غیبی امداد اور ہمارا مرا ہوا ضمیر

0 154

“ہم پچھلے سال مری میں گھومنے گئے۔ وہاں ایک اسٹال پر آئس کریم کھانے لگے۔ ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ اچانک میری نظر نیچے پڑی۔ وہاں دو عدد 100 روپے والے کڑک نوٹ جھلملارہے تھے۔ میں نے پہلے ادھر ادھر دیکھا، کسی کی نگاہ اس پر نہیں تھی۔ میں نے چپکے سے اسے اٹھایا اور اپنی جیب میں ڈال لیا۔ سوچتا ہوں اللہ کا کتنا کرم ہے کہ اس نے اس دن مجھے نوازا اور میرے کرائے کے پیسے بچ گئے۔”

ان کی بات سن کر مجھے اپنے ساتھ بیتی ایک داستان یاد آگئی۔ ایک بار ابو کی گاڑی خراب تھی۔ لہٰذا میں ایک کام کے سلسلے میں رکشے میں گیا۔ شدید گرمی کا موسم تھا۔ سورج آگ برسانے سوا نیزے پر آیا ہوا تھا۔ غالباً مہینے کی پہلی تاریخ تھی اور پہلی تاریخ کو ہم سب جانتے ہیں کہ تیل قیمتوں میں اتار چڑھاﺅ ہوتا ہے۔ اگر پیٹرول سستا ہو تو اکثر پیٹرول پمپ بند ملتے ہیں اور اگر مہنگا ہو تو ہر غیر معروف چوک پر پیٹرول کے اسٹال تک سج جاتے ہیں۔ حکومت نے اس روز پیٹرول سستا کرنے کا اعلان کیا تھا، اس لیے پیٹرول کی قلت چل رہی تھی۔ میں رکشے ہی میں تھا کہ ہمارے پاس سے ایک موٹر سائیکل سوار نوجوان تیزی سے اپنی بائیک دوڑاتے ہوئے گزرا۔ اچانک سے دھپ کی آواز آئی اور اس کی بائیک سے پیٹرول سے بھری بوتل گری۔ اس نوجوان کو تو احساس نہ ہوا تاہم رکشے والے کے کان کھڑے اور آنکھیں چمکنے لگیں۔ اس نے تیزی سے رکشا بھگایا اور جھٹ سے وہ بوتل اٹھائی۔ اس کے بعد پھر رکشا بھگانے لگا۔ میں نے سمجھا شاید وہ موٹر سائیکل سوار کو پیٹرول کی بوتل دینے چلا ہے مگر وہ مجھے منزل پر پہنچا کر واپس مڑ گیا۔ جاتے ہوئے وہ منہ ہی منہ میں اس نوجوان کو اس کی غفلت پر “گالیاں” دینا اور نعمت غیر مترقبہ حاصل ہونے پر اللہ کا شکر ادا کرنا نہیں بھولا۔

یہ دو چھوٹی چھوٹی مثالیں ہیں ہمارے معاشرے میں پھیلی چھوٹی چھوٹی چوریوں کی، جنہیں ہم چوری سمجھتے ہیں، نہ کوئی جرم۔ بلکہ ستم بالائے ستم تو یہ ہے کہ اسے غیبی امداد سمجھا جاتا ہے۔ یوں ضمیر کو صرف سلایا ہی نہیں جاتا، ماردیا جاتا ہے۔

ہمارے دین میں امانت کاپاس رکھنے کا جگہ جگہ حکم ہے۔ منافق کی نشانی ہے کہ وہ امانت میں خیانت کرتا ہے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے نبی بنانے سے پہلے امین بنایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے مدینہ ہجرت کرتے ہوئے اپنے جانی دشمنوں کی امانتوں کی حفاظت کا بھی انتظام کرکے گئے۔ سڑک پر کوئی چیز پڑی ملے اور آپ اسے اٹھالیں، تو اسے اصل مالک کو لوٹانا آپ پر فرض ہوجاتا ہے کیونکہ یہ امانت کے برابر ہے۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ ہمارے معاشرے میں یہ چھوٹی چھوٹی خیانتیں عام ہوتی جارہی ہیں اور اس کی وجہ کچھ اور نہیں، صرف یہ ہے کہ ہمیں اس کا احساس ہی نہیں۔ ہم اسے خیانت ہی نہیں سمجھتے بلکہ الٹا اس کو غیبی امداد سمجھتے ہوئے خود کو جنید بغدادی جیسوں میں شمار کرنے لگتے ہیں۔

مصنف مختلف اخباروں میں کالم لکھتے رہتے ہیں اور آج کل کراچی یونیورسٹی سے بین الاقوامی تعلقات میں ماسٹر کر رہے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.