کورونا کے دوران چھوٹے بچوں کیلئے محفوظ طریقہ تعلیم

395

کورونا وائرس کے پھیلاؤ نے دنیا بھر میں‌ کا وبارِ زندگی کو بُری طرح متاثر کیا ہے، خاص طور پر تعلیمی اداروں کی بندش سے چھوٹے بچے بہت زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ بہت سے تعلیمی اداروں نے زوم کے ذریعے درس و تدریس کے سلسلے کو جاری رکھا۔ اگرچہ بڑی جماعتوں کی حد تک تو یہ تجربہ کسی حد تک کامیاب رہا مگر چھوٹے بچوں کے لئے یہ تجربہ فائدہ مند ثابت نہیں‌ہوا۔ چھوٹے بچے انفرادی سطح پر توجہ کے طالب ہوتے ہیں۔ ان کیلئے صرف سلیبس کی تکمیل ہی اہم نہیں بلکہ بچوں کا اپنے ہم عمر بچوں سے رابطہ او ر سماجی تعلقات بھی سیکھنے کے عمل کیلئے خاصی اہمیت رکھتے ہیں۔ بچوں کو کاغذ پر پنسل سے لکھنے کی مشق کروانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان کو یاد کروانا، سمجھانا اور مزید یہ کہ اُنہیں ایک استاد کے روبرو اپنی سوچ کے مطابق بات چیت کی بھی اتنی ہی ضرورت ہوتی ہے لیکن کمپیوٹر سکرین پر تعلیم حاصل کرتے ہوئے وہ اپنی توجہ قائم نہیں رکھ پاتے۔

اس مشکل پر قابو پانے کے لئے امریکہ سمیت دُنیا کے کئی ممالک میں ما ئیکرو سکول کا تصور پیش کیا گیا جو مختصر مدت میں ہی انتہائی مقبول ہو گیا ہے۔ اس طریقہ کار میں زیاد سے زیادہ دس بچوں کا ایک گروپ بنایا جاتا ہے جسے لرننگ پوڈ کہا جاتا ہے۔ یہ ایسے گھروں پر مشتمل ہوتا ہے جن کے بچے ہم عمر ہوں۔ ایسے لرننگ پوڈ جن میں نہ صرف بچوں کی تعداد کو محدود کیا جا سکتا ہے بلکہ یہ خاندان ایک دوسرے سے واقف بھی ہوتے ہیں، یہ نظام کلاس روم کی نسبت کہیں زیادہ محفوظ ہوتا ہے۔ اچھے موسم میں کُھلی جگہ پر بیٹھ کر بھی کلاس لی جا سکتی ہے جس سے کورونا وائرس میں مبتلا ہونے کا خدشہ مزید کم ہو جاتا ہے۔

نوکری پیشہ والدین جو آن لائن کلاسز میں اپنے بچوں کی نگرانی نہیں کر سکتے، اُن کے لئے یہ لرننگ پوڈ کسی نعمت سے کم نہیں۔ اس طریقہ کار سے فوائد حاصل کرنے کے لئے کچھ اصول و ضوابط وضع کرنے کی ضرورت ہے۔ مثلاً
1- بچوں کی تعداد کم رکھی جائے
2 – پوڈ میں شامل لوگ دوسرے لوگوں سے میل جول میں خاص احتیاط کریں۔
3 – دوسرے لوگوں سے میل جول کے دوران ماسک کا استعمال کریں
4 – مناسب سماجی فاصلہ ہر صورت برقرار رکھا جائے
5- پوڈ کے تمام ممبران ایک دوسرے کو دیانت داری سے اپنے کنبے کی صحت اور معاشرتی سرگرمیوں سے آگاہ رکھیں تاکہ کسی ایک کے کورونا میں مبتلا ہونے پر دیگر کو محفوظ رکھا جا سکے۔

اس عالمی وباء کے دوران جہاں بہت سی نئی سرگرمیاں وجود میں آئی ہیں وہیں لرننگ پوڈ کی ضرورت اور اہمیت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ تعلیمی اداروں کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایس او پیز جاری کر دیئے گئے ہیں۔ ان پر کس حد تک عملدرآمد ہوتا ہے اور تعلیمی سرگرمیوں کا سلسلہ کس حد تک آگے بڑھایا جا سکتا ہے اس کا فیصلہ تو آنے والا وقت ہی کرے گا۔ اس تمام صورتحال کو دیکھتے ہوئے یقیناً والدین بھی اپنے بچوں کی تعلیمی اور تربیتی ضروریات کے پیش نظر نئے تخلیقی انداز اپناتے رہیں گے۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

سائرہ تنویر درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ ہیں، مختلف موضوعات پر تعمیری سوچ دوسروں تک پہنچانے کیلئے فن تحریر کو اپنایا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.