واقعہ کربلا، اسلام کیلئے سر کٹانے کا عہد

560

ماہ محرم کی سوگوار فضائیں نواسہ رسول حضرت امام حسینؓ اور ان کے 72 جانثار ساتھیوں کی یاد دلاتی ہیں۔ درسِ حسینؓ زندگی بھر کی ہدایت کیلئے کافی ہے کیونکہ خانوادہ رسالت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جس طرح دینِ اسلام کی حفاظت کا حق ادا کیا قیامت تک کوئی اور نہیں کر سکتا۔

امام عالی مقامؓ نے کربلا کے میدان میں شیر خوار بچے سے لے کر جوانوں اور بوڑھوں سمیت سب کو قربان کر کے ثابت کر دیا کہ اللہ تعالیٰ کے دین کو بچانے کیلئے لہو بہانے سے بھی دریغ نہ کیا جائے، ان سے اتنی بڑی قربانی ایسے ہی لی گئی جیسے حضرت اسماعیلؑ کو قربان کرنے کا اللہ پاک نے حکم دیا تھا، قربانیاں‌ اسی گھرانے کا طرہ امتیاز ہیں کیونکہ یہی تو حقیقی وارثان رسالت ہیں اور قرآن انہی کے مقدس گھرانے پر نازل ہوا ہے۔

ہمارے دین کی حفاظت کا ذمہ بیشک اللہ تعالی کے ہی ہاتھ اور اسکی قدرت میں ہے تاہم اللہ تعالی نے اپنے پیغام حق کو اپنے بندوں تک پہنچانے کے لئے ابنیاؑ اور ان کے وارثوں کو وسیلہ بنایا۔ ان وسیلوں نے قربانیوں کا ایک عظیم سلسلہ جاری رکھا۔ یوں یہی وسیلے دین اسلام کی صحیح معنوں میں تبلیغ کرتے رہے اور انسانوں کی زندگی شعور کی ارتقائی منازل طے کرتی گئی۔ تمام تر ابنیاؑ اور پیغمبروں کو اس تبلیغ کے فرض کی ادائیگی کے دوران شدید مصائب اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

حضرت موسی علیہ اسلام کو فرعون کی فرعونیت کا سامنا ہوا تو حضرت ابراہیم علیہ اسلام کا امتحان نمرود کی جلائی ہوئی آگ سے ہوا۔ حضرت لوط علیہ اسلام کی قوم غیر انسانی اور قبیح فعل میں ملوث رہی تو حضرت یونس علیہ اسلام نے مچھلی کے پیٹ میں رہ کر اپنے امتحان کو پورا کیا۔ اسی طرح حضرت نوح علیہ اسلام نے کشتی بنا کر تمام عالم انسانیت کی بھلائی کے لئے دعا کی۔ غرض کہ ہر بنیؑ اور پیغمبرؑ اپنے تئیں دین کی خاطر قربانیاں دیتا رہا اور خدائے واحد کے پیغام کو عوام الناس تک پہنچا کر ان کی بہتری کے لئے مصروف عمل رہا۔

تاہم اگر یہ کہیں کہ واقعہ کربلا نے اللہ تعالی کی ربوبیت اور اسلام کی بقا کے لئے کوشش اورجستجو کو اپنے کمال پر پہنچا دیا تو یہ کسی طور بھی غلط نہ ہو گا۔ امام حسینؓ اور ان کے 72 جانثار ساتھیوں نے اپنے مقدس خون سے اسلام کی بقا کے لئے اتنی قربانیاں دیں کہ رہتی دنیا تک کے لئے یہ دین محفوظ ہو گیا اور اللہ تعالی کے کرم سے اسلام پر نہ تو پہلے کوئی آنچ آئی اور نہ ہی تاقیامت اسے کوئی نقصان پہنچے گا۔

بلکہ دیکھا جائے تو دین اسلام تو امام عالی مقامؓ کے خانوادے کے جان و مال کی قربانیوں سے اور بھی زیادہ منور ہو گیا۔ گویا آج کربلا کا واقعہ محض ایک واقعہ نہیں، ایک تاریخ نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے۔ یہ واقعہ دو بادشاہوں میں جنگ نہیں بلکہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عترت کی قربانیوں کی شاہکار مثال ہے جس نے یہ بتا دیا کہ تخت و تاج صرف دنیاوی بادشاہت کو آشکار کرتا ہے لیکن امام عالی مقامؓ کی محبت تو دلوں میں گھر کرنے والے شہنشاہ کی محبت ہے۔

نہ صرف اس گھرانے کے جوان خواہ وہ علی اکبرؓ ہوں یا عباسؓ علمدار ، معصوم مجاہدین قاسمؓ ہوں یا عونؓ و محمدؓ یا سن رسیدہ حضرت حبیب ابن مظاہرؓ، سب نے امام حسینؓ کی دعوت حق پر لبیک کہا، امام عالی مقامؓ کےکسی ساتھی نے کسی مقام پر بھی انھیں تنہا نہیں چھوڑا اور مصائب سے کبھی نہیں گھبرائے۔

واقعہ کربلا کی حقیقت کو اگر انسان صرف ایک فیصد بھی سمجھ لے تو یہ جان لے کہ آج جو یہ انسانی وقار اورہماری عزت نفس کی بحالی ہے وہ اسی کربلا کی مرہون منت ہے۔ جس کربلا نے انسانی ضمیر کو بیدار رکھا ہوا ہے اور اسی کربلا نے ہمیں انسان ہونے کا حق واپس دلوایا ہے۔ کربلا حق و باطل کا معرکہ، صبر و استقامت کی داستاں ہے، کربلا جانثار ساتھیوں کا کاررواں ہے تو بیٹیوں کے پردہ کی قربانی کا نام ہے، کربلا دربار یزید میں بی بی زنیب ؓ کے خطبات کا نام ہے۔

کربلا تپتی ریت پر چھ ماہ کے علی اصغرؓ کی تشنگی کا نام ہے، کربلا راہ خدا میں دی جانے والی قربانی کی انتہا ہے بلکہ سچ پوچھیے تو کربلا ہر باضمیر اور ذی شعور انسان کے دل میں بستی ہے۔ امام حسینؓ سے محبت کے لئے کسی ایک خاص فرقہ کا پیروکار ہونا ضروری نہیں بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ عشق حسینؓ کسی مذہب اور فرقہ کی قید سے آزاد ہے۔ امام حسینؓ کے غم میں تو تمام غیر مسلم بھی شریک ہیں بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ امام عالی مقامؓ ہر اس انسان کے امام ہیں جس کا ضمیر زندہ ہے، جس میں آدمیت اور محبت انسانیت باقی ہے۔

آج اگر ہمیں یہ عہد کرنا چاہیے کہ امام حسینؑ کی زندگی پر عمل کرتے ہوئے حق کی بقا کےلئے ہر قسم کی قربانی دینے کے لئے تیار ہیں ۔ ہم امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے لئے کام کرنے کو تیار ہیں۔ ہم کربلا کی یاد مناتے ہوئے اس عہد کی تجدید کرتے ہیں کہ ہم اپنے ضمیر کو ہمیشہ زندہ رکھیں گے ۔ ہم اپنے دلوں میں کربلا بسائیں گے اور کربلا کے شہدا کے نقش قدم پر چلتے ہوئے انسانیت کی بھلائی کے لئے ہر ممکن اقدامات کریں گے۔ اللہ تعالی ہمیں مقصدِ کربلا کو حقیقی معنوں میں سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

راضیہ پیشے کے اعتبار سے صحافی ہیں، گذشتہ 16 سال سے مختلف اخبارات اور ٹی وی چینلز سے بطور محقق، رپورٹر اور پروڈیوسر منسلک ہیں اور ملکی و غیر ملکی پلیٹ فارمز پر قلم کاری بھی کرتی ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.