپنی فیملی کے ساتھ ایک شادی کی تقریب میں شرکت کے لئے بوریوالہ اپنے عزیزواقارب کی طرف جا رہے تھے کہ لاہور، ملتان روڈ پر ساہیوال کے قریب پولیس کے جوانوں نے بنا کسی تحقیق و تفتیش، سفاکیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ممکنہ دہشت گردوں کی بنا پر ہماری گاڑی پر فائرنگ کر دی اور دیکھتے ہی دیکھتے ماں باپ اور تیرہ سالہ بہن کی شفقت سے محروم ہمیشہ کیلئے محروم ہو گئے۔ حکومت وقت کی جانب سے ہمارے ساتھ ہونے والے ظلم وستم کی شفاف تحقیقات اور تمام ذمہ داران کو کیفرکردار تک پہنچانے کی نوید سنائی گئی اور پھر کچھ یوں ہوا کہ شفاف تحقیقات اور عدالتی کاروائی کے نتیجہ میں ہمارے ساتھ بربریت کا مظاہرہ کرنے والے عدم شواہد کی بنا پر باعزت بری کر دیئے گئے، اب ہم اب اللہ کریم کی بارگاہ میں انصاف کے منتظر ہیں۔

عروہ، کرن، پلوشہ اور ہم جیسی دیگر کئی ایک سکھیاں ہنستی مسکراتی تتلیوں، جگنوؤں کے ساتھ اپنے بابا کی بانہوں میں کھیلتی لاڈلی گڑیاں تھیں، ابھی زندگی کے سفر کا آغاز ہی کیا تھا، اپنے مستقبل کو لے کرہمارے کچھ روشن خواب تھے کہ انہیں تعبیر ملنے سے پہلے ہی خاک میں ملا دیا گیا اور ہم مختلف واقعات میں انسانی درندگی کا نشانہ بنے، اپنے ماما بابا کی آنکھوں میں تیرتے آنسوؤں کو خشک کر کے شہر خاموشاں میں بسیرا کر آئی ہیں جبکہ ہمارے لواحقین تا حال انصاف کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔

ستمبر 2020ء کے دوسرے ہفتہ کی بات ہے کہ رات گئے میں اپنے بچوں کے ساتھ سیالکوٹ موٹروے پر گجرانوالہ کی جانب عازم سفر ہوئی، ابھی کچھ ہی فاصلہ طے کیا تھا کہ میری گاڑی کا پٹرول ختم ہو گیا، میں نے گاڑی سروس لین پر کھڑی کر کے صورتحال کے بارے اپنی فیملی سے رابطہ کیا اوربذریعہ ہیلپ لائن موٹروے پولیس سے مدد طلب کی مگر علاقہ دائرہ اختیار سے باہر ہونے کی وجہ سے متعلقہ پولیس ہیلپ لائن پر اطلاع کر دی گئی، اتنے میں نہ جانے کہاں سے 2 ڈاکو نمودار ہوئے اور مجھے اکیلا پا کر زبردستی کر ڈالی، میرے بچوں کے سامنے مجھے اپنی جنسی ہوس کا نشانہ بنایا اور زیوارت لوٹ کر فرار ہو گئے اور ہم ماں بچے تقریباً سکتہ کی حالت میں ایک دوسرے سے نظریں چراتے لگے۔

ابھی چند دن پہلے کی بات ہے کہ صوبائی دارالحکومت پشاور میں خواجہ سراء کمیونٹی سے تعلق رکھنے والی گل پانڑہ اور اس کی ساتھی پر فائرنگ کر دی گئی جس کے نتیجہ میں گل پانڑہ ہلاک اور اس کی ساتھی زخمی ہو گئی جسے بعد ازاں خیبر ٹیچنگ ہسپتال منتقل کر دیا گیا ۔ پہلے ہی معاشرتی ناانصافی اور ظلم وستم کا شکارخواجہ سراء کمیونٹی کے ساتھ ہونے والا یہ کوئی نیا واقعہ نہیں ہے، انسانی حقوق کی تنظیموں جن میں ہیومن رائٹس واچ نمایاں ہے کے مطابق صرف صوبہ کے پی کے میں ہی 2015ء سے اب تک 1500 خواجہ سرا ؤں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا اور68 کو قتل کیا گیا۔ ایک اور رپورٹ کی مطابق صرف صوبہ کے پی کے میں 2018ء کے دوران 479 خواجہ سراؤں پر حملے کیے گئے جو کہ ایک تشویشناک صورتحال ہے۔ یا د رہے کہ 2017ء کی مردم شماری کے مطابق ہمارے ملک میں اندازاً 10500 افراد خواجہ سراء کمیونٹی سے تعلق رکھتے ہیں۔

یہ اور اس طرح کے اکثروبیشتر رونما ہونے والے المناک واقعات کسی اور ملک کے نہیں بلکہ مملکت خداداد پاکستان کے ہیں جسے اسلام اور اسلامی اصولوں کے مطابق زندگی بسر کرنے کے نام پر حاصل کیا گیا تھا۔ مگر انتہائی رنج و الم کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ بانیان مملکت کے بعد سیاست نے موروثی سیاست کا رخ اختیار کر لیا ، جو کہ اب ہماری رگ و پے میں سرایئت کر چکی ہے اور ہر آنے والے حکمرانوں نے ہم عوام کو کھلونا اور اپنی ذاتی رعایا ہی سمجھا ۔ کسی بھی حکمران چاہے وہ سیاسی ہوں یا غیر سیاسی، نے ہمارے بنیادی انسانی حقوق شہری تحفظ، فوری انصاف اورامن و امان کے حوالہ سے مناسب قانون سازی کی طرف توجہ ہی نہیں دی اور اسی بوسیدہ گلے سڑے تعفن زدہ اوراذیت ناک نظام حکومت کو ہی دوام بخشتے ہوئے اپنے اپنے مفادات کے تحفظ اور موروثی سیاست کے فروغ کو ہی باعث اعزاز خیال کیا۔

میں تمام موجودہ وسابقہ حکمرانوں، اراکین اسمبلی ، نام نہاد غلیظ اور پست ذہنیت اشرافیہ کو چیلنج کرتا ہوں کہ بتائیں تاحال کسی ایک نے بھی صدیوں پرانے تخلیق کردہ بنیادی انتظامی، عدالتی اور قانونی ڈھانچہ کو تبدیل کرنے کی خاطر کوئی پیش رفت کی؟ ہمارا بنیادی پولیس ایکٹ اور تعزیرات پاکستان 1860 ء اور 1861ء پر مبنی ہے جو کہ اس وقت تاج برطانیہ نے برصغیرپر اپنے تسلط کو برقرار رکھنے کی خاطر بنایا تھا اور اس میں بے شمار خامیاں ہیں جن کی طرف اس وقت کے روشن خیال اور ہمدرد انگریز بیوروکریٹس نے نشاندہی بھی کی تھی جو کہ ریکارڈ پر ہے۔

اسلام جو کہ ایک مکمل ضابطہ حیات اور اصول دین کے ساتھ ساتھ عمرانی و ریاستی امورکی انجام دہی کی جانب رہنمائی کرنے والا معتدل مزاج مذہب ہے اور قرآن کریم میں اس ضمن میں رہنما اصول مرتب کر دیئے گئے ہیں جو کہ تا قیامت بنی نوع انسان کی تربیت و رہنمائی کرنے والی کتاب ہے۔ کیا ہمارے مذہبی وسیاسی رہنماؤں نے کبھی سوچا ہے کہ ہم اپنے معاشرے کی کیا تربیت کر رہے ہیں اورمعاشرتی طور پرہم کس جانب عازم سفر ہیں، کیا ان بڑھتے ہوئے واقعات کے عوامل کو جاننے اور ان کے سدباب کے لئے مناسب اقدامات کئے گئے، کیا متعلقہ اداروں نے اس جانب کوئی توجہ اور قابل ذکر منصوبہ بندی بھی کی؟ بالکل بھی نہیں کیونکہ ہمارے حکمران و مذہبی اشرافیہ کی ترجیحات ہی کچھ اور ہیں۔ جب بھی کوئی ایسا واقعہ رونما ہوتا ہے تو متعلقہ ادارے اور حکمران بلند و بانگ دعوے کرتے ہوئے نظر آتے ہیں جبکہ اپوزیشن اس پر سیاست کرتی ہے۔

حالیہ واقعات میں بھی روایتی طور پر ایسا ہی کچھ دیکھنے کو ملا، کبھی ہم نے سوچا ہے کہ جن پر یہ سب بیتتی ہے وہ ساری زندگی کس قدر ذہنی اذیت کا سامنا کرتے ہونگے، ان بچوں اور خواتین پر ہر لمحہ، ہر سانس کیا گزرتی ہو گی۔ کیا وہ ساری زندگی اس ٹراما سے باہر نکل سکیں گے؟ ایسے واقعات یوں ہی نہیں ہو جاتے، اس کے پیچھے کئی ایک عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔ جیسے کہ صدیوں پرانے استحصالی قوانین، ناقص تفتیشی افسران و نظام، بوسیدہ اور گلا سڑا عدالتی نظام، جرائم پیشہ افراد کو مقتدر اور طاقتور طبقہ کی پشت پناہی، جدید ٹیکنالوجی یعنی ڈیجیٹل والیکٹرانک میڈیا کا نامناسب اورغلط استعمال، معاشرتی ہیجان بپا کرنے والے ویڈیوز اور پروگرامز کا فروغ، مناسب تربیت کا فقدان اور ان سے جڑے دیگرعوامل، جب تک ہم ان عوامل کی طرف توجہ دیتے ہوئے ضروری اور مناسب منصوبہ بندی نہیں کرتے، ملکی قوانین کو صحیح معنوں میں قرآن وسنت کے مطابق نہیں ڈھالتے، حکمران اشرافیہ کے محافظ موجودہ نظام حکومت کی جگہ جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ایک مؤثراسلامی نظام حکومت نہیں لاتے، انصاف کی حکمرانی لاگو نہیں کرتے کیونکہ قانون کی حکمرانی میں طاقتور طبقہ قانونی موشگافیوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے یا تو بری ہو جاتا ہے یا پھر مقدمات کا فیصلہ ہی نہیں ہو پاتا۔ اپنی معاشرتی ذمہ داریوں کا احساس نہیں کرتے، انتخابات میں اپنے نمائندوں کا چناؤ کرتے وقت بطور ایک باشعور شہری ہونے کا ثبوت نہیں دیتے اور اہل اور دیانتدار قیادت کو سامنے نہیں لاتے، نام نہاد مذہبی رہنماؤں کی بجائے اہل علم وفکرکی جانب متوجہ نہیں ہوتے، ایسا ہی ہوتا رہے گا۔ اب یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ اس کا ادراک کریں اور اپنی مذہبی، سیاسی اور معاشرتی تربیت اور مکمل اوورہالنگ کا اہتمام کریں ورنہ یہی نام نہاد سیاسی اور مذہبی اشرافیہ ہمیں اپنے ہاتھوں میں کھلاتی رہے گی اور ہم کھیلتے رہیں گے مگر آخر کب تک۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

فرخ نذیر سوشل ایشوز پر لکھنا پسند کرتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.