وہ جو بنِ کھلے مُر جھا گئے

336

(کلام اُن بچوں کے نام جنہیں زیادتی کا  نشانہ بنانے کے بعد بے دردی سے مارردیا گیا)

تتلیوں کے رنگ سی

جگنوؤں کے پنکھ سی

وہ معصوم تھی ۔ ۔ ۔ بہت چھوٹی

کچھ پانچ، چھ برس کی

بسے خواب تھے آنکھوں میں

لہجے میں، سانسوں میں

جھلکتے عزم تھے، ارادے بھی

مستقبل کی باتوں میں

سفر زیست کا، تھا باقی سارا کا سارا

ابھی تو رکھا تھا قدم ہی پہلا،

زندگی کی راہوں میں

ابّا کی تھی لاڈلی

امّاں کی تو جان تھی!

تھا نور اُسکے چہرے پر

فرشتوں کی سی مسکان تھی

دن تھے روشن کیا خوب چمکتے

جو تھے گزرتے،

نمازیں، قران، نعتیں پڑھتے

پھر رات آتی

تو چاند کو تکتے،

تارے گنتے،

سو جاتی تھی وہ باتیں کرتے

تھا چھوٹا سا بستہ اُسکا

تھیں کتابیں جسمیں، قرینے سے رکھی

کلاس میں پڑھتے ہر بچے سے

تھی دوستی اُسکی بہت ہی پکّی

پھر اُنہی دوستوں کو

جب پتا یہ ایک دن چلا

روند دیا اُس پھول کو کسی نے

چھین کر خوشبو اور رنگ سارے

مار کر بے دردی سے

جسم مردہ اسُکا، کہیں پھینک دیا

سسکیاں تھیں،

بندھی ہچکیاں تھیں

آہیں تھیں ہر سُو، شور غم کا مچا تھا

شام ڈھلے اُس گھر میں

عجب اک ماتم سا بپا تھا

ننھّی پری کا لاشہ

تھا نظروں کی سب کے سامنے

بے سُدھ وجود ماں کا

بڑھتی تھیں عورتیں تھامنے

ہر آنکھ سے گرتا آنسو

دل چیرے جا رہا تھا

نہ دِکھا باپ گھر میں تو بتایا کسی نے،

بستی خاموشاں میں

وہ کھڑا لرزتے قدموں پر

قبر بیٹی کی بنوا رہا تھا۔۔۔،،

ہر آنکھ سے گرتا آنسو

دل چیرے جا رہا تھا

کاشف شمیم صدیقی شاعر ہیں اور کالم نگار بھی، کراچی یونیورسٹی سے معاشیات میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کر چکے ہیں، شعبہ صحافت سے وابستگی کو کاشف اپنی زندگی میں پیدا ہونے والی مثبت تبدیلیوں کا موجب گردانتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.