عالمی یوم خواندگی اور ہم

270

عالمی یوم اقراء سے مراد عالمی “یوم خواندگی” ہے جو اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونسیکو کے تحت ہر سال 8 ستمبر کو عالمی سطح پر منایا جاتا ہے۔ اس دن کے حوالے سے دنیا بھر کے تمام ممالک میں علم کی اہمیت کو اجاگر کیا جاتا ہے اور دنیا بھر کے تمام معاشروں کے افراد کو زیور علم سے روشناس کرانے کے لیے مختلف پروگرامز منصوبہ بندی اور طریقہ کار طے کیے جاتے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور شرح خواندگی میں اضافے کے حوالے سے کام کرنے والے اداروں اور سماجی تنظیموں کے زیر اہتمام مختلف تقریبات بھی منعقد کی جاتی ہیں۔

اگرچہ دنیا بھر میں عالمی ادارے یونیسکو نے 1966 میں باقاعدہ طور پر 8 ستمبر کو عالمی یوم خواندگی کے طور پر منانے کا اعلان کیا لیکن بحیثیت مسلمان ہمارے لیے اس دن کو منانے کا اعلان لگ بھگ 6 اگست 610ء کو ہی ہو گیا تھا۔ جب نبی مکرم محمدﷺ پر مکہ کے قریب غار حرا میں پہلی وحی کا نزول ہوا، جس کے الفاظ یہ تھے: ترجمہ (اے محمد) اپنے پروردگار کا نام لے کر پڑھو جس نے پیدا کیا، جس نے انسان کو خون کے لوتھڑے سے بنایا، پڑھو اور تمہارا پروردگار کریم ہے جس نے قلم کے ذریعہ علم سکھایا اور انسان کو وہ باتیں سکھائیں جن کا اس کو علم نہ تھا۔

آج کی اس جدید دنیا میں یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو چکی ہے کہ علم کے بغیر کوئی بھی انسانی معاشرہ حیوانیت زدہ ہو کر رہ جاتا ہے اور یہ کہ انسان کو رفعت و بلندیوں تک پہنچانے کا واحد ذریعہ علم و آگہی ہی ہے۔ آج جس شرح خواندگی کا شور اور بار بار ذکر کیا جاتا ہے اس کا براہ راست تعلق اسی لفظ “اقراء” سے ہی ہے۔ جس کے بغیر کسی بھی ملک کی معاشی، معاشرتی اور اقتصادی ترقی ممکن نہیں۔ آج ہر ذی شعور و صاحب ادراک اس بات سے ضرور اتفاق کرتا ہے کہ قوموں کی صلاح و فساد میں تعلیم و خواندگی کا بڑا دخل ہے۔ تعلیم ہی انسان کو انسان بناتی ہے اور زیورِ تہذیب و تمدن سےآراستہ کرتی ہے۔ جو قومیں تعلیم میں پیچھے رہ جاتی ہیں وہ اقوام عالم میں اپنی عظمت و وقار کھو دیتی ہیں۔

علم کی اس اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے دنیا کے تمام ممالک کے ریاستی اغراض و مقاصد میں تعلیم کو اولین حیثیت حاصل ہے۔ دستور پاکستان کے آرٹیکل 25A- کے تحت حکومت پاکستان بھی اس بات کی پابند ہے کہ ریاست 5 سے 16 سال تک کی عمر کے ہر بچے کو لازمی اور مفت تعلیم مہیا کرے اور وہ تمام وسائل و اسباب مہیا کرے جو ایک فرد کی ذہنی سطح کو بڑھانے اور علم و شعور کو اجاگر کرنے کے لیے درکار ہوں۔ لیکن افسوس کہ 72 سال گزر جانے کے بعد بھی ہماری حکومتیں یہ مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہی ہیں اور آج بھی پاکستان کی شرح خواندگی بمشکل 58 فیصد تک پہنچی پائی ہے۔

اس پر بھی مستزاد یہ کہ ان 58 فیصد میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو صرف اپنے ہاتھ سے اپنا نام لکھنے کے علاوہ کچھ بھی نہیں جانتے۔ لہذا یہ بھی ایک المناک حقیقت ہے کہ اگر بین الاقوامی معیار کے مطابق ہماری شرح خواندگی کو پرکھا جائے تو ایک سروے کے مطابق یہ شرح محض 30 فیصد رہ جاتی ہے۔

اسی سلسلے میں اگر ہمارا باقی ممالک سے موازنہ کیا جائے تو مغربی ممالک کو تو چھوڑیئے ہم اپنے خطے میں اپنے ہمسایہ اور ساتھ آزاد ہونے والے ملک بھارت سے بھی بہت پیچھے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق بھارت میں شرح خواندگی 74 فیصد، بنگلہ دیش کی 72 فیصد اور ایران کی شرح خواندگی 93 فیصد ہے، ان اعداد و شمار سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ ہماری ترجیحات کیا ہیں اور تعلیمی میدان میں ہم کہاں کھڑے ہیں۔

بلاشبہ ناخواندگی ہی وہ بلا ہے جسے تمام مسائل کی ماں کا درجہ حاصل ہے۔ ہمارے سماجی، معاشی، سیاسی اور معاشرتی سطح کے تمام مسائل اسی ناخواندگی کی کوکھ سے ہی جنم لیتے ہیں۔ ظلم و جبر، تشدد، بے راہ روی، مجرمانہ افعال چوری، ڈکیتی، راہزنی اور خواتین کے خلاف تشدد وغیرہ اور یہاں تک کہ دہشت گردی کا آسیب جو پچھلی کئی دہائیوں سے ہمارا خون چوس رہا ہے، اس سب کی جڑیں ناخواندگی کی اس ناہموار زمین میں ہی پیوست ہیں۔ اور ہم ہیں کہ ہر سال اس دن کے موقع پر بلند و بانگ و دعووں اور وعدوں کے علاوہ کچھ بھی نہیں کر پاتے۔ ہر بار روایتی سطح پر نئے عزم و ارادے دیکھنے اور سننے کو ملتے ہیں لیکن انتہائی افسوس کہ اس معاملے میں کبھی حقیقی اور سنجیدہ کاوشیں کبھی دیکھنے نہ سننے کو ملیں۔

پاکستان کے معرض وجود میں آنے سے لے کر آج تک جتنی بھی سیاسی پارٹیاں یا سیاسی قائدین آئے وہ کسی نہ کسی تناظر میں روٹی، کپڑا اور مکان کی سیاست تو کرتے رہے لیکن کسی نے یہ سمجھنے کی کوشش نہیں کی کہ اصل میں شرح خواندگی میں اضافے کی پوٹلی میں ہی “روٹی، کپڑا اور مکان” کا نقشہ پنہاں ہے۔

بحیثیت مجموعی آج تک ہماری تعلیمی کاوشوں کا جائزہ لیا جائے تو 1947ء سے لے کر آج تک کی تعلیمی اصلاحات کا خلاصہ یہ ہے کہ اب تک لگ بھگ 22 تعلیمی پالیسیوں اور منصوبوں کا اجراء ہوا، ذرائع تعلیم پر نئے نئے تجربے بھی آزمائے گئے جو ابھی تک جاری و ساری ہیں۔ لیکن ان کے نتائج کا اندازہ صرف اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ہم ابھی تک یہ فیصلہ بھی نہیں کرپائے کہ ہمارا ذریعہ تعلیم انگریزی ہو یا اردو، اپنی سرکاری و مادری زبان میں ہو یا تعلیم کو اس کی علاقائی زبان میں رائج کیا جائے؟ جب کہ عالمی ماہرین تعلیم اس بات پر متفق ہیں کہ شرح خواندگی میں سب سے بڑی رکاوٹ تعلیم کا اس کی علاقائی زبان میں نہ ہونا ہے۔

آج مغرب کی (نام نہاد) ترقی کا راز صرف تعلیم کی اہمیت میں ہی مضمر ہے۔ بلاشبہ انہوں نے اسی تعلیم کے بل بوتے پر ہی دنیا کے تمام خطوں پر اپنی دھاک بٹھائی ہوئی ہے۔ دنیا کے وہ ملک جن کی معیشت تباہ و برباد ہوچکی ہے ان میں ایک امر مشترکہ ہے اور وہ یہ کہ انہوں نے تعلیم کی اہمیت کو پس پشت ڈالے رکھا۔ یہاں تک کہ ان کا دفاعی بجٹ تو اربوں کا ہے مگر تعلیم کا بجٹ نہ ہونے کے برابر ہے، یہی چیز ان کی تباہی کا باعث ہے۔ متذکرہ بالا تمام حقائق کو دیکھتے ہوئے ہمیں تعلیم کی اہمیت کو سمجھ کر ٹھوس اور ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھانا ہوں گے۔ اس سلسلے میں اپنے مذہب سے راہنمائی لینا ہو گی۔

اس سلسلے میں اگر آج بھی ہم نے اپنی سمت تبدیل نہ کی اور تعلیم کو باقی تمام امور سے اہم نہ جانا تو پھر ہمیں لفظ “اقراء” سے تعلق و مناسبت کا کوئی حق حاصل نہیں اور یقیناً ہمیں پاکستان کی، اسلام کی اور مسلمان سائنسدانوں کی عظمت و برتری کی تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

طاہر ایوب سماجی و سیاسی موضوعات پر قلم اٹھاتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.