عورت مظلومیت کی داستان‌…

348

عورت ہمیشہ مظلومیت کی داستان رہی ہے، ہر دور میں اس کا استحصال ہوا۔ حوا کی بیٹی پر ظلم ازل سے شروع ہوا، تاحال جاری ہے، نہ جانے کب ختم ہو گا۔ خدا تعالیٰ  نے جتنا عورت کو نازک بنایا ہے اتنا ہی زیادہ انسانی معاشرے میں ظلم و ستم ڈھایا جاتا ہے ۔ عورت ماں، بہن، بیٹی اور  بیوی کی شکل میں قدرت کا خوبصورت تحفہ ہے لیکن عورت پر ظلم اس کے گھر سے ہی شروع ہو جاتا ہے۔

جہالت سے بھرے معاشرے میں سب سے پہلے باپ، عورت کا استحصال کرتا ہے، بیٹوں کے مقابلے میں بیٹی کو کم اہمیت دی جاتی ہے۔ کم تر کپڑے پہنائے جاتے ہیں، اول تو سکول میں داخل نہیں کیا جاتا، کر بھی دیا جائے تو غیر معیاری سکول لڑکی کا مقدر ٹھہرتا ہے۔ معاشرے کی ستم ظریفی کہ باپ کو ہر وقت بیٹی سے متعلق خوف طاری رہتا ہے جس کی وجہ سے اس پر پابندیاں لگاتا ہے کہ گھر سے  باہر نہیں نکلنا۔ کسی نہ کسی طرح سکول تو بھیج دیا لیکن پھر کالج و  یونیورسٹی جانے سے روکتا ہے، لڑکی کو کہا جاتا ہے اس نے زیادہ  پڑھ لکھ کر کیا کرنا ہے، ہانڈی روٹی ہی کرنی ہے تو پھر کالج  کیوں جائے۔ ان حالات کی وجہ سے عورت بیچاری کو  معاشی طور پرمرد پر ہی  انحصار کرنا پڑتا ہے، وہ ساری زندگی خود کفیل نہیں ہو پاتی، معاشرے کا ظلم سہتی رہتی ہے۔

دوسرا جو  عورت پر ظلم کرتا ہے وہ اس کا بھائی ہے، وہ چاہتا ہے گھر میں اس کی  بات کو اہمیت دی جائے۔ جب عورت کی شادی ہو جاتی ہے تو اس کا استحصال اس کا شوہر کرتا ہے، اس کو گھر تک محدود کر دیتا ہے اسکو صرف بچے پیدا کرنے اورگھر کے کام کاج  تک محدود کر دیتا ہے اس کے علاوہ کچھ اور سوچ بھی نہیں سکتی۔

ہمارا ملک پاکستان خالص مذہب کے نام پر بنا ہے، اس کا نظام اور آئین مذہب اسلام کو مد نظر رکھ کر بنایا گیا ہے جس میں عورت کے حقوق بھی واضح طور پر درج اور ملک میں رائج بھی ہیں۔ اس کے باوجود ہمارے معاشرے میں عورت  پر مظالم ڈھائے جاتے ہیں، وہ ہر ظلم برداشت کر لیتی ہے  لیکن جو سب سے زیادہ بھیانک ظلم ہے وہ جنسی زیادتی ہے جسے وہ کبھی نہیں بھولتی  اور وہ اسکے دل ودماغ پر نقش ہو جاتا ہے۔ وہ منظر ہمیشہ اس کی نظروں کے سامنے رہتا ہے بلکہ زیادتی اس کی زندگی میں سیاہ دھبہ ہوتا ہے  جس کو وہ کبھی چاہ کر بھی بھول نہیں پاتی۔ یہ سوچ کینسر کی طرح ہوتی ہے جو اسے گھن کی طرح چاٹ جاتی ہے۔

دنیا بھر کی طرح ہمارے ملک میں بھی زیادتی کے بہت کیسسز ہوتے ہیں، ہر عمر کی خواتین خصوصا چھوٹی بچیوں اور بچوں کے ساتھ ریپ ہوتے ہیں۔ کچھ رپورٹ ہو جاتے ہیں، کچھ ندامت کو چھپانے کے لیے رپورٹ نہیں ہوتے۔ زیادتی کا عمل ہی اتنا خوفناک ہے کہ اکثر بچوں اور بچیوں کو زیادتی کے بعد مار دیا جاتا ہے۔ بعض لوگ مار کر جلا دیتے ہیں، بعض لوگ ایسے ہی کہیں پھینک جاتے ہیں۔

ماضی میں ریپ کے دوایسے واقعات ہیں جوسامنے آئے، ان کے ٹرائل چلے اور سزائیں بھی ہوئیں، ایک بڑا مشہور واقعہ مختاراں مائی کا ہے جو بیرون ملک تک چلا  اور مختاراں مائی نےاس واقعہ کے بعد پوری دنیا دیکھی اور این جی او بھی بنائی لیکن بعد میں سارے کے سارے لوگ رہا ہوگئے۔

دوسرا واقعہ قصور کا ہے جس میں ایک چھوٹی سی بچی زینب کا ریپ ہوا، اس وقت کی حکومت نے مجرم کو پکڑا اور عدالت نے سزائے موت کی سزا دی جس پر عملدرآمد ہوا اور اس شخص کو پھانسی ہوئی۔

ان سزاؤں کے باجود بھی جرم رکا نہیں، تاحال جاری ہے، حوا کی بیٹیاں ریپ ہورہی ہیں۔ واقعات ہیں کہ رکنے کا نام نہیں لے رہے۔ حال ہی میں ریپ کا واقعہ جو سب کو پتہ ہی ہے۔ ایک عورت اپنے بچوں کے ساتھ لاہور سے اپنے گھر واپس جارہی تھی، سیالکوٹ موٹروے پر لاہورکے علاقے گجرپورہ  پر یہ بھیانک واقعہ پیش آیا کہ اچانک اس عورت کی گاڑی کا پٹرول ختم ہوا۔ گاڑی روڈ پر کھڑی کرکے خاتون نے پہلے موٹروے ہیلپ لائن پر کال کی کہ میری گاڑی کا پٹرول ختم ہو گیا ہے میری مدد کی جائے لیکن موٹروے والوں نے کہا یہ علاقہ ہماری رینج میں نہیں ہے ہم نہیں آ سکتے۔ پھر اس بدقسمت عورت نے اپنے گھر کال کی اس کے گھر والوں کو پہنچنے میں دیر کیا ہوئی۔ رات بہت ہو گئی تھی اسی دوران دولوگ جو موٹر سائیکل پر تھے  انہوں اس گاڑی پر دھاوا بول دیا۔ بد قسمت عورت نے گاڑی کو لاک کیا ہوا تھا تو ان لوگوں نے شیشے توڑ کر اس عورت باہر نکالا۔ پہلےنقدی پیسے اور زیور لوٹے پھر انہوں نے عورت کو اکیلا پا کر قریب ہی جنگل میں لے گئے۔ جنگلی بھیڑیوں کی طرح اس کے بچوں کے سامنے عزت لوٹی۔ یہ ایک خوفناک واقعہ ہے اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔

حال ہی میں سیالکوٹ موٹروے پر سفر کا اتفاق ہوا، پوری موٹروے پر کوئی پٹرول پمپ نہیں ہے نہ ہی کوئی ریسٹ ایریا ہے۔ سڑک کے دونوں اطراف کھیت ہی کھیت ہیں، کوئی آبادی نہیں ہے۔ چھوٹےچھوٹے گاؤں راستے میں آتے ہیں۔ اگر گاڑی خراب ہوجائے کوئی سہولت نہیں ہے۔ جنگل کا سماں ہے۔ پوری موٹروے پر کوئی ایک لائٹ تک نہیں، نہ ہی کوئی کیمرہ لگا ہوا ہے جو ڈاکوؤں اور لٹیروں کے لیے آئیڈیل موقع ہے۔ آپ کو کوئی موٹروے پولیس کہیں نہیں نظر آئے گی نہ ہی کوئی پنجاب پولیس کی چوکی ہے۔ ایسا لگتا ہے آپ پنجاب کے علاقہ غیر میں سفر کر رہے ہیں۔

حکومت پاکستان کو چاہیے کی اس واقعہ سے سبق سیکھے اور پوری موٹروے پر لائٹس اور کیمرے لگانے چاہیں۔ جب تک موٹروے پولیس نہیں آتی، پنجاب پولیس کو نگرانی کی ڈیوٹی سونپی جائے تاکہ آئندہ ایسے خوفناک واقعات رونما نہ ہوں۔

اس واقعہ کے بعد سی سی پی او لاہور کا بیان انتہائی قابل مذمت ہے، جس طرح انہوں نے کہا کہ عورت کو رات کے وقت اکیلے سفر نہیں کرنا چاہیے یہ کوئی منطق نہیں۔ پولیس کا کام عوام کا تحفظ ہے، رات ہو یا دن، سکیورٹی ایسی ہونی چاہئے کہ عورت بے خوف و خطر کہیں بھی آ جا سکے۔  عمران خان صاحب کو چاہیے کہ اپنے وزراء کی زبانیں   بھی بند کرائیں، اب وہ اپوزیشن میں نہیں۔ وہ حکومتی رویہ اپنائیں اور عوام کی خدمت کریں۔

پاکستان کی پولیس میں اصلاحات کی ضرورت ہے، عام لوگوں کا واسطہ تھانوں سے پڑتا ہے، اس لیے تھانوں کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ تھانوں کو عوام دوست بنانا ہوگا تاکہ عام آدمی تھانے سے جانے پر ڈر کا شکار نہ ہو۔ حکومت کو چاہیے کہ پولیس کو عوام کی خدمت کی ٹریننگ دی جائے جس سے معاشرے میں جرائم کم ہوں گے۔ پولیس وہ واحد ادارہ ہے جس کا براہ راست عوام سے تعلق ہے۔ بیرون ممالک میں پولیس عوام دوست ہوتی ہے، لوگ بلا خوف تھانے جاتے ہیں جس کی وجہ سے وہاں کرائم ریٹ کم ہے۔

وزیراعظم عمران خان کو چاہیے کہ ان کا انتخابات سے پہلے پولیس سے متعلق جو وژن تھا کہ عوام بلا خوف تھانے جائیں گے، پولیس گردی نہیں ہوگی، ان اصلاحات کو عملی جامہ پہنانا ہو گا۔ سیاسی تبادلے اور بھرتیاں ختم کرنا ہوں گی، وی آئی پیز کی سکیورٹی سے ہٹا کر عوام کو تحفظ دینے کیلئے پولیس استعمال ہونی چاہئے۔  حکومت کو 2 سال مکمل ہو گئے ہیں اب وقت آ گیا ہے کہ عمران خان اپنے دعووں کو سچ کر دکھائیں۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.