معاشی انصاف نہ ہو تو جرائم جنم لیتے ہیں

766

معاشی انصاف سے مراد معاشرے میں موجود تمام افراد کے لئے ایسے مواقع اور حالات پیدا کرنا ہے جس کے ذریعے وہ نہ صرف اپنی تمام بُنیادی ضروریات باعزت طور پر پوری کر سکیں بلکہ اپنے رجحان کے مطابق تخلیقی اور بامقصد زندگی بسر کر سکیں۔ معاشی انصاف دراصل سماجی انصاف ہی کی ایک کڑی ہے۔ تمام انسانوں کی ذہنی اور جسمانی صلاحیتیں یکساں نہیں ہوتیں اور ہر انسان کا ماحول اور وراثت میں ملنے والی خصوصیات بھی مختلف ہوتی ہیں۔ اِس لیے انفرادی کوشش اور محنت سے حاصل کردہ نتائج بھی یکساں نہیں ہو سکتے لیکن اِس کا ہرگز یہ مطلب نہ نہیں کہ چند لوگ تو عیش و آرام کی زندگی بسر کریں اور دیگر تمام لوگ دکھ اور تکلیف میں مبتلا رہیں۔

محنت اور بدلے کے درمیان توازن قائم کرنا انسانی فطرت کے عین مطابق ہے، اِس سے نفسِ انسانی میں راسخ میلانات کے تقاضے بھی پورے ہوتے ہیں، مزید برآں اِس سے انسان میں آزادی اور عزتِ نفس پیدا ہوتی ہے، شخصیت میں وقار پیدا ہوتا ہے، معاشی انصاف معاشرے میں امن کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔ معاشرے میں بھائی چارے کا تصور کوئی معنی نہیں رکھتا جب تک انصاف نہ ہو۔ معاشی انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ دُنیا کے تمام وسائل تمام انسانوں کی بھلائی کے لیے خرچ ہونے چاہئیں، بنیادی ضروریات کی فراہمی افراد کی محنت سے مُنسلک ہونی چاہئے، البتہ بوڑھے اور معذور لوگوں کی ضروریات کو پورا کرنا حکومتِ وقت کی ذمہ داری ہے۔

محنت و جدوجہد اور آگے بڑھنے کی لگن کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے جہاں انفرادی ملکیت رکھنے کی اجازت دی جانی چاہیے وہیں ایسے ذرائع جن پر عوامی بہبود کا انحصار ہو اُن کی ملکیت بھی چند افراد کے ہاتھوں میں جانے سے روکنے کیلئے بھی مؤثر قوانین کے اجرا کی ضرورت ہے۔

اگرچہ ہر انسان اپنی صلاحیت کے مطابق دولت کمانے اور رکھنے کا مجاز ہے مگر اہم ہے کہ دولت بامقصد کاموں میں خرچ کی جائے، محض نمودونمائش کی خاطر روپے کا استعمال ایک ناپسندیدہ عمل ہے۔ اس کے معاشرتی سطح پر منفی اثرات رونما ہوتے ہیں۔ مثلاً شادی بیاہ پر اُمرا کی جانب سے دولت کی نمائش سے غربا احساسِ کمتری کے بوجھ تلے دب جاتے ہیں، پورے معاشرے پر اس طرح سے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں کہ اکثر لوگوں کے لیے اپنی بیٹیوں کی شادی کی ذمہ داری سے عہدہ برآ ہونا ایک مشکل کام بن جاتا ہے۔

اس ضمن میں ایک اضافی بات جو مشاہدے میں آتی ہے کہ آجکل موبائل فون پر مختلف قسم کی لغو کھیلیں کھیلی جاتی ہیں جن پر کثر لوگ اپنا قیمتی وقت اور پیسہ ضائع کرتے ہیں بلکہ بچوں کو ایکس باکس اور پلے سٹیشن جیسے مہنگے آلات بھی خرید کر دیتے ہیں، یہ اشیا بھی بچوں کی سطح پر مقابلہ بازی جنم دیتی ہے۔ اس طرح کی کئی ایک مثالیں ہیں جو معاشرے میں آگے چل کر تفریق پیدا کرتی ہے۔ یوں بچے جسمانی ورزش سے دور ہو جاتے ہیں بلکہ ان میں ایک دوسرے سے ملنے جُلنے کی عادت بھی ختم ہو جاتی ہے۔ پس خدا کی عطا کردہ تمام نعمتیں تمام انسانوں کے لئے مُسخر کی گئی ہیں، چند افراد کو اِن پر قابض ہو کر باقیوں کو اِن سے محروم کرنے کا حق حاصل نہیں، ورنہ معاشرہ جرائم جنم دیتا ہے اور شکست و ریخت کے شکار معاشرے دیگر قوموں کے مقابلے میں اپنا وقار اور پھر گزرتے وقت کے ساتھ اپنا وجود تک کھو دیتے ہیں۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

سائرہ تنویر درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ ہیں، مختلف موضوعات پر تعمیری سوچ دوسروں تک پہنچانے کیلئے فن تحریر کو اپنایا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.