پیغامِ کربلا سے شعورِ کربلا تک!

672

اسلام مکمل ضابطہِ حیات ہے، کوئی بھی انقلاب یا تبدیلی قربانی مانگتی ہے، نواسہ رسول ﷺ نے وہ عظیم قربانی دی جس کی مثال تا قیامت ممکن نہیں، یہ اللہ تعالی کی خاص مشیت ہے۔

شہادت حسین رضی اللہ عنہ کے بعد کائناتِ انسانی کو دو کردار مل گئے۔ یزیدیت جو بدبختی ظلم، استحصال، جبر، تفرقہ پروری، قتل و غارت گری اور خون آشامی کا استعارہ بن گئی اور حسینیت جو عدل، محبت، امن، وفا اور تحفظ دین مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی علامت ٹھہری، قیامت تک حسینؓ بھی زندہ رہے گا اور حسینیت کے پرچم بھی قیامت تک لہراتے رہیں گے، یزید قیامت تک کے لئے مردہ ہے اور یزیدیت بھی قیامت تک کے لئے مردہ ہے، حسین رضی اللہ عنہ کی روح ریگِ کربلا سے پھر پکار رہی ہے۔ آج سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی روح اجڑے ہوئے خیموں سے ہمیں صدا دے رہی ہے۔ آج علی اکبرؓ اور علی اصغرؓ کے خون کا ایک ایک قطرہ دریائے فرات کا شہدائے کربلا کے خون سے رنگین ہونے والا کنارہ ہمیں آواز دے رہا ہے کہ حسین رضی اللہ عنہ سے محبت کرنے والو! حسینیت کے کردار کو اپنے قول و عمل میں زندہ کرو۔ ہر دور کے یزیدوں کو پہچانو۔ یزیدیت کو پہچانو۔ یزیدیت تمہیں توڑنے اور تمہارے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کے لئے سرگرم عمل ہے، حسینیت تمہیں جوڑنے کے لئے ہے۔ حسینیت اخوت، محبت اور وفا کی علمبردار ہے، یزیدیت اسلام کی قدریں مٹانے کا نام ہے۔ حسینیت اسلام کی دیواروں کو پھر سے اٹھانے کا نام ہے، یزیدیت قوم کا خزانہ لوٹنے کا نام ہے، حسینیت قوم کی امانت کو بچانے کا نام ہے۔ یزیدیت جہالت کا اور حسینیت علم کا نام ہے۔ یزید اندھیرے کی علامت ہے اور حسین روشنی کا استعارہ ہے۔ یزیدیت پستی اور ذلت کا نام ہے جبکہ حسینیت انسانیت کی نفع بخشی کا نام ہے۔

سب مل کر یزیدیت کے خلاف ایک عہد کریں اور وقت کے یزیدوں کے قصر امارات کو پاش پاش کردیں، یزیدیت کا تختہ الٹنے، ظلم و استحصال کا نام و نشان مٹانے اور غریب دشمنی پر مبنی نظام کو پاش پاش کرنے کے لئے اٹھو، اپنے اندر حسینی کردار پیدا کرو اور کربلائے عصر میں ایک نیا معرکہ بپا کردو، اپنے تمام امور میں مصطفوی انقلاب کی راہ ہموار کرو، تاکہ افق عالم پر مصطفوی انقلاب کا سویرا طلوع ہو اور حسین رضی اللہ عنہ کے نام پر یزیدیت کا آخری نشان بھی مٹ جائے۔ دلوں کی سلطنت حسینی کردار کے ساتھ آباد کریں اور اپنی سر زمین کو یزیدی فتنوں سے یکسر پاک کر دیں۔ اس خطے کو ہم ایک بار پھر اہل بیتؓ اور صحابہ کرامؓ کی محبتوں کا مرکز و محور بنا دیں۔

فتنہ و فساد، جنگ، قتل و غارت کی آگ کو بجھا کر حسین رضی اللہ عنہ کے جلائے ہوئے چراغ امن سے اپنے ظاہر و باطن کے اندھیرے دور کریں اور سر زمین پاکستان کو امن کا گہوارہ بنا دیں کہ پاکستان ہماری ہی نہیں پوری ملت اسلامیہ کی امانت ہے۔ یہ خطہ عالم اسلام کی پہلی دفاعی لائن ہے۔ آئیے اسے اسلام کا ناقابل تسخیر قلعہ بنا دیں۔

حسینی مشن کے چراغ جلانے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عظیم اصحاب کرام رضی اللہ عنھم کے نقش قدم اجاگر کرنے کے لئے ہاتھ میں ہاتھ دے کر ایک ہوجاؤ، یہی وقت کی آواز ہے کہ تمام مسلمان بلا تفریقِ تفرقہ و نظریہ اکٹھے ہو کر عالم کفر کے خلاف ایک ہو جائیں۔ اپنے اندر کی نفرتوں کو مٹا دو، کدورتوں کو ختم کردو، اب ہمیں بستی بستی قریہ قریہ محبتوں کے چراغ جلانا ہوں گے۔

مدینے سے کربلا تک کے سفر میں قربانیوں کی ان گنت داستانیں بکھری ہوئی ہیں۔ ان داستانوں کو اپنا شعار بنا لو، شعور کربلا کو ہر سطح پر زندہ کرو، تاریخ کربلا ایک واقعہ نہیں ایک تحریک ہے۔ بھائی، بھائی بن کر اسلام کی سربلندی کے لئے اور قوموں کی برادری میں اپنے کھوئے ہوئے مقام کے لئے ایک ساتھ جدوجہد کرنا ہوگی، دشمنان اسلام مسلمانوں کے اسی اتحاد سے خائف ہیں۔ اپنے قول و عمل سے انہیں بتا دو کہ ہم ایک ہیں، بانہوں میں بانہیں ڈال کر قرون اولیٰ کے مسلمانوں جیسی اخوت اسلامی کا مظاہرہ کرو۔

ناعاقبت اندیش طبقہ جو انسانیت کا بھی دشمن ہے، ہمیں فرقہ واریت میں الجھا کر علم کی روشنی سے محروم رکھنا چاہتا ہے۔ علوم جدیدہ، سائنسی اور ٹیکنالوجی کو ہمارے لئے شجر ممنوعہ قرار دینا چاہتا ہے۔ وہ اپنے مذموم ارادوں کو اسی وقت پایہ تکمیل تک پہنچاسکتا ہے جب ہم اپنی اجتماعی قوت، فرقہ واریت کی نذر کرتے رہیں گے۔ ہمارا اتحاد عالمی سامراج کی موت ہے۔ اللہ تعالی کے حکم کے مطابق اللہ جل جلالہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو کہ یہی شعور کربلا ہے، یہی پیغام کربلا ہے، اس پیغام کی خوشبو کا پرچم لے کر نکلو کہ منزلیں تمہارے قدم چومنے کے لئے بے تاب ہیں۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

قاسم علی سیاسی و سماجی معاملات پر لکھنا پسند کرتے ہیں، شاعری سے بھی شغف ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.