میں نے کراچی کو ڈوبتے دیکھا

431

اگست کراچی والوں کے لیےایک ایسا مہینہ ثابت ہوا ہے جسے کراچی کے باسی کبھی بھول نہیں سکتے. کراچی شہر پاکستان کے ساحل سمندر پر موجود ہے لیکن میں نے پہلی بار کراچی شہر کو سمندر کا حصہ دیکھا. میں نے دیکھا کراچی کی شاہراہیں نہروں کا منظر پیش کر رہی تھیں اورکراچی کی انتظامیہ محو تماشا بنی ہوئی تھی. کراچی کی تباہی کوئی ایک یا دو سال میں نہیں ہوئی کراچی کو تباہی کے دہانے تک لانے میں کئی سال لگے ہیں. 1984سے پہلے کراچی امن کا شہر تھا روشنیوں کا شہر تھا علم کا شہر تھا ادبی سرگرمیاں ہوتی تھیں. کراچی پاکستان کا دبئی تھا یہاں لوگ دوردراز سے آتے تھے. کراچی کی خوبصورت زندگی کو انجوائے کرتے تھے کراچی پاکستان کا پہلا دارالحکومت بھی رہ چکا ہے اور کراچی ابھی بھی پاکستان کے ایک صوبےصوبہ سندھ کا دارالحکومت ہے. پورے صوبے کو کراچی سے بیٹھ کر چلایا جاتا ہے لیکن کراچی کی بد قسمتی ہے کہ یہ شہر ہر حکومت میں سیاست کی نظر رہا ہے اور ہر حکومت نے اس کو سیاسی اختلاف کی وجہ سے نظر انداز کیا ہے. کبھی کسی حکومت نے کوئی کام نہیں کیا ہرحکومت نے اس شہر کوسوتیلا سمجھا حالانکہ کراچی پاکستان کا معاشی ہب ہے پورٹ سٹی ہونے کی وجہ سے پاکستان کا سارا معاشی دارومدار کراچی پر ہے. پاکستان کی ساری تجارت کراچی پورٹ سے ہوتی ہے اس لیے کراچی کی ملک میں باقی شہروں کی نسبت زیادہ اہمیت ہے

اس شہر کی بربادی سیاسی نظریات کی وجہ سے ہوئی ہر حکومت نے اس شہر کو اپنے طور پر چلانے کی کوشش کی. میں زیادہ تاریخ میں نہیں جاتا 1984 میں ایم کیو ایم کی بنیاد پڑی کیونکہ یہ ایک لسانی بنیاد پرسیاسی جماعت بنائی گئی تھی اس لیے پہلا کیل اس شہر کی بربادی میں اس وقت ٹھونکا گیا. اس طرح اس شہر کی بربادی لسانی بنیاد سے شروع ہوگئی. بانی ایم کیو ایم کوایک دہشت کی علامت سمجھا جاتا تھا اس نے کراچی میں لسانی بنیاد پر بہت خون بہایا ہر دور کی حکومت تماشا دیکھتی رہی پھر بعد میں 1992 میں نواز شریف کی حکومت میں کراچی میں ایک بڑا آپریشن شروع ہوا جس کا نام آپریشن کلین اپ تھا. یہ آپرشن ایف آئی اے اور آئی بی کی رپورٹ پر شروع ہوا جس میں 23500 لوگ مارے گئے جس میں 1000 لوگ گورنمنٹ کے تھے. 29350 لوگ زخمی ہوئے. اس آپریشن میں بے شمار لوگ ایم کیو ایم کے ملک سے باہر بھاگ گئے بانی ایم کیو ایم ابھی بھی ملک سے باہر ہیں.

پھر یہ ہوا 1988 سے لیکر 1999 تک پاکستان مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی یہ دونوں پارٹیاں باریاں لیتی رہیں اور کراچی برباد ہوتا رہا حکومتیں تماشا دیکھتی رہیں اور پھر 1999 سے 2008 تک اس شہر کو دوبارہ ایم کیوایم کے حوالے کیا گیا.
اس دوران ایم کیوایم نے کراچی میں دو کام کیے ایک تو کراچی میں خوب کام کرائے پل سڑکیں بنیں. لیکن ساتھ میں جو دوسرا کام کیا وہ بھتہ مافیا بوری بند لاشیں ٹارگٹ کلنگ لینڈمافیا کچرا مافیا پانی مافیا میڈیا پر وار کراچی میں ایسی خوف کی فضا بنائی گئی ہر بندہ ایم کیو ایم سے خوف کھانے لگا. ایم کیو ایم ایک دہشت کی علامت بن چکی تھی روزانہ کی بنیاد پر لوگ مرنا شروع ہو گئے ایم کیو ایم کے دیکھا دیکھی باقی سیاسی پارٹیوں نے بھی ملیٹنٹ ونگ بنا لیے کراچی میں گینگ وار کا دور شروع ہوا.

2008 سے2013 تک پیپلز پارٹی کی حکومت رہی پیپلز پارٹی نے بھی ایم کیو ایم کو بہت فری ہینڈ دیا ایم کیو ایم وفاق میں پیپلز پارٹی کی اتحادی جماعت تھی اس دور میں ایم کیو ایم نے خوب فائدہ اٹھایا. پیپلز پارٹی کے پورے دور میں ایم کیو ایم پیپلز پارٹی کو بلیک میل کرتی رہی ان پانچ سالوں میں بھی کراچی جلتا رہا کوئی کام نہیں ہوا نہ کراچی کی عوام کوسکون ملا بلکہ کراچی کی عوام ان پانچ سالوں میں بھی لٹتی رہی اس دوران کراچی میں تین پارٹیاں ہوتی تھیں پیپلز پارٹی ،اے این پی،ایم کیو ایم لیاری میں امن کمیٹی تھی لیاری میں کچھی اور بلوچٓ آپس میں لڑتے تھے. لیاری گینگ وار میں بابا لاڈلا عزیر جان بلوچ یہ اہم لوگ ہوتےتھے. ان کو ایم کیو ایم کے ساتھ بھی مسئلہ تھا. اس دوران پختون اور اردو سپیکنگ کی لڑائی رہتی تھی.

کراچی میں ہر طرف جنگل کا قانون تھا نو گو ایریاز تھے لوگ خوف میں جی رہے تھے. بانی ایم کیو ایم کا طوطی بولتا تھا. ایم کیو ایم جب چاہے کراچی بند کر دیتی تھی. جب بھی کراچی بند ہوتا تھا تو ملک کو نقصان ہوتا تھا. کراچی میں کچرے کے انبار لگتے رہے نہ نالوں کی صفائی ہوئی بلکہ نالوں میں قبضہ مافیا کا راج ہو گیا. نالوں پر لوگوں نے گھر بنانے شروع کر دیے اور نالے بند ہونا شروع ہوگئے. لوگوں نے ناجائز قبضے کیے تجاوزات کا دور شروع ہوا. سیاسی پارٹیوں نے کام کی بجائے لوٹ مار شروع کردی، کراچی جلتا رہا حکومت نیرو کی طرح بانسری بجاتی رہی اور تماشا دیکھتی رہی۔

2013سے 2018 تک ن لیگ کی حکومت رہی نواز شریف کی حکومت نے آتے ہی کراچی والوں کے بارے میں سوچا کراچی میں لاءاینڈ آرڈر کی بہت بری صورتحال تھی تو حکومت نے رینجر کی مدد سے آپریشن شروع کیا. حکومت اور جنرل (ر) راحیل شریف کی بدولت کراچی کی عوام نے سکون کا سانس لیا. کراچی کے حالات بدلنا شروع ہوئے زندگی واپس آئی پھر ہم نے دیکھا لوگوں نے جنر ل (ر) راحیل شریف کے نام کے بینرز لگائے پاکستان آرمی سے محبت کا اظہار کیا کراچی میں بھتہ مافیا ٹارگٹ کلنگ کا خوف ختم ہوا بند کاروبار واپس آئے پاکستان ترقی کی طرف چل پڑا لیکن کراچی میں کام صوبائی حکومت نے کرنا تھا سندھ میں پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت تھی اس لیے صفائی کچرااٹھانا اور نالوں کی صفائی نالوں پر لینڈمافیا کا قبضہ ختم کرانایہ سب کام صوبائی حکومت کے تھے. کراچی بری سیاست کی نظر ہوتا رہا پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے دور میں کراچی میں کوئی کام نہیں ہوا.

2018 میں عمران خان کو مینڈیٹ ملا لیکن عمران خان بھی کراچی کے لیے کچھ نہ کر سکے عمران خان صاحب کہتے ہیں کیونکہ 18ویں ترمیم کے بعد صوبہ آزاد اور خود مختار ہے اور سارے اختیارات صوبے کے پاس چلے جاتے ہیں اور وفاق کچھ بھی نہیں کر سکتا. سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے اس لیے کراچی میں کام کرنا سندھ حکومت کا کام ہے اس طرح کراچی کو تحریک انصاف نے بھی لاوارث چھوڑ دیا ہے. اب جو بارش کی صورت میں کراچی میں آفت آئی ہوئی ہے اس سے کراچی والوں کو اللہ ہی نکال سکتا ہے. صوبائی حکومت اور وفاق دونوں نے اپنے ہاتھ کھڑے کر دیے ہیں. جب سے آفت آئی ہے بلاول بھٹو صاحب بھی غائب ہیں کراچی میں حکومت نام کی کوئی چیز نظر نہیں آرہی. کراچی علاقہ غیر بنا ہوا ہے کراچی کی بربادی پر ہر پارٹی سیاست کر رہی ہے عوام کا کوئی نہیں سوچ رہا. جہاں تک پاک آرمی کا تعلق ہے جب بھی کراچی والوں پر مصیبت آئی پاک آرمی نے ان کو نکا لا چاہے وہ لاءاینڈ آرڈر ہو نالوں کی صفائی ہو سیاسی جماعتیں تماشائی بن کر دیکھتی رہیں اور پاک آرمی کراچی والوں کی خدمت کرتی رہی. حالانکہ یہ کام پاک آرمی کا نہیں ہے. جس طرح کراچی میں ماضی میں لاء اینڈ آرڈر پر صوبائی حکومت نے کام کیا با لکل اسی طرح جو نالوں کی صفائی ہے اور جو کچرا اٹھا نا یہ انتظامی معاملہ ہے جو خالص صوبائی معاملہ ہے اور صوبائی حکومت کا کام ہے کہ کراچی کو اپنا شہر سمجھے اور کام کرے نہ کہ اس کے لیے وفاق سے الجھا جائے اور معاملات کو طول دیا جائے جس میں صرف اور صرف کراچی کے شہریوں کا نقصان ہے اور حاصل کچھ نہیں ہے میری اللہ سے دعا ہے اے اللہ کراچی کے لوگوں پر رحم فرما آمین۔۔

مضمون میں اظہار خیالات مصنف کے اپنے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ دنیا نیوز کے ادارتی موقف کی عکاسی کریں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.