امن کے جھانسے میں گریٹر اسرائیل کیلئے پیشرفت

694

متحدہ عرب امارات کا اسرائیل کو تسلیم کرتے ہوئے سفارتی تعلقات قائم کرنے کا فیصلہ اس کی جانب سے خطے میں امن کی طرف پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے اور ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہو رہا۔ یادش بخیر 1993 میں ہونے والے اوسلو معاہدے کو بھی مشرق وسطی کے لئے امن کا پیامبر کہا گیا تھا لیکن امن تو خیر کیا قائم ہوتا، بے چارے فلسطینی عوام کے حقوق ہی مرحلہ وار غصب ہوتے چلے گئے۔

اسرائیل کے خلاف صف آراء اور جنگ لڑنے والے عرب ممالک میں اسرائیل کو تسلیم کر کے اس ساتھ کھڑے ہو کر اپنے ہی مسلمان بھائیوں کے خلاف استعمال ہونے کا سلسلہ ستمبر 1978ء میں انورالسادات کے کیمپ ڈیوڈ معاہدہ سے ہوا جس نے خطے میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کی ایک نئی دوڑ شروع کر دی۔ وقتی طور پر عرب لیگ نے مصر کی رکنیت معطل کردی لیکن پھر نہ صرف اس کی رکنیت بحال کی بلکہ خود بھی اسی دوڑ میں شامل ہو گئی۔ اب جس حکمران کو بھی خود اپنے عوام یا کسی برادر ملک کے خلاف سہارے کی ضرورت ہوتی، ہ قبلۂ اول پر قابض دشمن سے دوستی کے رشتے قا ئم کرنا شروع کر دیتا۔ پہلے مصطفیٰ کمال پاشا اور اس کے وارث ایسا کررہے تھے، اب خطے کا سب سے اہم ملک مصر بھی ان کی صفوں میں شامل ہو گیا۔ بظاہر اس معاہدے کے نتیجے میں صحرائے سینا سے صیہونی فوجوں کا انخلا ہوا، لیکن ایسی کڑی شرطوں کے ساتھ کہ گویا وہاں موجود مختصر سی مصری افواج عملاً اسرائیل افواج کے ماتحت کام کر رہی ہو، مصر کے بعد اردن بھی اسی روسیاہی کا شکار ہوا۔

اگست 1993ء میں کئی سال مذاکرات کے بعد ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں یاسر عرفات نے امن کے نام پر ایک طویل مدتی معاہدہ کر لیا۔ اس معاہدے کے تحت غزہ اور مغربی کنارے میں فلسطینی اتھارٹی کو بعض اختیارات دے دیئے گئے لیکن اس معاہدے کا سب سے قبیح پہلو یہ تھا کہ چند وعدوں کی قیمت پر سرزمینِ اقصیٰ کے 77 فیصد سے زائد علاقے پر اسرائیلی قبضہ تسلیم کرلیا گیا تھا۔ سب سے اہم اور حساس معاملہ، یعنی بیت المقدس کا مستقبل بعد کے کسی مرحلے کے لیے اٹھا رکھا گیا تھا۔ فلسطینی اتھارٹی نے نہ صرف یہ عہد کیا کہ وہ آئندہ کبھی اسرائیل کے خلاف قوت کا استعمال نہیں کرے گی بلکہ یہ معاہدہ بھی کیا کہ اگر کوئی بھی فرد یا گروہ ایسا کرے گا، تو فلسطینی اتھارٹی اس کا قلع قمع کرے گی۔

مزید ذلت آمیز شرط یہ رکھی گئی کہ اسرائیلی افواج جب چاہیں گی فلسطینی علاقوں میں آ کر کارروائیاں کرسکیں گی۔ ان کے آنے پر فلسطینی اتھارٹی کی پولیس یا فوج کے تمام افراد ان کے راستے سے روپوش ہوجائیں گے۔ اگر کبھی ایس صورت پیدا ہوگئی کہ اسرائیلی فوجی اتنی اچانک آجائیں کہ وہاں سے نکلنا ممکن نہ ہو تو فلسطینی سپاہی اپنا اسلحہ زمین پر رکھ کر دیوار کی طرف منہ کرکے کھڑے ہوجائیں گے یہاں تک کہ اسرائیلی فوج وہاں سے چلے جائیں۔ اس معاہدے میں فلسطینی مہاجرین (اب تک جن کی تعداد 70 لا کھ تک پہنچ چکی ہے) کے بارے میں کوئی بات نہیں ی گئی تھی۔ فلسطینی علاقوں میں مسلسل تعمیر کی جانے والی یہودی بستیوں کے بارے میں بھی چپ سادھ لی گئی۔ مکمل طور پر اسرائیلی رحم و کرم پر جینے والی فلسطینی اتھارٹی کا سب سے بنیادی مقصد فلسطینی عوام میں روز افزوں تحریک انتفاضہ کو کچلنا رہ گیا۔ یعنی جو کام خود صیہونی افواج انجام نہیں دے سکی تھیں، وہ اب خود فلسطینی اتھا رٹی سے کروایا جانے لگا۔ اس ذمہ داری کے لیے محمد دحلان نامی شخص کا انتخاب بھی خود ہی کردیا گیا۔ اس شخص نے مغربی کنارے اور غزہ میں جاسوسی، جیل خانوں اور اذیت گاہوں کا ایک وسیع نظام قائم کیا۔ تھوڑے ہی عرصے میں تحریک مزاحمت و آزادی کے کئی اہم ترین رہنما شہید ہوئے اور بڑی تعداد میں گرفتار ہوئے۔ اس کے بعد سے فلسطینی اتھارٹی کا کام بس یہی رہ گیا ہے کہ عسکریت یا تحریک آزادی فلسطین کو بالکل کنارے لگا دیا جائے۔

فی الحال اسرائیل تسلیم کرنے کی اس دوڑ میں بحرین اور عمان کے ساتھ سوڈان کا نام بھی لیا جا رہا ہے حالانکہ 1967 میں سوڈان کے دارالحکومت خرطوم سے عرب لیگ کے سربراہی اجلاس میں اہم پیغام دیئے گئے تھے۔ کہا گیا تھا کہ “اسرائیل کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے، اسرائیل سے کبھی مذاکرات نہیں ہوں گے اور اسرائیل کے ساتھ کبھی امن ( معاہدہ) نہیں ہو گا۔” مگر رواں سال سوڈانی صدر نے نیتن یاہو سے خفیہ ملاقات کی جسے خود صیہونی حکومت نے ہی طشت ازبام کر دیا تو سوڈانی صدر نے تاویل پیش کی کہ سوڈان کو بلیک لسٹ سے نکالنے اور سوڈان پر عائد پابندیاں ختم کروانے کے لئے ملاقات کی تھی۔ اسرائیل اس سلسلے میں سوڈان کی مدد کر سکتا ہے یا نہیں بہر حال یہ ضرور ہوا کہ اسرائیلی ایئر لائن نے جنوبی امریکہ اور افریقہ کے کئی ممالک تک پہنچنے کے لئے اپنے جہاز سوڈان کی فضائی حدود سے گزارنا شروع کر دیئے جس کی وجہ سے پروازوں کا سفر ایک تا تین گھنٹے کم ہو گیا ہے۔ جو اسرائیل کی نفسیاتی ہی نہیں، بڑی اقتصادی کامیابی بھی ہے۔

رواں سال ہی 28 جنوری کو امریکی صدر ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے فلسطین کے بارے میں اہم منصوبہ پیش کرتے ہوئے اسے ڈیل آف سنچری قرار دیا اور اعلان کیا کہ “اسرائیل اب ایک یہودی ریاست ہے اور پورے کا پورا بیت المقدس اس کا ابدی اور ناقابل تقسیم دارالحکومت ہے”۔ دوسری جانب وہ یہ بھی کہتا ہے کہ ہم اس وقت عرب اور مسلم ملکوں کے ساتھ تعلقات قائم کرنے میں عروج  تک پہنچ گئے ہیں۔ جس سے اسرائیل عالمی اور علاقائی سطح پر ایک سپرپاور کی حیثیت سے ابھرے گا۔”

ایک جانب یہ صیہونی عزائم اور دوسری جانب خئن اور مفاد پرست مسلم حکمران ہیں، امارات کے بعد بارہ دیگر اسلامی ممالک سے تعلقات قائم کرنے کا دعویٰ خود اسرائیل کی جانب سے کیا جا رہا ہے جو ثابت کر رہا ہے کہ دنیا کی بڑی طاقتیں، خائن حکمران اور صیہونی وسائل سرزمین فلسطین کو ہڑپ کرنے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔ ایسے میں مسلمان حکمرانوں کو یہودی وزیراعظم بن گورین کا وہ اعلان یاد رکھنا چاہیے کہ ‘ ‘آج ہم نے یروشلم (بیت المقدس) پر قبضہ کرلیا ہے، اب ہماری گلی منزل یثرب ہے”۔ چوتھی اسرائیلی وزیراعظم گولڈا مایر نے سرزمینِ حجاز کی جانب رخ کرتے ہوئے کہا تھا: ”مجھے مدینہ اور حجاز سے اپنے آبا و اجداد کی خوشبو آ رہی ہے۔ یہ ہمارا علاقہ ہے اور ہم نے اسے واپس لینا ہے”۔

\ان صیہونی عزائم سے ثابت ہے کہ خطے میں امن کے جھانسے میں اسرائیل کے عرب امارات سمیت دیگر ممالک سے معاہدے گریٹر اسرائیل کی توسیع کا منصوبہ ہے جو سر زمین حجاز کے بغیر نامکمل ہے۔ اس معاملے میں مسلم ممالک کی جانب سے پہلوتہی ایک بہت بڑی غفلت اور فلسطینی عوام سے خیانت کے مترادف ہے۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

صفیہ نسیم معاشرتی اور تاریخی موضوعات پر لکھنا پسند کرتی ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.