الائیڈ ہیلتھ پروفیشنلز اور حکومتی لاپرواہی‌

645

الائیڈ ہیلتھ پروفیشنلز میڈیکل سائنس کے فارغ التحصیل گریجویٹس ہیں جو ایم بی بی ایس کی طرح ایف ایس سی اور انٹری ٹیسٹ پاس کرتے ہیں اور میڈیکل کالجوں اور یونیورسٹیوں سے 4 یا 5 سال پر مشتمل ڈگری حاصل کرتے ہیں۔ الائیڈ ہیلتھ پروفیشنلز تقریباً 20 فیلڈز پر مشتمل ہیں۔ ہر سال 1500 یا 2000 طالب علم ان اداروں سے فارغ التحصیل ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہ اس کورونا کی وبائی حالت میں ڈاکٹروں اور نرسوں اور پیدا میڈیکس کے ساتھ ساتھ میڈیکل ٹیکنالوجسٹ بھی فرنٹ لائنر ہیں۔

میڈیکل لیبارٹری ٹیکنالوجسٹ روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں ٹیسٹ کر رہے ہیں۔ میڈیکل ریڈیالوجی کے تکنیکی ماہرین کورونا وائرس کے مریضوں کی لا تعداد چیسٹ ایکس رے کر رہے ہیں۔ میڈیکل اینستھیزیا کے تکنیکی ماہرین وینٹی لیٹرز پر کورونا مریضوں کا علاج کر رہے ہیں۔ اس طرح میڈیکل ٹیکنالوجسٹوں کا ہر شعبہ اپنا کام انجام دے رہا ہے اور وہ فرنٹ لائنر ہیں۔ لیکن ہزاروں گریجویٹس بے روزگاری اور نوکری نہ ہونے کی وجہ سے بہت برے حالات میں نظر آرہے ہیں۔

ایک مستند ڈگری حاصل کرنے اور مشق کرنے کے بعد پاکستان میں ان کو کوئی مقام نہیں دیا جا رہا۔ نہ تو انہیں ملازمت ملتی ہے اور نہ ہی ان کو باقاعدہ بنانے کے لیے کوئی کونسل جیسا ادارہ ہے جس کی وجہ سے انہیں عطائی کہا جا رہا ہے۔ ایم بی بی ایس کے پاس پی ایم ڈی سی کونسل ہے، نرسز کیلئے نرسنگ کونسل ہے، فارماسسٹ کے لیے فارمیسی کونسل۔ یہاں تک کہ حکما کے لیے بھی طب کونسل موجود ہے لیکن الائیڈ ہیلتھ پروفیشنلز کو بغیر کسی رہنمائی کے چھوڑ دیا گیا ہے۔ ابھی بھی پاکستان میڈیکل ٹیکنالوجسٹ کے پاس اپنے کورس کے نظم و نسق، اپنے پریکٹس کو منظم کرنے اور اپنے حقوق کی فراہمی کے لیے کونسل نہیں ہے۔ اس وجہ سے ہزاروں افراد طبی تکنیکی ماہرین بے روزگار ہیں۔ وہ اپنی ڈگریوں اور تقدیر پر ماتم کر رہے ہیں۔

2018 اور 2019 میں وفاقی کابینہ نے الائیڈ ہیلتھ کونسل کی تشکیل کے لیے ایک مسودہ پاس کیا لیکن ابھی تک کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔ الائیڈ ہیلتھ کونسل ڈگری یافتہ الائیڈ ہیلتھ پروفیشنلز کا بنیادی حق ہے لیکن پھر بھی اس سے محروم ہیں۔ وزیراعظم پاکستان، صدر پاکستان، وزیر صحت اور منسٹری آف ہیلتھ سروسز کوآرڈینیشن سے گزارش ہے کہ آئندہ ہونے والے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں الائیڈ ہیلتھ پروفیشنلز کونسل کا بل لایا جائے تاکہ ہزاروں ایم فل، پی ایچ ڈی میڈیکل ٹیکنالوجسٹ کا مستقبل بچایا جا سکے اور وہ آزادی سے اندرون و بیرون ملک نوکریاں اور روزگار حاصل کر سکیں۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.