جنسی درندگی، موثر قانون سازی کی ضرورت

192

ہمارے ہاں المیہ رہا ہے کہ سنگین جرائم میں ملوث افراد قانون کے شکنجے سے بچ نکلنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ ان درندوں کی وجہ سے قوم کو آئے روز جنسی زیادتی جیسے سانحات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ گزشتہ دنوں لاہور سیالکوٹ موٹروے پر ایسا دلخراش واقعہ سامنے آیا جس نے انسانیت کو شرما دیا، ایک مظلوم ماں کے ساتھ اس کے بچوں کے سامنے زیادتی نے ہر انسانی آنکھ کو اشکبار کر دیا۔

سات سال قبل بھی لاہور گجر پورہ واقعہ کے مرکزی ملزم عابد علی ملہی اور اس کے ساتھیوں نے تھانہ فورٹ عباس کے چک نمبر 257 ایچ آر کے عبدالشکور کی بیوی اور بیٹی کو گھر میں گھس کے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا ۔اس واقعہ کا مقدمہ درج ہوا تو ڈی ایس پی نعیم شاہد نے چھاپہ مار کر 48 گھنٹوں میں ملزمان کو گرفتار کیا۔ اس زمانے میں ڈی این اے کروانے کا اتنا رجحان نہیں تھا لیکن ڈی ایس پی نعیم شاہد نے ان سب ملزمان کا ڈی این اے کروا کر محفوظ کردیا ۔ اس مقدمہ میں مضبوط شواہد کے باوجود ملزمان عابد علی وغیرہ عدالت سے ضمانتوں پر رہا ہوگئے جنہوں نے بعد میں دباو ڈال کر ورثا کو صلح پر مجبور کردیا۔

اب جبکہ لاہور موٹروے واقعہ کے ملزمان کی نشاندہی ہوئی تو اس کا کریڈٹ اس پولیس آفیسر کو جاتا ہے جس نے سات برس پہلے مرکزی ملزم عابد علی ملہی کا ڈی این اے کروا کے ریکارڈ میں محفوظ کیا تھا، جس کی وجہ سے اس کے بلڈ کا ڈی این اے میچ کر گیا وگرنہ شاید پچاس سال بھی لگ جاتے تو اس سانحہ کے ملزم کبھی قابو نہ آتے اور پولیس ابھی تک ہوا میں تکے بازی کر رہی ہوتی۔ ملزم عابد علی نے لاہور سیالکوٹ موٹروے پر کھڑی خاتون کی گاڑی کا شیشہ توڑا تو ملزم کا ہاتھ زخمی ہوا اور ملزم کا خون متاثرہ خاتون کی گاڑی کے شیشے پر لگا، جس کا ڈی این اے ٹیسٹ عابد علی کے ڈی این اے سے میچ ہو گیا۔

موٹر وے پر ایک خاتون مسافر کے ساتھ جو گزری اہل پاکستان رنجیدہ و شرمندہ ہیں۔ یہ کوئی پہلا یا آخری واقعہ نہیں، ہوس کے بھوکے، گھٹن زدہ اور قانون سے عاری معاشرے میں یہ آئے روز ہوتا ہے۔ بدنامی کے خوف سے اکثر ایسے واقعات چھپا لیے جاتے ہیں۔ اسی نوع کے حادثات کا شکار ہونے والی کتنی ہی عورتیں خاموشی سے موت کی چادر اوڑ ھ لیتی ہیں، نہ کوئی قاضی القضا کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے اور نہ حاکم شہر کے درپر دستک دیتا ہے۔

پاکستان میں خواتین کی تعداد کل آبادی کا تقریباً 52 فیصد ہے لیکن بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں عورت کا وقار پامال ہو رہا ہے۔ عورتوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے۔ معصوم بچیاں ہوں، جوان لڑکیاں ہوں یا پختہ عمر کی مائیں کسی کی عزت اور زندگی محفوظ نہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق تونسہ میں دو بچوں کی ماں سے بچوں کے سامنے ریپ، حافظ آباد میں6افراد کی خاتون سے اجتماعی زیادتی، پنڈ دادنخان میں3 افراد کی لڑکی سے زیادتی، جہلم میں امام مسجد کی 6 سالہ بچی سے زیادتی، لاہورمیں 9 سالہ بچے سے دکاندار کی زیادتی، ستیانہ چک 33 گ ب میں 10سالہ بچے سے زیادتی، سمندری چک 487 گ ب میں 7 سالہ بچے سے زیادتی، فیصل آبادمیں 19 سالہ لڑکی کو نشہ آور مشروب پلاکر زیادتی، گوجرانوالہ میں سوتیلے باپ کی بیٹی سے زیادتی، تاندلیانوالہ میں 4سالہ بچی اور 15 سالہ لڑکی سے زیادتی کی کوشش، سانگلا ہل میں 8 سالہ بچے سے زیادتی کی کوشش ، یہ سب واقعات پاکستان کے ایک صوبے پنجاب میں ایک دن میں ہوئے ہیں۔

آج معاشرے میں پیدا ہونے والے اس بگاڑ کے سدھار کے لیے کچھ کرگزرنے کی ضرورت ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ ان گھسے پٹے، بے سرو پا قوانین کے ساتھ وہی سلوک کیا جائے جو ہم آج مجرموں کے ساتھ کرنا چاہتے ہیں۔ اگر سات سال قبل لاہور گجر پورا واقعہ کے مرکزی ملزم عابد علی کو فورٹ عباس زیادتی کیس میں سزا مل جاتی تو درجنوں خواتین اس کے ظلم کا شکار بننے سے بچ جاتیں۔ آج ضروری ہے کہ خواتین اور بچیوں کو اپنے بے رحمانہ وجود تلے روندنے والے سفاک قاتلوں کا آپریشن کر کے مردانہ صفات سے محروم کرکے انہیں یوں چھوڑ دیا جائے کہ وہ زندگی بھر لوگوں کیلئے عبرت بن جائیں یا ایسے وحشیانہ جرائم میں ملوث افراد کو چوک پر لٹکا کر عبرت کا نشان بنایا جائے تاکہ ایسے قبیح مجرمان پر خوف طاری ہو اور وہ عبرت حاصل کریں۔ اگر ریاست مدینہ کا دعویٰ کرنے والے ہمارے حکمران عالمی طاقتوں کے دباﺅ سے نکل کر پاکستان میں مندرجہ بالا قوانین نافذ کرنے کا اعلان کردیں تو نہ صرف خواتین کو تحفظ مل جائے گا بلکہ مزید مؤثر قانون سازی سے ہمارا پورے کا پورا معاشرہ سدھر سکتا ہے۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

رانا اعجاز سیاسی و سماجی موضوعات پر لکھنا پسند کرتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.