2030 کا پاکستان

367

خوش اخلاقی، خوش خلقی اور علم و ادب سے لبالب بھرا بلکہ کسی حد تک چھلکتا ہوا، ہمارا معاشرہ قابل تحسین اور قابل تقلید ہے۔ آج اگر اقوام عالم علم و ادب، سائنس و ٹیکنالوجی اور فنون لطیفہ میں من و عن ہماری تقلید میں ہیں تو ظاہر ہے اس کی کوئی وجہ بھی ہے۔ دامن نچوڑ دیں تو فرشتے۔۔۔۔ ہم کسی کام کو اگر ایک مرتبہ شروع کر لیں تو اسے پرفیکشن تک لے جائے بغیر چین سے نہیں بیٹھتے۔ 2020 سے لیکر آج تک ہم نے جو ترقی کی ہے دنیا میں کہیں اس کی مثال نہیں ملتی اور نہ ہی آنے والے وقتوں میں کبھی ملنی ہے کیونکہ جو کچھ ہم نے کر دکھایا ہے وہ کسی اور کے بس کی بات نہیں۔ یہ ہم ہی تھے جو مشکلات کے اک سمندر سے کامیاب باہر نکلے اور جو جو قربانیاں اس کے لیے ہم نے دی ہیں وہ دوسری اقوام کیلئے یقینا قابل تقلید ہیں۔

سیاست کو ہم خدمت کے ایسے اوج پر لے گئے کہ کسی جگہ اگر دو لوگ، دو جماعتیں یا دو قومیں بیٹھی ہوں اور اگر ذکر سیاستدانوں کا چھڑ جائے تو شائد پورا دن یا پوری رات بھی کم پڑ جائے ان کا ذکر سمیٹتے سمیٹتے۔ اگر تذکرہ صرف گذشتہ ایک دہائی کے موجود اور غیر موجود سیاستدانوں کا بھی کیا جائے تو حیرت و تحسین بھری گفتگو کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہوتا ہے جس کی روانی میں، اور جن کے اوصاف کے بیان میں، وقت خس و خاشاک کی طرح ہمیں بہائے لیے جاتا ہے۔ گفتگو کا اختتام ان ہی حسرت اور یاس بھرے الفاظ پر ہوتا ہے کہ آج وقت اور لفظ دونوں کم پڑ گئے کہ موضوعِ بحث ہی ایسا تھا۔ یو ۔ٹرن کی ایجاد، پائے اور سیاست، شہید کی وصیت، سب سے پہلے پاکستان، میں ہوتا نہ اگر اس ملک کا وزیر اعظم، لندن اور میں، یہ سب باتیں ماضی کا قصہ ہوئیں۔ اب وسیع تر قومی مفاد میں شائستگی، نفاست اور خدمت خلق کا وہ نرالا انداز ہے کہ جس کا تذکرہ اگر ایک مرتبہ چھڑ جائے تو حاصل بحث مہینوں بھی پورا نہ ہو اور اس پر مستزاد کہ زبان ہماری عوام کی ہو۔ یقینا ہم اپنے سیاستدانوں کو کچھ ایسا ہی سمجھتے ہیں کہ دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضو کریں۔

پی۔آ ئی ۔اے نہ صرف یہ کہ ہماری قومی ائرلائن ہے بلکہ ہماری قومی امنگوں، جذبوں اور رویوں کی عکاس بھی ہے۔ یقینا جس کسی نے بھی ایک مرتبہ ان کی خوبصورت میزبانی کا لطف اٹھایا ہے وہ عمدہ اور نفیس روایات کی حامل ائر ہوسٹسس، زندہ دل اور بلند اخلاق کریو، کرنچی کرنچی کھانوں کا ذائقہ اور پائلٹ حضرات کی سیدھی پروان کو کیسے بھول سکتے ہیں۔ معذرت کے ساتھ عرض ہے کہ میں نوجوان اور نوخیز جہازوں کا تذکرہ تو گم ہی کر بیٹھا۔ اندر کی خبر یہ ہے کہ امریکہ کی قومی ائر لائن، یونایٔٹڈ ائر لائن نے اپنے سٹاف کی پروفیشنل تربیت اور عمدہ کارکردگی اور پھر اس کارکردگی میں تسلسل کے لیے پی۔آئی ۔اے سے رابطہ کیا ہے، نہ صرف یہ بلکہ ایمریٹس اور اتحاد ائر لائن نے جدید پاکستانی طیارے لیز پر لینے کے آرڈر بھی دے ڈالے ہیں۔

خبر یہ ہے کہ ٹوگو، لائیبیریا، اردن، مصر، مراکش، لیتھوینیا، لٹویا، جارجیا، پرتگال، موریشس، چاڈ، ارجنٹینا، برازیل اور دیگر 22 ممالک کے وفود پاکستان پہنچ چکے ہیں۔ ان کے یہاں آنے کا مقصد پاکستانی کرکٹ ٹیم سے اس کھیل کی مہارتیں سیکھنا نہیں بلکہ پاور اور انرجی سیکٹر میں ہونے والی تازہ ترین پیش رفت کو جاننا، پاکستانی معاشی پروگرام سے سیکھنا اور ہماری وزارت سائنس کے تحت چلنے والے منصوبوں اور دفاعی انڈسٹری کے بڑے بڑے سودے کرنا ان کے ‘ٹاپ ایجنڈا’ میں شامل ہیں۔ پاکستان میں ”پاور اینڈ انرجی ایکسپو” کا اہتمام پاکستانی کمیشن برائے پاور اینڈ انرجی اور واپڈا نے کیا ہے۔ اقوام متحدہ کی تازہ رپورٹ میں پاکستان کی دنیا بھر میں دوسری ابھرتی معیشت کے اعدادوشمار کا جائزہ لینے کے بعد ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کیلئے مزید مالی تعاون کی درخواست کی گئی ہے۔

ہمسایہ ملک بھارت نے مسئلہ کشمیر پر چینی ثالثی قبول کرتے ہوئے اپنے مقبوضہ علاقے (مقبوضہ کشمیر) اگلے سال پاکستان کے حوالے کرنے پر غیر مشروط آمادگی ظاہر کی ہے، پاکستانی جنگی و دفاعی صلاحیت کا جہاں دنیا بھر میں لوہا مانا جاتا ہے وہاں بھارت نے بھی پاکستان کا بڑھتا عالمی اثرورسوخ دیکھتے ہوئے کشمیر سمیت تمام باہمی تنازعات پُرامن طریقے سے سلجھانے کی درخواست کی ہے جبکہ مشرقی پنجاب اور ملحقہ شہروں پر مشتمل خالصتان (مجوزہ نئی سکھ ریاست) کے خدوخال کی تشکیل سے متعلق پاکستانی دفتر خارجہ سے مدد بھی مانگی ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان نے گزشتہ ماہ بھارتی حکومت پر زور دیا تھا کہ جنوبی ایشیا کی تیز تر ترقی میں رکاوٹ تمام تر علاقائی تنازعات فوری سلجھائے جائیں اور خصوصا مسئلہ خالصتان جلد نمٹایا جائے جو پاکستانی پنجاب میں صنعتوں کیلئے سود مند ماحول دیکھتے ہوئے یورپی و امریکی، کینیڈین اور آسٹریلین صنعتکاروں کی سبسڈائزڈ سرمایہ کاری کیلئے خاص کشش ہونے کے باوجود مشکل صورتحال پیدا کئے ہوئے ہے۔ نیز بھارت میں زیادہ آبادی والی مسلم ریاستوں پر مشتمل نیا ملک بنانے کے قانونی تقاضے پورے کرنے کیلئے بھارتی آئین میں ترمیم کی قرارداد لوک سبھا میں اگلے ماہ پیش کی جائے گی، یاد رہے پاکستانی وزیر خارجہ نے گزشتہ ہفتے اسلام آباد کے دورے پر آئے مسلمانانِ ہند کے وفد کو نیا ملک قائم کرنے کیلئے مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی تھی۔

مزید پاکستانی تازہ ترین یہ کہ سعودی حج منسٹری کے اہلکار بھی پاکستانی نظام کی شفافیت، انتظامی صلاحیتوں کی تربیت اور اس عمل میں حاصل ہونے والے پیسے کے بہترین مصرف کے بارے میں ٹریننگ کے لیے آج کل اسلام آباد میں جاری سالانہ تربیتی پروگرام میں شریک ہیں۔ یقینا اپنے ملک سے 4 مہینے کی دوری انہیں اس دورے سے حاصل ہونے والے علم اور آگاہی کے مقابلے میں کچھ بھی محسوس نہیں ہوئی ہو گی۔

سکاٹ لینڈ یارڈ نے ” گلوبل سائبر سکیورٹی اینڈ ورک فورس بلڈنگ” کے حوالے سے جو ورکشاپ کروانی ہے اس کے چیف ” فیسیلیٹیٹر” کے طور پر ”دھوپ سڑی” کے ایس ایچ او کا نام فائنل کر لیا گیا ہے۔ موصوف کو سکاٹ لینڈ کے نظام میں موجود خامیوں کی نشاندہی اور ان کی اصلاح کی اضافی ذمہ داریاں بھی سونپی گئی ہیں۔ ان کے نائب سکاٹ لینڈ یارڈ اور پاکستانی پولیس کے درمیان فوکل پرسن کا کام انجام دیں گے۔

اس مہینے کے آخر میں وزارت اطلاعات و نشریات اور پاکستان فلم انڈسٹری کے تعاون سے بین الا اقوامی فلم فیسٹیول کا آغاز ہو رہا ہے۔ حصہ لینے والے ایک سو اٹھاسی ممالک میں سے 88 ممالک کے وفود پاکستان پہنچ چکے ہیں۔ حسب روایت فیسٹول کا آغاز، حصہ لینے والی اقوام کوفلم میکنگ کی ٹیکنیک اور نزاکتوں سے آگاہ کرنے کے لیے، پاکستانی فلم سے ہو گا۔ فیسٹول کے اختتام پر شرکأ کو فلم میکنگ اور ڈاکیومینٹری فلمز بنانے کے حوالے سے نئی ریسرچ پر مشتمل خصوصی مواد بھی دیا جائے گا۔

ناول کی 22 نئی اقسام، شاعری میں ” توقف” کے استعمال اور جدید کہانی نگاری کے موضوعات کی وضاحت اور تحقیق کے جدید معیارات بارے کیمبرج یونیورسٹی کی ورکشاپ کروانے کے لیے پہلا پاکستانی وفد کل انگلینڈ پہنچا ہے۔ اس ورکشاپ کا اہتمام کیمبرج یونیورسٹی کی خصوصی درخواست پر کیا جا رہا ہے۔ پاکستانی وفد کا وقت بچانے کی غرض سے ورکشاپ کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ جب پہلا وفد اپنا کام مکمل کر لے گا تو دوسرا وفد جدید کلاسیکی ادب اور تحقیق و مثبت تنقید کے موضوع پر مقالہ جات کے عالمی مقابلے کا افتتاح کرے گا۔ اس سے پہلے “لیڈ پاکستانی فیسیلیٹیٹر” کی یہ درخواست کہ وقت کو بچانے کے لیے اس ورکشاپ کا اہتمام آن۔لائن کر لیا جائے، اقوام عالم نے مشترکہ طور پر رد کرتے ہوئے بالمشافہ ورکشاپ کی ہی درخواست کی تھی۔ پاکستانی وفد علم و ادب کے فروغ میں اپنا کردار ادا کرنے کی غرض سے اس دورے کے تمام اخراجات نہ صرف یہ کہ خود اٹھا رہا ہے بلکہ اس سے ہونے والی تمام تر آمدنی ایدھی فاؤنڈیشن کو عطیہ بھی کر رہا ہے۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

جنید منصور مثبت تنقید کے ذریعے تبدیلی لانے کے متمنی ہیں، سیاست و سماج پر لکھنے کے زیادہ شوقین ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.