ممکنہ سیلابی صورتحال اور حفاظتی اقدامات

393

مون سون بارشوں کا سلسلہ تقریباً ملک بھرمیں جاری ہے اور محکمہ موسمیات اور نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے بارشوں کے ایک نئے دور اورممکنہ سیلابی صورتحا ل بارے انتباہی نوٹس جاری کیا ہے۔ حالیہ بارشوں سے کچھ حد تک پنجاب جبکہ بلوچستان اور سندھ خصوصاً کراچی بہت متاثر ہوا ہے جہاں بنیادی تعمیری ڈھانچہ (انفراسٹرکچر) تباہ ہو کر رہ گیا ہے، ان حالات میں متاثرہ لوگوں پر جو بیت رہی ہے صرف وہی جانتے ہیں۔ علاقوں کے علاقوں ڈوب کر رہ گئے اور شاہراہیں ندیوں کا منظر پیش کر رہی ہیں۔ لوگ گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں، اس نازک صورتحال سے جہاں مالی نقصان ہو رہا ہے وہیں بروقت مناسب خوراک اور حفاظتی اقدامات کی ضرورت ہے تا کہ مختلف طرح کی موسمیاتی بیماریوں سے محفوظ رہا جا سکے۔

بارشوں سے کراچی میں شہری ترقی، حکومتی ترجیحات اور اداروں کی کارکردگی کی قلعی کھل گئی ہے، چوری اور سینہ زوری کی مثال کہ اس پر بھی سیاست زوروشور سے جاری ہے اور ہر کوئی دوسرے کو مورد الزام ٹھہرا کر اپنا آپ بچانے کی کوشش کر رہا ہے، شہر کی کیا صورتحال ہے اس کے باوجود سیاستدانوں کی جانب سے ہم سا کوئی نہیں، کا الاپ جاری ہے۔ مخلوق کس حال میں ہے اس سے کسی کو کوئی سروکار نہیں۔ سلام ہے پاک فوج اور این ڈی ایم اے کو جو شور اٹھنے پر وفاقی حکومت کی ہدایت پر آگے بڑھے اور انتظامات کو کسی حد تک سنبھالا۔ حالیہ دنوں کراچی کے مسائل پر بننے والی سہ جماعتی کمیٹی اور ان کے کام کا انداز دیکھیں تو وہی ڈھاک کے تین پات اور الزام برائے الزام کی سیاست، دعوے جیسے بھی ہوں جتنے بھی ہوں، بہترطرز حکمرانی اور ترجیحات دونوں پر از سر نو عظیم تر قومی مفاد میں غور و فکر کی ضرورت ہے۔

ارباب اختیار چاہے وہ صوبائی ہوں یا وفاقی، تمام متعلقہ سٹیک ہولڈرز کو مل بیٹھ کر تمام تر سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے متاثرہ علاقوں کی بحالی اور آئندہ کے لئے مناسب حفاظتی اقدامات کے ساتھ ساتھ بہترین منصوبہ بندی، جنگلات کے کٹاؤ، وسیع پیمانے پر شجرکاری، ذخیرہ آب کے لئے ڈیموں کی تعمیر خصوصاً کالا باغ ڈیم پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لئے جہاں حکومتی کردار کی اہمیت ہے، وہیں عوامی سطح پرمناسب آگہی اور خود حفاظتی اقدامات بھی انتہائی ضروری ہیں۔ اس ضمن میں چند ایک تجاویزحسب ذیل ہیں جنہیں بروئے کار لاتے ہوئے ممکنہ نقصانات کو کم کیا جا سکتا ہے۔

.1 شہری مون سون کے دوران موسمی حالات سے دستیاب ذرائع مثلاً ریڈیو، ٹی وی ، موبائل فون اور حکومتی اعلانات وغیرہ سے مناسب حد تک باخبر رہیں۔

.2 مناسب حد تک خوراک، ضروری ادویات، مچھردانی، جراثیم کش ادویات اور موم بتی یا ٹارچ کا بندوبست رکھیں تا کہ بوقت ضرورت پریشانی نہ ہو، مزید یہ کہ اپنی ضروری دستاویزات و کاغذات مثلاً شناختی کارڈ ، پاسپورٹ ، تعلیمی سرٹیفکیٹس وغیرہ اور حسب ضرورت رقم بھی محفوظ رکھیں۔

.3 سیلابی صورتحال میں اپنے علاقہ بارے باخبر رہنے کے لئے متعلقہ امدادی مرکز سے رابطے میں رہیں تا کہ بر وقت امدادی کارروائیوں پرعملدرامد میں آسانی رہے۔

.4 دوست احباب اور رشتہ داروں کےساتھ رابطہ رکھیں تا کہ ایک دوسرے بارے حالات کی خبر رہے۔

.5 قیمتی اشیاءمحفوظ اور اونچی جگہ پر رکھیں۔

.6 پالتو جانوروں، مویشیوں کو مون سون کے موسم میں ممکنہ بیماریوں سے بچاؤ کے حفاظتی ٹیکہ جات لگوائیں۔

.7 ممکنہ سیلابی خطرے کے پیش نظر اپنی قریبی مسجد میں اعلانات کروائیں۔

.8 کسی بھی ایمرجنسی صورتحال سے بروقت نمٹنے کے لئے ممکنہ محفوظ راستوں کی نشاندہی کریں اور اس بارے اپنے دوست احباب، رشتہ داروں اور اہل علاقہ کو باخبر رکھیں تا کہ کسی بھی ناگہانی صورت میں جانی و مالی نقصانات کو کم سے کم کیا جا سکے۔

.9سیلاب آنے کی صورت میں اہل خانہ ، مال مویشی اور قیمتی اور ضروری دستاویزات و اشیاءکو پہلے سے نشان دہ محفوظ مقامات پرمنتقل کر لیں۔

.10 محفوظ مقامات پر منتقلی کی صورت میں معذور افراد، بچوں اور خواتین خصوصاً حاملہ کو ترجیحی طور پر منتقل کریں اور کسی بھی پریشانی کی صورت میں علاقائی امدادی ٹیموں سے رابطہ کریں۔

.11سیلابی پانی کی گندگی اورآلودگی سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے خود کو محفوظ رکھنے کے لئے ہاتھ دھوئیں، بازاری کھانوں سے پرہیز کریں، پانی ابال کر پئیں اور ماسک کا استعمال کریں۔

.12 سیلابی پانی میں چلنے پھرنے سے گریز کریں کیونکہ زیرآب سانپ ،تیز دھار دھاتی ٹکڑے اور شیشے نقصان کا باعث ہو سکتے ہیں، اگر چلنا ناگزیر ہو توحسب ضرورت لکڑی یا چھڑی کا استعمال کریں اور پاؤں پولی تھین لفافے کے ساتھ ڈھانپ کر چلیں۔

.13 اہل خانہ اور مال مویشی بجلی کے کھمبوں ، تاروں اور دیگر برقی آلات سے دور رکھیں۔

.14 برقی آلات مثلاً استری، واشنگ مشین اور پنکھے وغیرہ ضروری احتیاط کے ساتھ استعمال کریں کیونکہ اس موسم میں کرنٹ لگنے کا خدشہ ہوتا ہے۔

.15سیلابی پانی سے گھروں کی دیواریں کمزور اور غیر محفوظ ہو سکتی ہیں اس لئے اپنے گھروں میں داخل ہوتے وقت یقین کر لیں کہ دیواریں محفوظ اور پختہ ہیں۔

.16 سیلابی پانی میں ٹریکٹر یا گاڑی چلانے سے پرہیز کریں کیونکہ یہ گاڑی کو اپنے ساتھ بہا لے جا سکتا ہے۔

.17 اگر خدمت خلق کا جذبہ رکھتے ہیں تو بطور امدادی رضاکار اپنا اندراج متعلقہ ضلعی اداروں ، امدادی تنظیموں یا ایمرجنسی سروس کے پاس کروائیں تا کہ بروقت امدادی سرگرمیوں میں آپ سے کام لیا جا سکے۔

.18 باسی اور پرانی خوراک مت کھائیں کیونکہ یہ جملہ پیٹ کے امراض کا سبب بن سکتی ہے، تازہ پکی ہوئی اور صاف ستھری خوراک استعمال کریں۔

.19 سیلابی پانی جلدی امراض کا باعث ہو سکتا ہے اس لئے اس میں تیرنے یا چلنے سے گریز کریں۔

.20 بچوں کی حفاظت مقدم رکھیں اور سیلابی پانی میں مت کھیلنے دیں۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

فرخ نذیر سوشل ایشوز پر لکھنا پسند کرتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.