کیا ہم انسان نہیں؟

355

وہ مسلسل بھاگے جا رہی تھی اور 2 اوباش جوان اس کا ایسے پیچھا کر رہے تھے کہ جیسے وہ ان کا شکار ہو اور ہاتھ آتے ہی بھنبھور دینا چاہتے ہوں۔ وہ کتنا بھاگتی آخر تھک کر گر گئی اور وہ اوباش اس پر ٹوٹ پڑے۔ کوئی لاتوں سے تو کوئی گھونسوں سے اسکی درگت بنا رہا تھا۔ لوگوں کا جم غفیر اکٹھا تو ہو گیا لیکن اوباشوں کے ڈیل ڈول دیکھ کر کسی کو معاملے میں کودنے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی۔ میں دور کھڑا یہ دردناک منظر دیکھ رہا تھا۔ جب مجھ سے رہا نہ گیا تو میں نے مجمع چیرتے ہوئے ان میں سے ایک شخص کے بازو کو پوری قوت سے کھینچا. غصے میں‌ میرے منہ سے نکلا، ‘‘تمہیں شرم نہیں آتی اس بیچاری لڑکی کے ساتھ غیر انسانی سلوک کرتے ہوئے ۔’’ یہ سن کر اس جوان نے پہلے تو میری طرف خون خوار نظروں سے دیکھا اور پھر یکدم اسکے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی اور وہ طنزاً بولا کہ‘‘ پہلی بات تو یہ کہ یہ لڑکی نہیں ‘‘ ہیجڑا ہے ہیجڑا’’ اور دوسری بات اس کا قصور یہ ہے کہ اسے ہم نے اپنے بھائی کی شادی پر مجرے کا کہا تھا لیکن یہ آنے سے مسلسل انکاری ہے’’۔ یہ سن کر وہاں کھڑا ہر شخص قہقہے لگانے لگا اور میں بے بس قدموں سے وہاں سے چپ چاپ چل پڑا، یہ خیال ذہین کو کچوکے لگا رہا تھا کہ ہم اتنے ظالم کیوں ہوتے جا رہے ہیں، انسانیت نام کی چیز آخر لوگوں میں ختم کیوں ہوتی جا رہی ہے۔۔!

قدرت جب کسی قوم کی تباہی کا ارادہ کرتی ہے تو سب سے پہلے اس کا اخلاق تباہ کرتی ہے۔ تعلیم و تربیت سے کوسوں دور اخلاقی انحطاط کی بد ترین شکار قوم کو پھر فرشتے بھی چاہیں تو خدا کے عذاب سے بچا نہیں سکتے ہیں۔ تاریخ کے طالب علموں کو اس بات کا بخوبی علم ہو گا کہ پچھلی اقوام میں فقط ایک اجتماعی گناہ سر زد ہونے پر ان پر خدا کے ایسا بھیانک عذاب آئے کہ وہ نہ صرف لرز کر رہ گئیں بلکہ تباہی کا شکار ہو کر عبرت کی داستاں بن گئیں۔ یہ واقعات تاریخ میں اس لئے محفوظ ہیں کہ ہم ان سے نصیحت پکڑیں اور خدا کی مخلوق پر ظلم سے باز رہیں۔

وہ مخلوق جسے کچھ لوگ ہیجڑا، زنخا، خسرا تو کچھ ترس کھا کر انہیں خواجہ سرا، مخنث، شی میل اور ٹرانس جینڈر کے القابات سے نوازتے ہیں، انکے اوپر صدیوں سے ظلم کے پہاڑ ٹوٹتے رہے ہیں۔ پتھروں کے دور میں ہونے والی ناانصافیوں پر کیا تبصرہ ہو، اکیسویں صدی کے جدید تہذیبی دور میں بھی ان کے ساتھ انسانیت سوز ظلم پر جتنا سینہ پیٹا جائے اتنا کم ہے۔

پاکستان دنیا کی دوسری بڑی اسلامی ریاست ہے لیکن ہمارا معاشرہ جو اب تک عورتوں کے حقوق ماننے سے سرے سے انکاری ہے تو ایسے معاشرے میں اس بے چاری مخلوق کے حقوق کی حفاظت کا ذکر کیا کرنا۔ ریاست تو درکنار انہیں اپنی کوکھ سے جنم دینے والی مائیں بھی مردوں کے دباؤ پر ان کے ننھے وجود قبول کرنے سے کتراتی ہیں۔ یا تو انہیں پیدا ہونے کے بعد ہی گلا دبا کر کچرا کنڈی میں پھینک دیا جاتا ہے یا پھر معاشرے میں پہلے سے موجود ان سے ملتے جلتے انسان انہیں اپنے ساتھ لے کر چلے جاتے ہیں اور بڑے ہونے پر ایسا بچہ یا تو شادی بیاہ کی تقریب میں مجرے کرتا نظر آتا ہے یا پھروہ شیطان صفت انسانوں کی جنسی تسکین کا زریعہ بنتا رہتا ہے۔

سال2017 میں کی گئی مردم شماری کے مطابق پاکستان میں ٹرانس جینڈر کی آبادی 10،418 تھی جو اس وقت کی مجموعی آبادی کا 0.005 فیصد بنتا ہے۔ پنجاب میں 6،709 ٹرانسجینڈر لوگ رہتے ہیں۔ سندھ میں 2،527 ، خیبر پختونخواہ میں 913 ، اسلام آباد میں 133 ، بلوچستان میں 109 اور وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) میں 27۔ یقیناً موجودہ سال میں جہاں مردوں اور عورتوں کی آبادی میں اضافہ ہوا ہے وہی انکی بھی آبادی بڑھی ہوگی۔

ہمارے معاشرے میں رواداری، ایک دوسرے کا احساس، برداشت ختم ہوتی جا رہی ہے، بہت سے لوگ مغربی تہذیب کی بے راہ روی کا تزکرہ کرتے نہیں تھکتے لیکن ہمیں وہاں اتنا احساس تو نظر آتا ہے جہاں ایک شی میل سکون سے نوکری کرتی ہے، عزت سے ویسے ہی زندگی گزارتی ہے جیسے کوئی بھی عام مرد اور عورت۔ لیکن اس جدید دور میں بھی ہم خواجہ سراوں کی جسمانی ساخت کی بنا پر انہیں طنز و تضحیک کا نشانہ بناتے ہیں۔

ایسے بد ترین حالات میں پاکستانی ٹرانس جینڈر عائشہ مغل کا سال 2020 کے لئے اقوام متحدہ کی طرف سے سب سے کامیاب ٹرانسجینڈر شخص قرار دینا پاکستان کےلئے ایک اعزاز سے کم نہیں۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اگر اس مظلوم کمیونیٹی کو مواقع فراہم کئے جائیں تو یہ بھی ہماری طرح معاشرے میں اپنا مقام بنا سکتے ہیں۔

پاکستان میں موجود انسانی حقوق کی غیر سرکاری تنظیموں نے بھی ٹرانس جینڈرز کو نظرانداز کیا ہے۔ 2013 میں، سپریم کورٹ نے ٹرانس جینڈر کو جو حقوق دیئے تھے وہ اب تک نافذالعمل نہیں ہوئے۔ حکومتِ وقت نے اس کمیونیٹی کو قومی دھارے میں لانے کے لئے ایک موہوم سی کوشش تو ضرور کی ہے جس میں ان کے لئے ہیلتھ کارڈ کا اجراء اور شناختی کارڈ میں اس جنس کا خانہ رکھنا شامل ہیں۔ لیکن کیا ان اقدامات سے اس مظلوم کمیونٹی کے زخم مندمل ہو جائیں گے؟ بالکل نہیں۔ان کے لئے ایسے بڑے اقدامات کی ضرورت ہے جو انکی برسوں کی محرومیوں کو کم کر سکیں جس میں انکی صحت کے ساتھ ساتھ تعلیم و تربیت کا نظام ترتیب دینا، انہیں روٹی، کپڑا، مکان دینا اور انکی جان و مال کی حفاظت اور انہیں باعزت روزگار فراہم کرنا شامل ہیں۔

خلق میں سب سے مختلف ہی، ماجرا ہے میرا
مجھے بس اتنا بتا دو، قصور کیا ہے میرا؟

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

عالم سید سیاسی و معاشرتی موضوعات پر لکھنا پسند کرتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.