ڈھونڈ کر پیاسوں کو، پلانے لگا ہوں پانی

543

ڈھونڈ کر پیاسوں کو،

پلانے لگا ہوں پانی

سمجھی ہے جب سے میں نے،

کربلا

.

ٹھکرایا گیا ہوں زمانے کا،

پائی ہے میں نے بے دری

اے کاش چڑھ جائے ان ویرانوں میں،

کچھ رنگ مجھ پر حیدری

.

فنا ہوئیں سب مشکلیں،

آفتوں کی ہر بلا ٹلی

نام لے کر اللہ کا،

جو نادِعلی میں نے پڑھی

.

چلتا رگِ ظالم پر،

بنتا ہر مظلوم کی پکار

نام اچھا کتنا،

گر ہوتا میرا ذوالفقار

.

دیکھو عظیم کتنی،

حسین ابنِ علی کی شان ہے

جو جھکا نہ سر، ہے نیزے پر

اور زُباں،

بولتی قران ہے

.

زندہ رہے گا نام،

آلِ رسول ﷺ کا پیام

جب تک فلک پر ہیں چاند ستارے،

اور زمیں پر ۔ ۔ ۔ صبح و شام

سلام ، قمر بنی ہاشم سلام

سلام، غریبِ نینوا سلام

***

کاشف شمیم صدیقی شاعر ہیں اور کالم نگار بھی، کراچی یونیورسٹی سے معاشیات میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کر چکے ہیں، شعبہ صحافت سے وابستگی کو کاشف اپنی زندگی میں پیدا ہونے والی مثبت تبدیلیوں کا موجب گردانتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.