بھارت خطے میں تباہی کو دعوت نہ دے

183

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے یوم دفاع پاکستان کے موقع پر اعزازات دینے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم نے کل بھی اپنے سے کئی گنا بڑے دُشمن کو شکست دی تھی اور آج بھی دشمن کے ناپاک عزائم کو شکست دینے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں، ہم اپنی آزادی کی حفاظت اپنے خون سے کر رہے ہیں۔ اگر ہم پر جنگ تھونپی گئی تو اینٹ کا جواب پتھر سے دیں گے‘‘۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جنگوں کے نتیجے میں بے دریغ انسانی جانوں کا زیاں ہوتا ہے، لاکھوں افراد مارے جاتے ہیں، عورتیں بیوہ اور بچے یتیم ہوجاتے ہیں۔ ملکوں میں قحط پیدا ہو جاتا ہے اور دہائیوں تک پسماندگی اُن کا مقدر بن جاتی ہے۔

پاکستان اسی وجہ سے روز اول سے ہی امن کا خواہاں ہے جبکہ ہمسایہ ملک بھارت پر جنگی جنون سوار ہے اور وہ جدید اسلحہ کے انبار لگا کر پاکستان کو زیر رکھنا چاہتا ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدہ صورتحال دونوں ملکوں اور باقی دنیا کے لیے انتہائی تشویشناک ہے کیونکہ دونوں ممالک جوہری اسلحہ سے لیس ہیں اور جوہری ہتھیاروں سے لیس دونوں ملکوں کے درمیان کسی بھی مہم جوئی کے بعد حالات کیا رخ اختیار کر سکتے ہیں، اس بارے سوچنا بھی دشوار ہے ۔ واضح رہے کہ آج تک دو جوہری طاقتوں کے درمیان کبھی جنگ نہیں ہوئی، اس لیے ایٹمی ہتھیاروں کی تباہ کاری کا اندازہ بھی ممکن نہیں لیکن اگر خدانخواستہ دو ملکوں کے درمیان ایٹمی جنگ ہوئی تو اس کی ہولناکی کو بیان کرنے والا شاید ہی دونوں ملکوں میں کوئی باقی رہے۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان اگر جنگ ہوتی ہے تو وہ چاہے شروع غیر جوہری اسلحہ کے ساتھ ہی کیوں نہ ہوئی ہو، جوہری ہتھیاروں کے استعمال کے امکانات یقینا بہت بڑھ جائیں گے اور یہ سبھی جانتے ہیں کہ جنگ شروع کرنا آسان ہوتا ہے اور روکنا بہت دشوار۔ دنیا اس سے پہلے غیر جوہری دو عظیم جنگوں کو جھیل چکی ہے، جن کے مضر اثرات آج بھی کئی ملکوں کو جنگ کے نام سے تھرا دیتے ہیں۔ پہلی جنگ عظیم میں تین کروڑ اور دوسری جنگ عظیم میں چھ کروڑ لوگ مارے گئے تھے یعنی بیسویں صدی میں نو کروڑ کی آبادی کا صفایا ہو گیا تھا۔ جبکہ جوہری بم، کیمیائی بموں کی طرح نہیں ہوتے بلکہ یہ ان سے بہت مختلف ہوتے ہیں۔ یہ نہ صرف کیمیائی بموں کے مقابلے میں کہیں زیادہ تباہی مچا سکتے ہیں بلکہ جوہری بموں کے تباہ کن اثرات ان کے استعمال کے برسوں بعد بلکہ دہائیوں تک باقی رہتے ہیں۔

1986ء میں چرنوبل میں ایٹمی حادثے کے بعد جو تابکاری نکلی وہ ہوا کے ساتھ سینکڑوں ہزاروں میل دور تک پہنچی تھی، چرنوبل اور آس پاس کے شہروں کو تو خالی کرا ہی لیا گیا تھا۔ لیکن تابکاری کی وجہ سے دور دراز کے علاقوں میں اگنے والی نہ سبزیاں کھائی جا سکتی تھیں اور نہ ہی گائے، بکری کا دودھ پیا جا سکتا تھا۔ اسی طرح ہیرو شیما اور ناگاساکی کے واقعے کو 75 سال سے زیادہ ہو چکے ہیں ، یہ ٹھیک ہے کہ وہاں زندگی معمول پرآ گئی ہے مگر سوچنے کی بات یہ ہے کہ آیا وہ قیمت جو ہیرو شیما اور ناگاساکی کے باسیوں نے دی، کیا ضروری ہے کہ بھارت اور پاکستان کے کسی شہر کے لوگ بھی وہ قیمت دیں؟

ایٹم بم امن قائم نہیں کرتے لہٰذا بہت ضروری ہے کہ بھارت کے رہنے والے اور ذرائع ابلاغ کے کرتا دھرتا، جوہری جنگ کے دور رس اثرات اور اس سے ہونے والے معاشی نقصانات سے پوری طرح آگاہ ہوں۔ خدا نخواستہ اگر ایک ہمسایہ ملک دوسرے ملک پر ایٹمی حملہ کرے توکیا اس کے ایٹمی حملے کی تابکاری کے اثرات سے خود اس کا اپنا ملک محفوظ رہ سکتا ہے۔ امریکی سائنس دان آئن سٹائن نے امریکہ کے ایٹمی پروگرام پر کام کیا تھا، دوسری جنگ عظیم کے بعد کسی نے ان سے پوچھا کہ جناب! تیسری جنگ عظیم کیسی ہو گی؟ آئن سٹائن نے جواب دیا کہ تیسری جنگ عظیم کا مجھے پتہ نہیں لیکن چوتھی جنگ عظیم تلواروں اور ڈنڈوں سے ہو گی۔ آئن سٹائن کے اس جواب میں ایک بہت بڑی بات پوشیدہ ہے کہ شاید وہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ تیسری جنگ عظیم بہت بڑی تباہی لائے گی جس میں دنیا کے ایٹم بم رکھنے والے ممالک ایٹم بم کا استعمال کر سکتے ہیں اور یہی ایٹمی ہتھیار کئی ملکوں کا جغرافیہ بگاڑنے کا موجب بن سکتے ہیں اور وہ ایسی بربادیوں کی دھول میں اَٹ جائیں گے کہ پھر ان کے پاس علم ہوگا نہ فن، سائنس ہو گی نہ جنگ لڑنے کے سازوسامان اس لئے وہ لاٹھیوں سے آپس میں لڑیں گے۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان اس وقت جو کشیدگی ہے اسے دور کرنے کے لیے بین الاقوامی برادری پر بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے ۔ خاص طور پر امریکہ، برطانیہ، فرانس اور روس جیسی بڑی طاقتوں پر کیونکہ دو جوہری ملکوں کے درمیان کشیدگی میں کسی بھی قسم کا انتہائی اضافہ جوہری ہتھیاروں کے استعمال پر منتج ہو سکتا ہے ، جس کے تابکاری اثرات صرف ان ملکوں تک ہی محدود نہیں رہیں گے بلکہ دور دور تک جائیں گے، تباہی سرحدوں کو نہیں مانتی۔

وقت آ گیا ہے کہ پاکستان اور بھارت جو جوہری ممالک اور ایک دوسرے کے پڑوسی ہیں، یہ سوچ دل سے نکال دیں کہ ہمیں آپس میں کوئی جنگ کرنی چاہیے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان اصل وجہ تنازع کشمیر ہی ہے مگر بھارت اپنی ہٹ دھرمی سے اس مسئلہ کے حل میں سنجیدہ نہیں، حالانکہ بھارت کے پاس پرامن مذاکرات کے بے شمار مواقع آئےلیکن بھارت پرامن مذاکرات کی بجائے طاقت کے استعمال کا قائل ہے۔ بھارت کو یاد رکھنا چاہیے کہ جنگ آگ اور خون کا کھیل ہے جس کا نتیجہ تباہی و بربادی ہے، بیوگی و یتیمی ہے، معذوری و مفلسی ہے خوشحالی ہرگز نہیں۔ بھارت کی جارحانہ سرگرمیوں اورجنگی جنون کے باعث جوہری ہتھیاروں سے لیس ملکوں میں جنگ کی نوبت آئی تو پوری دنیا کا امن متاثر ہونا یقینی ہے۔ تباہی اور تابکاری صرف جنوبی ایشیا تک ہی محدود نہیں رہے گی بلکہ دیگر خطوں میں پھیلنے کے علاوہ زمین کا ماحولیاتی نظام بھی متاثر ہونے کا شدید خطرہ ہے۔ یہ جنگ رکوانا پوری عالمی برادری کی ذمہ داری بنتی ہے کیونکہ زمین سب کا گھر ہے، اپنے گھر کو تباہی سے بچانے کیلئے سب کو مشترکہ کوشش کرنی چاہئے تاکہ نسل انسانی کو درپیش ان خطرات کا ہمیشہ کیلئے خاتمہ ہو جائے۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

رانا اعجاز سیاسی و سماجی موضوعات پر لکھنا پسند کرتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.