حق کا راستہ اپنانے میں‌ ہی کامیابی ہے

661

جلدی نکال سب.. جلدی ورنہ بھیجہ اڑا دوں گا…. یہ اور ایسے کئی جملے بولتے، آئے روز موٹر سائیکل سوار نوجوان ہاتھوں میں پستول اٹھائے کتنے ہی معصوم شہریوں کی جان لے چکے ہیں۔ جانتے نہیں کس سے بدلہ لے رہے ہیں، اپنے اندر کی تکلیف، اذیت یا پریشانیوں کا، ان غریب لوگوں سے، جو اپنی محنت کی کمائی اپنے بوڑھے والدین کی دوائی یا پھر بال بچوں کا پیٹ پالنے کے لئے جیب میں لے کر نکلتے ہیں، یا پھر وہ نوجوان جو ٹیوشنز پڑھا کر نہ جانے کتنی مشکل سے اپنی پڑھائی جاری رکھنے کے لئے کبھی اپنی فیس لے کر نکلتا ہے تو کبھی مشکل سے پیسے جمع کر کے اس نے یا اس کے والدین نے آن لائن پڑھائی کے لیے اسے موبائل فون یا لیپ ٹاپ دلایا ہوتا ہے۔

دو منٹ بھی نہیں لگاتے، پل بھر میں کسی کی دنیا اندھیر کر دیتے ہیں۔ کسی کے سر سے باپ کا سایہ چھین لیتے ہیں تو کسی کے بڑھاپے کا سہارا ؟؟ ماﺅں کی گودیں اجاڑ دیتے ہیں تاکہ اپنا پیٹ بھر سکیں یا اپنے گھر والوں کا؟؟ کیا وہ جانتے نہیں کہ وہ اپنے پیٹ دوزخ کی آگ سے بھر رہے ہیں۔

مانا کہ معاشرے میں ناانصافی عروج پہ ہے، ۔نوکریوں کے لیے دھکے کھانے پڑ رہے ہیں مگر بدلہ ان معصوموں سے کیوں جو پہلے ہی حالات کے ستائے ہوئے ہیں۔ جب یہ طے ہے کہ جو رزق تمہاری تقدیر میں لکھ دیا گیا تو اس چھینا جھپٹی کا کیا فائدہ؟؟ چار دن اس خون ناحق کی کمائی کھا بھی لی تو پھر وہی فاقے؟ یا پھر ایک اور خون…؟

ایسا لگتا ہے کہ معاشرہ بھیڑیوں کی آماجگاہ بنتا جا رہا ہے جن کے منہ کو انسانی خون لگ چکا ہے۔ کیا یہ وہی مملکت ہے جس کا خواب اقبالؒ نے دیکھا تھا؟ جس کے جوانوں کو شاہین سے تشبیہہ دی گئی تھی؟ کیا تعلیم کا اصل مقصد بھول گئے، تعلیم تو حرام حلال کا فرق بتاتی ہے؟ حقوق العباد بتاتی ہے؟ تو کیا آج ہم نوجوانوں کو اخلاقی تعلیم نہیں دے رہے، ہم انہیں مذہب اسلام سے دور کر رہے ہیں؟

غور کیجیے تعلیم تو ہر کوئی حاصل کر رہا ہے، چاہے وہ چھابڑی فروش کا ہی بیٹا ہے۔ مگر تعلیم حاصل کرنے کا مقصد محض پیسہ کمانا رہ گیا کیونکہ ہم نے انہیں اللہ تعالٰی پر توکل تو سکھایا ہی نہیں؟ ہم نے انھیں یہ پڑھایا ہی نہیں کہ ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور صحابہ کرامؓ تو کتنے ہی دن فاقے کاٹتے مگر زبان شکر کے کلمات جاری رکھتی، وہ تو چھین کر نہیں کھاتے تھے۔

ہمارا دین تو لوٹ مار، قتل و غارت نہیں سکھاتا، وہ تو یہ بتاتا ہے کہ ”ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے“ اور آج گلی محلوں میں، شاہراہوں میں، ہر جگہ ہر روز انسانیت محض چند ہزار روپے کی خاطر قتل کر دی جاتی ہے؟ ان سب کا قصور وار کون ہے؟ ہمارے سیاست دان جنہیں قوم کے مستقبل سے کوئی سروکار نہیں؟ ہمارا نظام عدل، جہاں انصاف بکتا ہے؟ ہمارا تعلیمی نظام جس میں اسلامیات کے مضمون کو دوسرا درجہ یا حیثیت دیدی گئی ہے؟ یا من حیث القوم ہم سب کا قصور ہے جو اتنے بے حس ہیں کہ اپنے پڑوسی کی خبر بھی نہیں رکھتے۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ پیارے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ ”وہ شخص مومن نہیں ہے جو خود تو پیٹ بھر کر کھائے اور اس کا پڑوسی جو اس کے پہلو میں رہتا ہے بھوکا رہے۔“

اگر آج ہم نے غور نہ کیا اور اپنی ذمہ داری نہ نبھائی تو ہمارا معاشرہ بھیڑیوں کا معاشرہ بن جائے گا۔ ہمیں اپنے جوانوں کو پاکستان کے مستقبل کو تباہ ہونے سے بچانا ہو گا اور ان نوجوانوں کے لیے بھی میرا پیغام ہے کہ ماﺅں کی گودیں اجاڑ بھی دیں تو وہ اپنا مستقبل تو پھر بھی نہیں بنا سکتے، کسی کا پیٹ کاٹ کر اپنا بھر لینا، نا انصافی کا انتقام نا انصافی سے لینا، کیا ان کو کبھی سیر کر دے گا، نہیں ہرگز نہیں۔ دنیا میں حق اور باطل ہمارا امتحان ہے، بس ہمیں سارے معاملات ان دو کی کسوٹی پر ماپنے ہیں۔ یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ اس دار امتحان میں صرف حق پر چلنے والا ہی کامیاب ہو گا، باقی سارے خالی دامن ہی رہیں گے۔ یہی محرم الحرام کے مقدس مہینے میں کربلا کا سبق ہے۔ یزید جو باطل تھا آج ہر شخص اس پر لعنت ملامت کرتا ہے جبکہ امام حسین ؓ جنہوں نے نہ صرف حق کا راستہ اپنایا بلکہ قیامت تک کیلئے حق کو واضح بھی کر دیا۔ آج ہر سچا شخص حسین ؓ کا پیروکار بننا چاہتا ہے کیونکہ اسے پتہ ہے کہ حق کا راستہ تھوڑا مشکل ضرور ہے لیکن ہے جنت کا راستہ، ہمیشہ کی خوشیوں کا راستہ، رب جل جلالہ کی رضا کا راستہ ہے تو بس حقیقی کامیابی حق کی طلب اور اپنانے میں ہے۔ رب تعالی سے دعا ہے کہ تمام انسانوں کو حق پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

حریم شفیق معاشرتی و سیاسی موضوعات پر لکھنا پسند کرتی ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.