راحت اِندوری اتنے مقبول کیوں تھے؟

1,290

راحت اِندوری دور حاضر میں اردو شاعری کا ایک بڑا نام تھے۔ وہ بھارتی ریاست مدھیا پردیش کے شہر اِندور میں 1950ء میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصلی نام راحت اللہ قریشی تھا، تخلص بھی راحت ہی کیا کرتے تھے جبکہ اندور سے تعلق ہونے کی وجہ سے راحت اندوری کے نام سے مشہور ہوئے۔ ان کے والد کپڑے کے ایک کارخانے میں مزدور تھے۔ غربت کے ہاتھوں مجبور ہو کر انہوں نے بچپن میں ہی تعلیم کے ساتھ ساتھ سائن پینٹنگ شروع کر دی۔ اپنی کالج لائف میں 19 برس کی عمر میں پہلا شعر کہا۔ یوں شاعری کا جو سلسلہ شروع ہوا وہ نصف صدی پر پھیل گیا۔

راحت اندوری نے سخت محنت کے بعد اردو ادب میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ ابتدائی سالوں میں کالج میں شعبہ تدریس سے وابستہ رہے۔ بعد ازاں اندرون اور بیرون ملک مشاعروں کی مصروفیت کے باعث تدریس کی طرف ان کی توجہ کچھ کم ہو گئی۔ پھر اپنی پی ایچ ڈی مکمل کرنے کے بعد وہ یونیورسٹی میں ایک طویل عرصہ اردو پڑھاتے رہے۔

راحت اندوری کی ذات کے بہت سے حوالے تھے، وہ بیک وقت ایک پروفیسر، پینٹر، شاعر اور فلمی نغمہ نگار بھی تھے مگر شاعری نے انہیں زبان زد خاص و عام کر دیا۔ ان کی شاعری میں آخر ایسی کیا بات تھی جس نے انہیں اس قدر مقبول بنایا۔ ان وجوہات کا ایک نظر جائزہ لیتے ہیں:

ان کی مقبولیت کی سب سے بڑی وجہ ان کی بہادری، جرات مندی اور بے خوفی تھی۔ مزاحمتی شاعری میں ان کا شمار صف اول کے شعراء میں ہوتا ہے کہ ایک زمانہ اس کا معترف ہے۔ وہ اپنی شاعری کے ذریعہ اور عام حالات میں بھی اپنی بات بےباکی سے کیا کرتے تھے اور موجودہ ہندوستانی حکومت کے دونوں ادوار کی متعصبانہ پالیسیز پر بھی کڑی تنقید کرتے رہے۔ وہ انٹی اسٹیبلشمنٹ بھی تصور کیے جاتے تھے۔ دراصل وہ اپنے سماج کو ایک مخلوط معاشرہ دیکھنا چاہتے تھے جہاں مختلف نظریات کے لوگ امن و امان کے ساتھ مل جل کر رہ سکیں اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ بھی اچھے تعلقات کے خواہاں تھے۔ آج سے 30 برس قبل لکھی ان کی ایک غزل اب بھی برمحل تھی جب حال ہی میں بےجےپی حکومت کے بنائے گئے متنازعہ قوانین سٹیزن شپ امینڈمنٹ ایکٹ (سی اے اے) اور نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز (این آر سی) کے خلاف مظاہرین نے اسے نعروں کی صورت اپنایا:
سبھی کا خون ہے شامل یہاں کی مٹی میں
کسی کے باپ کا ہندوستان تھوڑی ہے

اور اسی طرح ایک اور شعر جو کہ ہندوستان کے گزشتہ انتخابات میں بہت مقبول ہوا کہ:
سرحدوں پر بہت تناؤ ہے کیا؟
کچھ پتہ تو کرو چناؤ ہے کیا؟

دوم یہ کہ انہوں نے اپنے اچھوتے انداز کی وجہ سے خاصی شہرت حاصل کی۔ وہ جب اسٹیج پر لائیو پرفارم کرتے تو گویا ایک اداکار بلکہ راک اسٹار کا کردار ادا کر رہے ہوتے۔ وہ مجمع کو اپنی مٹھی میں کرنے کا فن خوب جانتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ صبح تین، چار بھی بج جاتے مگر حاضرین وہیں موجود رہتے۔ جس مشاعرہ میں انہوں نے آنا ہوتا تھا اس ہال میں مزید لوگوں کے آنے کی گنجائش نہیں رہتی تھی۔ منتظمین اکثر ان کا مشاعرہ اختتام کے پاس رکھتے تا کہ مجمع قائم رہے۔

ان کی مقبولیت کی تیسری بڑی وجہ یہ ہے کہ ان کی شاعری میں نوجوانوں کے لئے کافی دلچسپی کا سامان ہوا کرتا تھا اسی لئے ان میں خاصے مقبول تھے۔ اندوری کے مشاعروں میں نوجوان بڑی تعداد میں شریک ہوتے تھے۔ وہ اپنے دبنگ انداز، موضوعات، ذخیرہ الفاظ کی وجہ سے انڈیا کے جون ایلیا بھی کہلاتے تھے۔ ابھی گزشتہ ویلنٹائن ڈے ان کی غزل کا ایک مصرعہ سوشل میڈیا صارفین میں بہت مقبول ہوا اور اس کی کافی میمز بھی بنی تھیں: ‘بلاتی ہے مگر جانے کا نہیں’
بلاتی ہے مگر جانے کا نہیں
وہ دنیا ہے ادھر جانے کا نہیں
مرے بیٹے کسی سے عشق کر
مگر حد سے گزر جانے کا نہیں

ان کی پذیرائی کا چوتھا سبب یہ تھا کہ اردو میں شاعری کرنے اور ایک مسلمان شاعر ہونے کے ناتے حمدیہ اور نعتیہ شاعری کے سبب وہ سرحد کے اس پار بھی بہت مقبول تھے۔ پاکستان میں بھی ایک بڑی تعداد ان کو شوق سے پڑھتی اور سنتی تھی۔ ان کی حمد اور نعت کے چند اشعار:
حمد
کیا تو نے نہیں دیکھا، دریا کی روانی میں
بہتے ہوئے پانی میں تیور بھی تو اس کا ہے
تو نوحؑ کا بیٹا ہے، کچھ بس میں نہیں تیرے
کشتی بھی تو اس کی ہے، لنگر بھی تو اس کا ہے
نعت
اگر نصیب قریبِ در نبی(ص) ہو جائے
مری حیات مری عمر سے بڑی ہو جائے
میں میم ح لکھوں پھر میم اور دال لکھوں
خدا کرے کہ یونہی ختم زندگی ہو جائے

راحت اندوری کے شعری مجموعوں کی تعداد نصف درجن سے زائد ہے جن میں ‘دو قدم اور سہی’، ‘موجود’، ‘میرے بعد’، ‘ناراض’ اور دیگر شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ راحت اندوری نے بالی وڈ میں سپر ہٹ فلمی گیت بھی لکھے۔ ‘منا بھائی ایم بی بی ایس’ اور ‘پی کے’ جیسی بلاک بسٹر موویز سمیت کئی موویز کے لیے گیت لکھے، بالخصوص 90′ کی دہائی کے ان کے لکھے گانے آج بھی لوگ سنتے ہیں۔ مثلاً تم مانو یا نہ مانو (خوددار، 1994)، وہ آنکھ ہی کیا (خوددار، 1994)، تم سا کوئی پیارا (خوددار، 1994)، نیند چرائی میری (عشق، 1997)، دیکھو دیکھو جانم ہم (عشق، 1997)، چوری چوری جب نظریں ملیں (قریب، 1998)۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ وہ رجعت پسندانہ سوچ کے حامل، متشدد، شاعری میں مذہب کا استعمال کرنے والے اور نوجوانوں کو اپنی شاعری کی طرف مائل کرنے کے لیے غیر معیاری اور عُرفی شاعری کرتے تھے۔ جب کہ دوسری طرف ان کے حامی انھیں انسان دوست، اردو کی خدمت کرنے والے، انقلابی اور عوامی شاعر مانتے ہیں۔

ہندوستان میں اقلیت سے تعلق رکھنے کے باوجود وہ پورے ملک میں یکساں مقبول تھے۔ وہ دنیا بھر میں اردو مشاعروں کے لیے جایا کرتے تھے۔ پاکستان میں بھی انہوں نے کراچی میں منعقدہ عالمی مشاعرے میں شرکت کی۔ اس کے علاوہ دنیا بھر میں جہاں جہاں اردو بولنے اور پڑھنے والے لوگ بستے ہیں وہ راحت اندوری کے نام سے واقف ہیں۔ اردو شاعری کے لیے ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں کئی ملکی و بین الاقوامی ایوارڈز سے بھی نوازا گیا۔

زندگی کی 70 بہاریں دیکھنے کے بعد حرکتِ قلب بند ہو جانے کے سبب رواں 11 اگست کو ان کا انتقال ہوا۔ بھارتی شاعر اور فلم رائٹر جاوید اختر کے راحت اندوری کی وفات پر کہے گئے الفاظ اور راحت اندوری کے چند اشعار قارئین کی نذر: “راحت صاحب کا انتقال معاصر اردو شاعری اور بحیثیت ِ مجموعی ہمارے معاشرے کے لیے ایک ناقابل تلافی نقصان ہے۔ حبیب جالب کی طرح ان کا تعلق بھی شاعروں کے تقریباً ناپید ہوتے اس قبیل سے ہے جو کہ کڑے سے کڑے وقت میں بھی غلط کو غلط کہنے کی جرات رکھتے تھے۔”

نئے کردار آتے جا رہے ہیں
مگر ناٹک پرانا چل رہا ہے
۔۔۔۔
آنکھ میں پانی رکھو ہونٹوں پہ چنگاری رکھو
زندہ رہنا ہے تو ترکیبیں بہت ساری رکھو
۔۔۔۔
روز تاروں کو نمائش میں خلل پڑتا ہے
چاند پاگل ہے اندھیرے میں نکل پڑتا ہے
۔۔۔۔
وہ چاہتا تھا کہ کاسہ خرید لے میرا
میں اس کے تاج کی قیمت لگا کے لوٹ آیا
۔۔۔۔
ہم سے پہلے بھی مسافر کئی گزرے ہوں گے
کم سے کم راہ کے پتھر تو ہٹاتے جاتے
۔۔۔۔
مری خواہش ہے کہ آنگن میں نہ دیوار اٹھے
مرے بھائی مرے حصے کی زمیں تو رکھ لے
۔۔۔۔
میں آخر کون سا موسم تمہارے نام کر دیتا
یہاں ہر ایک موسم کو گزر جانے کی جلدی تھی
۔۔۔۔
میں پربتوں سے لڑتا رہا اور چند لوگ
گیلی زمین کھود کے فرہاد ہو گئے
۔۔۔۔
روز پتھر کی حمایت میں غزل لکھتے ہیں
روز شیشوں سے کوئی کام نکل پڑتا ہے
۔۔۔۔
لوگ ہر موڑ پہ رک رک کے سنبھلتے کیوں ہیں
اتنا ڈرتے ہیں تو پھر گھر سے نکلتے کیوں ہیں
۔۔۔۔
مزہ چکھا کے ہی مانا ہوں میں بھی دنیا کو
سمجھ رہی تھی کہ ایسے ہی چھوڑ دوں گا اسے
۔۔۔۔۔۔۔۔
سب کو رسوا باری باری کیا کرو
ہر موسم میں فتوے جاری کیا کرو

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

راجہ شہباز سیاسی و معاشرتی موضوعات پر لکھنا پسند کرتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

9 تبصرے

  1. اسام کہتے ہیں

    بہت ہی عمدہ تحریر ہے، الفاظ کا چناؤ جامع اور نفیس ہے۔

    1. شہباز راجہ کہتے ہیں

      آپ کا بہت شکریہ۔

  2. Qurat ul ain کہتے ہیں

    Rahat Andori is an amazing contemporary poet.His  poetry is surprisingly unconventional, very different and challenging…..and the way you have depicted various aspects of his life and literary work is remarkable….More power to you Sir

    1. شہباز راجہ کہتے ہیں

      Thank you very much, ma’am.

  3. مجیب الرحمان کہتے ہیں

    میرے علم میں اضافہ ہوا۔ شکریہ ۔

    1. شہباز راجہ کہتے ہیں

      بہت نوازش۔

  4. Nafees کہتے ہیں

    What an amazing Write up. Beautyfully narrated all the aspects of the life of wonderful poet of our era.

    1. شہباز راجہ کہتے ہیں

      Thanks a lot for your feedback.

  5. مجیب الرحمان کہتے ہیں

    آپکا آرٹیکل پڑھ کے علم میں اضافہ ہوا۔ اس سے پہلے میں راحت اندوری صاحب کی شہرت سے لا علم تھا۔

تبصرے بند ہیں.