روحوں کی فتح

470

میرے ناقص علم اور رائے کے مطابق جس قدر سخت اور ماورائے عقل آزمائشوں سے اللہ نے حضرت ابراہیمؑ کو گزارا اس قدر شاید ہی کسی دوسرے پیغمبر کو گزرنا پڑا ہو۔ ایک ایک امتحان کو سوچ کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ عقل تسلیم ہی نہیں کرتی کہ ایسا بھی ہوا ہو گا۔ ذرا دھیان میں لائیں کہ ایک انسان کو حکم ملتا ہے کہ اپنی بیوی اور بچے کو ایک ایسی جگہ چھوڑ آؤ جہاں نہ انسان، نہ چرند پرند، نہ پانی نہ خوراک، نہ سایہ نہ مکان۔ تپتی دھوپ، جنگل بیابان حتیٰ کہ زندگی کا کوئی امکان ہی نہیں۔ پھر حکم ملا کہ اپنے اسی بچے کو جس کی پرورش میں بظاہر حضرت ابراہیمؑ کا کوئی کردار نہیں کو اللہ کی راہ میں قربان کر دو۔ ابراہیمؑ تو پیغمبر تھے مگر اماں حاجرہؑ کو کس چیز نے مجبور کیا کہ اپنے لخت جگر کو قربانی کے لئے حوالے کر دیں۔ اسماعیلؑ کو کیا نظر آیا جو والد کی ہاں میں ہاں ملاۓ اپنے آپ کو ذبح کروانے کیلئے بلا توقف، بلا جھجک ساتھ چل دئیے؟ کیا حوصلہ ہو گا اسوقت تینوں کا۔ نہ پرورش کرنے والی کو فکر، نہ قربان ہونے والے کو ڈر اور نہ قربان کرنے والے کو کوئی ملال۔ اللہ اللہ۔۔۔۔۔۔ پیغمبر تھے! اللہ سے اصرار بھی تو کر سکتے تھے کہ اے اللہ تو کس آزمائش میں مبتلا کر رہا ہے۔ یہ کیسا امتحان ہے جس میں ایک باپ اپنے ہی ہاتھوں سے اپنے لخت جگر کو قربان کر دے۔ نہ یہ دشمنوں کی تلوار تھی اور نہ ہی حاسدین کا خنجر بلکہ ایک باپ کا چھرا تھا کہ خون سے رنگین ہونے کے لئے بے تاب۔ یوں لگتا ہے جیسے یہ سب دیومالائی کہانی کا حصہ ہو لیکن نہیں، یہ جیتا جاگتا فنا فی اللہ (اللہ تعالی کی ذات میں فنا) کا ثبوت ہے۔

مگر ٹھرئیے! یہ شائد آزمائشیں نہیں تھیں، یہ عاشق کا معشوق سے اور معشوق کا عاشق سے منتہائے عشق تھا جس میں عاشق کو صرف ایک ہی دھن نظر آتی ہے، باقی سب بے معنی اور وہ ہے اپنے معشوق کی اطاعت۔ معشوق مطالبہ کرتا ہے اور عاشق نتائج سے بے پرواہ اطاعت در اطاعت کا دروازہ کھٹکھٹاتا چلا جاتا ہے۔ جب طالب، مطلوب اور مطالبہ یک جان ہوتے ہیں تو پھر عشق لاحاصل، عشق حاصل میں بدل جاتا ہے۔ پھر لوح و قلم تک رسائی ممکن ہو جاتی ہے۔ پھر کائنات کے نظام کو عاشق کی خواہش میں بدل دیا جاتا ہے۔ ماورائے عقل مطالبات کا نتیجہ بھی ماورائے عقل ہی ہوتا ہے۔ پھر فنا کو بھی فنا آ جاتی ہے اور بقا ہی بقا چار سو پھیلتی ہے۔
عشق ابراہیمٔ سے فنا کوسوں دور اور ایسی دور جسے پانچ چھ ہزار سال کا عرصہ فنا تو دور کی بات مندمل تک نہ کر سکا اور جو آئندہ بھی مندمل نہ ہو گا۔ بلکہ عاشق و معشوق کی یہ کہانی ہر گزرتے دن کے ساتھ بقا کے زینے چڑھتی بلکہ ڈینگیں بھرتی نظر آتی ہے اور جس دن اس عشق کو فنا آ گئی اس دن نظام کائنات کو فنا ہے۔ یہ تمام نظام کائنات عاشق کے در پر حاضری لگاتا نظر آتا ہے۔

یہ سلسلہ عشق و محبت ابراہیمٔ پر منقطع نہ ہو گیا بلکہ آنے والی نسلوں تک منتقل ہوتا گیا۔ ہر دور میں انہی آزمائشوں سے گزار کر کندن کیا جاتا رہا اور قربان جاؤں اس نسلِ عظیم پر کہ معلوم تاریخ میں کہیں بھی ایک مرتبہ بھی ان آزمائشوں سے پناہ مانگی یا چھٹکارا کی درخواست یا رحم کی اپیل کی ہو۔ جوں جوں مطالبات بڑھے توں توں اطاعت بھی اسی قوت سے زینے چڑھتی گئی۔ ان ماورائے عقل مطالبات کو بقاء اور دوام اور ایسا صلہ عشق ملا کہ ابراہیمٔ کی زوجۂ اور بیٹۓ تک کے افعال کو اپنی اطاعت کا پیمانہ بنا دیا۔ ان سے روگردانی اطاعت اللہ سے روگردانی بنا دی گئی۔ ان میں نسل در نسل پیغمبر اتار کر ان کو مستقل راہنمائے امت بنا دیا ۔ ہر دور اور ہر علاقے میں انسانیت کی راہنمائی اور ممبر و مسجد انکے حوالے کر دیا اور پھر دوسری لڑی سے آخر میں ایسا دوام ایسا دوام، ایسی بقاء کہ شائد عاشق نے تصور بھی نہ کیا ہو کہ ان مطالبات کا اس قدر جاودانی صلہ کہ نبی آخر الزمانۖ کو ان ہی کی نسل میں بھیج کر سلسلہ نبوت ہر ہی مہر ثبت کر دی اور ابراہیمٔ کی شریعت کو من وعن حضرت محمدۖ کے ذریعے صاف شفاف کروا کر رہتی دنیا تک لاگو کر دیا۔

دنیا کی کم و بیش تمام کیفیات میں سے انکوۖ گزار کر کائنات کی کامل ترین شخصیت بنا دیا۔ کہیں یتیم پیدا کیا تو پھر مسکین بھی بنا دیا۔ تپتے صحراؤں میں بھیڑ بکریاں چروائیں تو کبھی شعب ابی طالب میں مقید کر دیا۔ درختوں کے پتے کھلائے اور کبھی دندان مبارک تک شہید کروا دیئے۔ کبھی فتح کے لئے قطار اندر قطار گردوں اتارے تو کبھی شکست دکھائی۔ بھوک، ننگ، پیاس، غربت، حاسدین، دشمن، کبھی رات کے اندھیرے میں پناہ کی تلاش میں نکلوایا تو کبھی فاتح کی حیثیت سے انکی زبان کے ہلنے کو امان بنا دیا۔ الغرض کون سی ایسی کیفیت ہے جس سے انکاۖ پالا نہ پڑا ہو۔ اور پھر صلہ کیا ملا، غور کریں ذرا! عاشق کی نسل کی سلامتی کی دعا ہر ماننے والے پر دن میں کم از کم پانچ مرتبہ فرض کر کے اس نسل کو بقایا نسلوں اور انسانوں سے ممتاز کر دیا۔

یہ آدابِ فرزندی اور مطالبات ابھی ختم نہ ہوئے بلکہ اسماعیلٔ سے شروع ہونے والا سلسلہ قربانی سرزمینِ کربلا میں اپنی انتہا کو پہنچا۔ سلسلہ انعامات میں سے امام حسینٔ کی شکل میں رہتی دنیا تک صلہ عشق ملنے جا رہا تھا۔ وہی لوگ جن پر اس نسل کی سلامتی کی دعا اور دوا فرض تھی وہی مد مقابل تھے۔ کسی نے یہ نہ سوچا کہ جس خاندان کی سلامتی کی دعا کے بغیر ہماری نماز قبول نہیں ہوتی ہم اسی خاندان کو تہِ تیغ کرنے چلے ہیں۔ وہی اس خون کے پیاسے تھے جس خون کے ذمہ راہنمائیِ امت تھی۔ جو نسل در نسل ممبر پر بیٹھے معشوق تک پہنچنے کا راستہ بتا رہے تھے۔ جن کے خون میں امت کا درد تھا۔ جو صدیوں سے امت کی بھلائی کی خاطر آزمائشوں اور مطالبات کی نہ ختم ہونے والی فہرست میں ہر دور میں پورا اترے تھے۔ اس نسل کے خون میں ہی شامل نہ تھا کہ آزمائشوں سے گھبرا کر آسائشوں کا انتخاب کریں۔ یہ نسل تو پیدا ہی حالات کے الٹ چلنے کے لئے ہوتی ہے۔ یہ تو جمود کو توڑ کر نئی منزلیں دکھاتی ہے۔ یہ کیسے ممکن تھا امام حسینؑ اس فرض اور آزمائش سے منہ موڑتے؟ یہ کیسے ممکن تھا وہ تجدیدِ عہد نہ کرتے ؟ یہ کیسے ممکن تھا وہ اس سلسلہِ عشق پر مہر لگا دیتے جس عشق کے حصول نے انہیں لازوال کیا تھا۔

نہیں یہ ممکن نہ تھا اور پھر وہی ہوا، عشق اوج ثریا پر پہنچا۔ نہ ہی عاشق کے قدم ڈگمگائے اور نہ معشوق کی طرف سے کوئی وعدے وعید۔ شکست، شکست ہوتی ہے اسکی کوئی دوسری شکل نہیں ہوتی۔ یزید اور ابن زیاد کے درباروں میں خوشی کے شادیانے بجے، محفلیں سجیں۔ قرآنی آیات کے تراجم پیش کئے گئے۔ خاندان نبوت ۖ کو برہنہ پاء، برہنہ سر، پابندِ سلال دربارِ یزید میں پیش کیا گیا۔ منادیاں کروائی گئیں۔ نقارے بجائے گئے۔ مٹھائیاں تقسیم ہوئیں۔ الغرض فتح کے تمام لوازمات پورے کئے گئے اور دنیا نے دیکھا امامؑ کو شکست ہوئی، ہاں شکست ہوئی۔ امامؑ یزید کو راندہِ تخت نہ کر سکے۔ امت کو اس سے چھٹکارا نہ دلا سکے۔ حکومت یزید کی تھی یزید کی ہی رہی۔ نہ ہی آسمان سے نالے ٹوٹے، نہ زمین پھٹی، نہ فرشتے مدد کو پہنچے، نہ ہی امامؑ کی گردن کی جگہ دنبہ آیا اور نہ ہی جلتے خیموں کی نار کو گلزار کیا گیا۔ مشیت تھی کہ چپ چاپ تماشائے اہل حرم دیکھتی رہی۔

مگر نہیں یہ امداد کا رکنا نہیں تھا، یہ نظام کائنات کا الٹنا تھا۔ یہاں دنیاوی تاویلات اور الفاظ و معانی کا بدلنا مقصود تھا۔ اس نار کو نار رکھ کر اسکے اثرات بدلائے جانے تھے۔ یہاں شکست کو فتح اور فتح کو شکست بنانا تھا۔ یہاں برہنہ پاء، برہنہ سر اور پابند سلاسل کے مفہوم کو رہتی دنیا تک اور نسل در نسل تبدیل کر کے منتقل کرنا تھا۔ بتانا مقصود تھا کہ کیسے آئیڈیل بدلے جاتے ہیں۔ کیسے بادشاہ وقت کو بے چارگی سے دوچار کیا جاتا ہے۔ کیسے وقت کے ساتھ ساتھ اس نام یزید (بڑھوتری، اضافے) کو “کمی اور گھاٹے” میں بدلنا تھا۔ نام کی اس خوبصورتی کو اس قدر گہنانا مقصود تھا کہ قیامت تک کی آنے والی کسی ماں کے دل میں یہ خواہش ہی پیدا نہ ہو کہ وہ اپنے نومولود لخت جگر کا نام یزید رکھے۔ اس نام کو استعارہ بنانا تھا ظلم، جبر اور بربریت کا۔ ایسی بے نامی اور گمنامی کہ الامان و الحفیظ، نہ کوئی قبر کو دیکھنے کا خواہشمند اور نہ کوئی بخشش کی دعا کرنے والا۔ ایسی اعلان برآت کہ یزید کی اپنی نسل اس کا نام تک لینا گوارا نہیں کرتی اور گمنامی سے زندگی گزارنے میں عافیت جانتی ہے۔

دوسری طرف عقیدت کا یہ عالم کہ لوگ 1400 سال سے نام حسینؑ کو نام کا پہلا حصہ رکھنے سے کتراتے ہیں کہ کہیں بے ادبی نہ ہو جائے۔ اتنا عرصہ بیت جانے کے باوجود اس ظاہری فتح پر جشن منانے والا کوئی نظر نہیں آتا بلکہ اس شکست پر ببانگ دہل احتجاج کرنے والے لاکھوں سر بکف مارے مارے پھرتے سر پٹختے قریہ قریہ نظر آتے ہیں۔

اس ظاہری شکست سے رب نے ایک اور منظر دکھا کر اپنے عاشق سے اپنے عشق کو لازوال کرنا تھا۔ غور کریں جب تک مسلمان اس نسل کے ساتھ محبت، عقیدت اور اطاعت کے رشتہ میں بندھے رہے۔ دنیا و آخرت کی کامیابیاں مسلمانوں کے قدم چومتی رہیں۔ جونہی مسلمانوں نے ان سے منہ موڑا تو ذلت، پسپائی، شکست اور غلامی ان کا مقدر بن گئی۔ اس نسل سے عقیدت جب تک رہی اسلام کی حکومت پھیلتی رہی۔ لوگ جوق در جوق اسلام میں شامل ہوتے رہے مگر اس واقعہ کے بعد ہر نئے آنے کے خواہشمند نے جب اس واقعہ کی طرف نظر دوڑائی تو اس نے اپنے باپ دادا کے دین پر ہی قائم رہنے میں عافیت جانی۔ اس نے سوچا ہو گا کہ جس قوم نے اپنے راہنماۖ کے خاندان کا یہ حال کیا وہ باقی کسی اور کے ساتھ کیا کرے گی؟ اس سانحہ عظیم سے اسلام کی حکومت تو ناپید ہو ہی گئی مگر مسلمانوں کی حکومت کو بھی امن نصیب نہ ہوا۔ اس واقعہ سے قبل کسی سپر پاور کو یہ ہمت نہ ہوئی کہ اسلام کی حکومت میں دخل اندازی کرے یا ریشہ دوانیاں پھیلائے مگر اس کے بعد چشم فلک نے کبھی تاتاریوں کی شکل میں تو کبھی عیسائیوں کی شکل میں تو کبھی یہود کی شکل میں اور اگر کوئی باہر سے نہ ملا تو اپنوں کے ہاتھوں ہی اس امت پر طوفان برپا کر دیا۔ ان کے مردوں کو ذبح کر کے کھوپڑیوں کے مینار بنائے گئے تو عورتوں کو سر دربار نچایا گیا۔ یزید کے ایسے معنے بدلے کہ اس سانحہ کے بعد ایک انچ بھی اضافہ نہ ہو سکا۔ جو مسلمانوں کی حکومت نے اضافہ کیا بھی وہ بھی ذلت و شکست کے بعد واپس کرنا پڑا۔ آج بھی اگر غور کریں تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ دنیا کے نقشے پر سبز نظر آنے والی مسلمان ممالک کم وبیش وہی ہیں جو اسلام کی حکومت نے بنائے۔ یہ اس نسل کا ہی اعجاز ہے کہ جونہی مسلمانوں نے انہیں پس پشت ڈالا، اللہ نے مسلمانوں کو پس پشت ڈال دیا۔

امامٔ کی تحریک صرف اس وقت کے یزید کے خلاف ہی نہ تھی بلکہ اس نظام کے خلاف تھی جس کی بنیادیں رکھی جارہی تھیں، اس سے پہلے کہ یزیدیت اپنا آپ پھیلا دیتی، باطل اور حق آپس میں گڈ مڈ ہو جاتے، امامؑ نے اپنے عمل سے خدائی فلسفہ بیان کر دیا کہ ” مسلمانوں کی حکومت کو اسلام کی حکومت میں بدلنا”۔ آج بھی یزید نام کی تبدیلی کے ساتھ ہماری صفوں میں موجود ہیں۔ جب تک مسلمان، مسلمانوں کی حکومت کو اسلام کی حکومت میں نہیں بدلیں گے تب تک سانحہ کربلا کے اثرات موجود رہیں گے اور تب تک مسلمان جسمانی اور ذہنی غلام ہی رہیں گے۔ وہ اپنی مرضی اور منشاء میں آزاد نہیں ہوں گے اور بالکل ایسے ہی ہوں گے جیسے جسموں پر یزید کی حکومت تھی تو دلوں اور روحوں پر امامؑ کی۔ مگر منشائے رب تو یہی ہے کہ دلوں پر امامؑ کی حکومت ایسی ہو جائے جو جسموں پر اثرات دکھائے، یہ ہو گیا تو اسلام کی حکومت قائم ہو جائے گی، اور بالاخر اسی حکومت کو قائم ہونا ہی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرما رکھا ہے “ان الباطل کان زھوقا” (بے شک باطل مٹنے کیلئے ہی ہے)۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

حسین فاروق نے حساس طبیعت کے سبب قلم و قرطاس سے ناطہ جوڑا اور اب دیپ سے دیپ روشن کرنا چاہتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.