موت کے سوداگر یا پھر…..!!!

413

سو سال زندہ رہنے کے لئے ضروری نہیں سو سال جیا جائے بلکہ کوئی ایسا کام کر جائیں کہ دنیا آپ کو سو سال یاد رکھے۔ الفریڈ نوبل وہ نام ہے جو مرنے کے بعد بھی زندہ ہے، یہ نام فقط نام نہیں بلکہ انعام ہے اور انعام بھی وہ جو دنیا کا سب سے بڑا انعام ہے۔ نوبل انعام ان لوگوں کو دیا جاتا ہے جو دنیا کی بھلائی اور امن کے لئے سب سے اچھا کام کرتے ہیں۔ نوبل انعام کی شروعات 1901 میں ہوئی۔ 1901 سے 2019 تک یہ 597 دفعہ 950 لوگوں اور کمپنیوں کو دیا جا چکا ہے، ان 950 میں صرف دو پاکستانی شہری شامل ہیں ڈاکٹر عبدالسلام 1979 (فزکس) اور ملالہ یوسفزئی 2014 (امن)۔

اب آپ سوچ رہے ہوں گے یہ الفریڈ نوبل کون ہیں اور ان کے ذہن میں اس انعام کا خیال کیسے آیا؟ الفریڈ نوبل 21 اکتوبر 1833 کو سویڈن میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد انجینئر تھے، وہ سویڈن میں پہاڑوں سے پتھر توڑ کر پل بنانے کا کام کرتے تھے، ان پر ایک وقت ایسا آیا کے ان کو سویڈن میں کام ملنا بند ہو گیا اس مشکل میں ان لوگوں نے روس جانے کا فیصلہ کیا اور وہ روس کے ایک شہر میں رہائش پذیر ہو گئے۔ روس میں ان کے والد نے گن پاوڈر بنانے کا کارخانہ لگایا اور انھوں نے روسی حکومت کے لئے گن پاوڈر بنانا شروع کردیا۔

انہی دنوں کریمین جنگ شروع ہو گئی اور یوں گن پاؤڈر کی طلب بڑھ گئی اور ان کا کاروبار چل پڑا اور بہت پیسا بھی انے لگا۔ الفریڈ نے صرف سترہ سالہ کی عمر میں انگلش، فرنچ اور جرمن زبان پر عبور حاصل کر لیا. اور ساتھ ہی ساتھ کیمسٹری میں بھی مہارت حاصل کر لی۔ 1850 میں ان کے والد نے ان کو مزید تعلیم کے لئے امریکہ بھیج دیا جہاں وہ امریکہ سے اپنی تعلیم مکمل کر کے فرانس چلے گئے۔ وہاں ان کو نائٹرو گلسرین کیمیکل کے بارے میں پتہ چلا۔ نائٹرو گلسرین کیمیکل اس وقت سب سے طاقتور کیمیکل تھا لیکن اس میں کچھ خامیاں تھیں اور اس کی نقل و حرکت پر پابندی عائد تھی کیونکہ یہ غیر محفوظ تھا۔ ادھر دوسری طرف کریمین کی جنگ ختم ہو گئی گن پاوڈر کی طلب میں کمی ہوئی اور یوں ان کے والد کا کاروبار بھی ختم ہو گیا اور وہ واپس سویڈن چلے گئے۔

الفریڈ نوبل نائٹرو گلسرین پر تجربات کرنا چاہتے تھے اور ایسے دنیا کے لئے محفوظ بنانا چاہتے تھے، وہ نائٹرو گلسرین کا نمونہ لے کر فرانس سے سویڈن چلے گئے اور وہاں الفریڈ نے اپنے بڑے بھائی اور والد کے ساتھ مل کر نائٹرو گلسرین کو محفوظ بنانے کے لئے تجربات شروع کر دیئے۔ ایک دن 18 دسمبر 1864 کو تجربے کے دوران نائٹرو گلسرین سے زوردار دھماکہ ہوا اور اس کے نتیجے میں الفریڈ کے بڑے بھائی کی موت واقع ہو گئی۔ بڑے بیٹے کی موت پر الفریڈ نوبل کے والد نے اپنے آپ کو اس کام سے علیحدہ کر لیا اور الفریڈ نوبل کو بھی اس کام سے منع کیا۔ ادھر سویڈن حکومت نے رسرچ لیب شہر میں کھولنے پر پابندی عائد کر دی۔ الفریڈ نوبل نے شہر کے باہر ایک نئی لیب بنائی اور کام شروع کردیا. کچھ سال لگے لیکن وہ کامیاب ہو گئے . اس نے دنیا کو بتا دیا اگر نائٹرو گلسرین میں سیلکا شامل کر لیں تو نائٹرو گلسرین کیمیکل محفوظ ہو جائے گا اور اسے کسی بھی شکل میں ڈھالا جا سکتا ہے یوں الفریڈ نوبل نے اپنی اس ایجاد کو ڈائنامائٹ کا نام دیا جس کا اردو ترجمہ بارود ہے۔

ڈائنامائٹ کے استعمال سے اب پہاڑوں کو آسانی سے توڑا جا سکتا تھا اور سڑکوں کی تعمیر آسان ہو گئی، یوں ڈائنامائٹ کی طلب میں اضافہ ہو گیا اور الفریڈ نوبل نے دوسرے ملکوں میں ڈائنامائٹ بنانے کے کارخانے لگانے شروع کر دیئے۔ یوں الفریڈ نوبل کو کثیر سرمایہ ملنا شروع ہو گیا۔ سب کچھ اچھا چل رہا تھا پھر کچھ ممالک نے ڈائنامائٹ کا غلط استعمال شروع کردیا اور اسے جنگوں میں استعمال کرنے لگے یوں لوگوں کی اموات ہونے لگی۔

اسی وجہ سے لوگ ڈائنامائٹ اور اس کے موجد سے نفرت کرنے لگے۔ سال 1888 میں الفریڈ کا بھائی لوڈویگ کان کا دورہ کرتے ہوئے انتقال کر گیا اور ایک فرانسیسی اخبار نے غلطی سے لوڈویگ کی موت کو الفریڈ کی موت لکھا اور حادثے کو “موت کے سوداگر کی موت” کے عنوان سے شائع کیا۔ اخبار نے بارود کی ایجاد پر ان کی شدید مذمت بھی کی۔ اس میں یہ بتایا گیا تھا کہ “ڈاکٹر الفریڈ نوبل، جو پہلے سے کہیں زیادہ تیزی سے لوگوں کو ہلاک کرنے کے طریقے ڈھونڈ کر امیر ہو گیا، گذشتہ روز ان کا انتقال ہو گیا۔” الفریڈ نے جب یہ خبر پڑھی تو اس سے انھیں سخت مایوسی ہوئی اور وہ اس سے زیادہ فکر مند ہو گئے کہ انہیں کن الفاظ میں یاد رکھا جائے گا۔ الفریڈ کو اس بات کا بہت دکھ ہوا کیوں کے انھوں نے ڈائنامائٹ لوگوں کی بھلائی کے لیے بنایا تھا لیکن اس کا استعمال غلط ہو رہا تھا۔

الفریڈ اب بوڑھے ہو چکے تھے وہ اپنی پوری زندگی دنیا کے نام کر کے اب یوں بدنام ہو کر مرنا نہیں چاہتے تھے۔ اس لئے انھوں نے لوگوں کی مدد کرنے کا فیصلہ کیا اور مرنے سے پہلے اپنی ساری دولت جو کے (تقریباً 250 ملین امریکی ڈالر تھی (جو پاکستانی روپوں میں تبدیل کریں تو یہ رقم اکتالیس ارب آٹھ سو انتالیس ملین چھ سو ہزار روپے بنتی ہے) ان لوگوں کے لئے وقف کر دی جو دنیا کی بھلائی اور امن کے لئے سب سے اچھا کام کریں گے۔ 10 دسمبر 1896 کو الفریڈ کی موت واقع ہو گئی لیکن ان کی دولت سے دیا جانے والا نوبل انعام آج بھی زندہ ہے اور دنیا آج الفریڈ کو موت کے سوداگر سے نہیں بلکہ ایک سائنسدان کے طور پر جانتی ہے۔

پاکستان میں اس وقت ایک کروڑ بانوے لاکھ لوگ ایسے ہیں جن کی دولت اربوں میں ہے یا اس سے زیادہ ہے، ان میں سے صرف چند لوگ یہ فیصلہ کر لیں کہ وہ اج سے اپنی دولت لوگوں کی فلاح و بہبود کیلئے وقف کر دیں گے۔ وہ یہ فیصلہ کر لیں وہ اپنی دولت سے کوئی ایسی لیب بنائیں گے جہاں ریسرچر تجربات کر سکیں، وہ یہ فیصلہ کر لیں کہ اپنی دولت ان قابل بچوں پر خرچ کریں گے جو وسائل نہ ہونے کی وجہ سے ڈاکٹر یا انجینئر نہیں بن سکتے۔ یقین مانیں جس دن ان لوگوں نے یہ فیصلہ کر لیام اس دن یہ ارب پتیوں کی لسٹ سے نکل کر عظیم لوگوں کی لسٹ میں شامل ہو جائیں گے جہاں ان کا کام اور نام ہمیشہ زندہ رہے گا۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

اریبہ اعیم ساسی و سماجی موضوعات پر لکھنا پسند کرتی ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.