اسیرِ ذات کا المیہ

544

انسانی دماغ مختلف سوچوں کی آماجگاہ ہوتا ھے، سوچوں کا ریلہ میرے بھی دماغ میں چلتا ہوا ایک موضوع پہ رک گیا۔ وہ موضوع ہے اسیرِ ذات، ہم پاکستانی شروع سے ہی کسی نہ کسی کی ذات کے اسیر رہے۔ انہیں نہ صرف اپنا حکمران بنایا بلکہ ان کی آنے والی نسلوں کے بھی غلام بنتے چلے گئے اور نہ ہی کبھی ان سے ان کی کارکردگی کا جواب مانگا۔ کیوں کہ کیا کبھی غلاموں نے بھی جواب مانگا ہے۔ اسیرِی ہمیں ورثے میں ملی پہلے ہم انگریزوں کے غلام تھے۔ پھر سیاستدان جو ہمارے حکمران بنے ان کے غلام ہو گئے۔

زیادہ دور نہیں جاتے، اپنے قریب کی انہی جماعتوں کی بات کر لیتے ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کی جماعت جس میں بھٹو کے خاندان کا اب کوئی بھی نہیں۔ پیپلز پارٹی نے بہت سی غلطیاں کیں، گزشتہ 30 سال سے سندھ میں حکمران ہے۔ اس کے نعرے روٹی، کپڑا اور مکان نے سندھ کو کیا دیا،صرف تباہ حال انفراسٹرکچر اور کرپشن دی۔ کراچی جو کبھی روشنیوں کا شہر تھا، آج پانی پانی ہونے کا شہر ہے۔ سندھ کے حالات جاننے کے باوجود ہم ” بھٹو زندہ ہے ” اور ” جئے بھٹو “کا نعرہ لگاتے ہوئے ان کی اولادوں کو اپنا مائی باپ مانتے ہوئے پھر ووٹ انہی کو دیں گے اور ایک بار کے آزمائے ہوئوں کو پھر آزمائیں گے کیوں کہ ہم وراثتی طور پہ اسیر ہیں۔ بھٹو کی اسیرِی وراثت میں ملی ہے اور ان کی نالائقی اور کرپشن کا دفاع ہمارا اولین فرض ہے۔

گوروں کے ملک میں جہاں کچھ دن پہلے ہمارے ملک کے تین دفعہ کے وزیراعظم اپنے ولی عہد کے ہم راہ سیر کر رہے تھے، وہ اپنی شدید بیماری کا علاج کروانے ملک سے باہر گئے، ان کی کارکردگی کا اندازہ اس بات سے لگا لیں کہ ملک کا تین دفعہ کا وزیراعظم اپنے لیے ایک ہسپتال نہ بنا سکا جس میں اس کا علاج ہو سکے اور جس کی کرپشن کے قصے لاتعداد ہیں۔ اس جماعت کی کرپشن کا ایک تازہ قصہ اسلام آباد کا ائیرپورٹ ہے جس کی چھت اور رن وے حالیہ بارشوں سے خراب ہوگیا، وجہ ناقص مٹیریل لیکن ان سے اس بارے میں کوئی سوال نہ کریں، اگر کیا تو ان کے اسیر سڑکوں پہ آ جائیں گے اور آپ کی تواضع صدقے کے گوشت سے ہو سکتی ہے۔ ان کے اسیر کبھی نہیں مانیں گے کہ نوازشریف نے کچھ غلط کیا ہے۔ اور” شیر، اک واری فیر ” کا نعرہ لگاتے لگاتے ان کی آنے والی نسلوں کی اسیرِی قبول کر تے رہیں گے۔

تمام مراحل سے گزرنے کے بعد میری سوچ ملک کی تیس ی جماعت پی ٹی آئی کی طرف مڑی، اس جماعت کے زیادہ تر افراد دوسری جماعتو ں کی پیداوار ہیں۔ ملکی سیاست میں کوئی نہ کوئی طوفان لائے رکھتے ہیں۔ انہیں اگر ناتجربہ کاری کا فائدہ بھی دیا جائے تو بھی ان کی انتظامی غلطیاں بہت ہیں جن میں کرپٹ عناصر کے سدباب میں ناکامی، بے لگام چینی، آٹا، اور نہ جانے کون کون سے مافیاز، ان کے اسیر بھی کچھ کم نہیں یہ بھی اپنی جماعت کا بھرپُور دفاع کرتے نظر آئیں گے۔

لیکن ہمارے بڑھتے ہوئے مسائل اور گھٹتے ہوئے وسائل کے ذمے دار یہ جماعتیں نہیں، ہم خود ہیں۔ ہم ان کی ذا ت کے ایسے اسیر ہوئے کہ ہم سب بھول گئے۔ حتی کہ پاکستان کو بھی اس کی ترقی و خوشحالی اگر کوئی قصوروار ہے تو وہ ہم خود ہیں۔ ہم ان کے ایسے اسیر ہوئے کہ غلام ابنِ غلام بنے رہے اور ان کی کوئی غلطی ہمیں غلطی نہ لگی۔ اگر لگی بھی تو اس کا دفاع کیا۔ کیوں کہ جن کے ہم اسیر ہوتے ہیں، کیا ان کی غلطیاں بھی کبھی غلطیاں لگی ہیں۔۔۔؟

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

یسریٰ جاوید سیاسی اور سماجی موضوعات پر لکھنا پسند کرتی ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

1 تبصرہ

  1. Shirazi کہتے ہیں

    نواز اور زرداری کے کرتوتوں کے مقابلے میں تاریخ ہند کے مشہور زمانہ کردار میر جعفر اور میر صادق اگر واپس آسکتے تو ان دو حضرات کے مقابلے میں ملک کے اعلی ترین عدالت میں فرشتہ ہونے کا دعوی کرتے۔جہاں تک جناب عمران خان اور پی ٹی آئی کا تعلق ہے آپ کی رائے میں بدرجہا ۓ اُتم تصحیح کی گنجائش ہے۔ یہ نادر روزگار شخص اس اپنوں کے ہاتھوں برباد دیش کو ٹریک پر لانے کےلئے پورے بائیس سال جدوجہد کےبعدبہنچے ہیں۔ برسوں کی بربادی کو آبادی میں بدلنے کے لئے کیسے بھلا آپ ہفتوں میں آبادیکی توقع کررہی ہیں؟؟ صحیح سمت میں درست قدم کتنا ہی چھوٹے سائز کا کیوں نہ ہو ، ہوتا نتیجہ خیز ہے۔ عمران خان تو اچھے خاصے سائز کا قدم درست سمت میں لے چکا ہے۔ ستر سال کی بربادی برداشت کرنے کےبعد دس یک سال اس نادر روزگار شخص کو نہ دینا عمران خان کے ساتھ زیادتی ہیں ملک عزیز کے ساتھ ظلم ہوگا۔

تبصرے بند ہیں.