غربت کے مارے بچوں کی دلخراش آہ!

427

اَب تک سنورنے والی تہذیب کی بنیاد اور اظہار لازمی طور پر مادی اشیاء پر ہے۔ انسانی تعلقات اور رویئے بدستور تحکم اور طاقت کے استعمال پر مبنی ہیں۔ رویئے تجریدی ہوتے ہیں اور نہ ہی ان کا اظہار ہوا میں ہوتا ہے۔ تعلقات کا اظہار مختلف رویوں، کام، زبان، حرکات و سکنات اور چیزوں کے تبادلے کی صورت میں کیا جاتا ہے۔ تحکمانہ نظام معاشرت میں رویوں کے ذریعے دوسروں کو چھوٹا ثابت کرنے کی سعی کی جاتی ہے۔ اسی طرح چیزیں بھی ادنیٰ یا اعلیٰ ہونے کا بنیادی معیار بن جاتی ہیں۔

ایسے مصنوعی نظام میں انسان کے اردگرد انسان تو ہوتے ہیں مگر ان سے تعلق میں انسانی جذبے اور گرمی نہیں ہوتی۔ یہ سب مصنوعی اور غیر فطری ماحول ہوتا ہے اور جب وہ ذرا سا بھی کمزور پڑ جائے تو یہی صورتحال اسے کھا جاتی ہے۔ اس طرح کثرت کی خواہش دراصل اس کی بے لذت زندگی اور آخرکار خودکشی کا باعث بنتی ہے۔

دوسری طرف اسی نظام میں غریبوں کو خام مال کی طرح استعمال کیا جاتا ہے۔ اگر غریبوں کو انسان تسلیم کر لیا جائے تو انھیں اپنی قابلیتوں کی نشونما کے لیے مواقع فراہم کرنا ہوں گے۔ یہ بھی ممکن ہے غریبوں کو انسان تسلیم کر لینے کے واضح اظہار کے باعث غریبوں میں ازخود احساس اور طاقت آجائے اور وہ اپنی قابلیتوں کو بڑھانے کے لیے ضروری مراعات کا تقاضا کرنے لگیں۔ مگر آج تک ان دونوں صورتوں کا واضح اظہار نہیں ہو سکا جس کی بدولت غریب خود تو پستا ہی ہے لیکن، اس کے نونہالوں کی کہانی بھی یوں ہے:۔

بے قیمت کپڑے، نہ اعلیٰ تعلیم کا حق، بس جب مَیں پیدا ہوا تو پرانے سے چیتھڑے میں لپیٹ دیا گیا۔ میری پیدائش سے پہلے کوئی خوشی نہیں۔ نہ سویٹر نہ ٹوپی اور نہ ہی موزہ، کچھ بھی تو نہیں تھا۔ مجھے گرم اور زندہ رکھنے کو بس کمزور ماں ہی تھی، اس نے ہی مجھے بچا لیا۔ یہ بھی بہت ہے کہ میں سرکاری ہسپتال میں پیدا ہوا جبکہ میرے جیسے اور بہت سارے بچے تو اکثر سرکاری ہسپتال کے گیٹ یا کوریڈور میں ہی پیدا ہو جاتے ہیں ، کبھی بروقت ہسپتال میں داخلہ نہ ملنے اور کبھی ہسپتال پہنچنے میں دیر ہوجانے پر، بلکہ زیادہ تر تو گھر میں ہی غیر تربیت یافتہ دائیوں کے ہاتھوں اور اس سے بھی بڑھ کر غربت کی ماری بے بس ماں مجھے سٹرک پر جنم دینے پر مجبور ہوتی ہے۔

میں مفلس کا بچہ ہوں، ملک کی آبادی کا 35 فیصد حصہ ہوں۔ میرے کئی روپ ہیں۔ میں لڑکی بھی ہوں اور لڑکا بھی، کچی آبادی کا باسی ہوں۔ میں گلی میں رُلنے والا بچہ بھی ہوں جس نے سکول کی کبھی شکل نہیں دیکھی۔ میری بے سہارا ماں میری پرورش کے لیے برتن دھوتی ہے، کپڑے صاف کرتی ہے، جھاڑو لگاتی ہے، اس بے رحم معاشرہ میں عزت نیلام کرتی ہے، بالوں میں سفیدی کے باوجود، دولت کے نشے میں سرشاروں سے ” اوئے” کے الفاظ سنتی ہے، نوکر کہلاتی ہے۔ میرا باپ منوں وزن اٹھاتا ہے، ہوٹلوں پر برتن صاف کرتا ہے، ہزاروں ارمانوں تلے دب کر ہزاروں جھڑکیاں سہتا ہے، پھر دونوں بے بسی کے آنسو بہاتے ہیں۔ وہ آنسو نہیں، خون ٹپکتا ہے جو شائد ہی کبھی لوگوں کو نظر آئے:
ہوائیں سرد اورجسم بے لباس ہے میرا،
امیر شہر تجھ کو ہے ذرا بھی احساس میرا؟

ماں، باپ کے دکھ درد کو دیکھ کر میں کبھی قہوہ بیچتا ہوں، کبھی گاڑیوں کے ٹائر صاف کرتا ہوں، کبھی برتن دھوتا ہوں، چھوٹی چھوٹی بات پر میری ماں، بہن کو غلیظ گالیوں کا تحفہ دِیا جاتا ہے، پھٹے پرانے کپڑے، جوتیاں میری پہچان ہوتی ہیں۔ صاحب لوگ اے سی، مَیں درخت کی چھاؤں میں بیٹھتا ہوں، وہ آکسفورڈ نصاب، میں غم ِ روزگار میں مارا مارا پھرتا ہوں، وہ محل بنانے، میں زندگی بچانے کے لیے چھت گرنے سے جان بچانے کا سوچتا ہوں۔

میرے ماں، باپ اگر مجھے تعلیم یافتہ کر بھی دیں تو ڈگریاں لیے دفاتر کے چکر پہ چکر لگاتا ہوں، ادھار لے کر جب “عالی جاہ” سے ملاقات سے محروم رہتا ہوں، حالت ِ غریبی دیکھ کر جب دروازے سے باہر نکال دِیا جاتا ہوں۔ بہن، بھائیوں کی بھوک دیکھ کر جب دِل خون کے آنسو روتا تو خیال آتا ہے:
کھڑا ہوں آج بھی روٹی کے چار حرف لیے،
سوال یہ ہے کتابوں نے کیا دیا مجھ کو

آخر مجبور ہوں، مدرسے کا طالب علم جو ہوں۔ میں بھی غریب ماں باپ کا شہزادہ ہوں، میرے والدین کو بھی مجھے اعلیٰ تعلیم دلوانے کا شوق ہے مگر بچوں کی فیس ان کی کتابیں، مہنگی مہنگی رنگ برنگی کاپیاں، میری غریب آنکھوں میں اسکول چبھ گیا۔

میں سرکاری اسکول کا شاگرد بھی ہوں۔ میں چائلڈ لیبر کا شکار گھروں میں کام کرنے والا ملازم بھی ہوں۔ ورکشاپ اور چائے خانے پر کام کرنے والا چھوٹا، کمی کمین بھی ہوں اور میں گھروں میں کام کرنے والی چھوٹی بھی ہوں۔ میں سڑکوں پر زندگی گذارنے والا اسٹریٹ چائلڈ بھی ہوں۔ میں جنسی زیادتی کا شکار بچی بھی ہوں۔ غریب کی اولاد ہونے کی مجرم بھی ہوں۔ میں بدفعلی کا شکار لڑکا بھی ہوں۔ میں بھیک مانگنے والی بچی بھی ہوں، میں گاڑیاں صاف کرنے والا بچہ بھی ہوں۔ میں غریب نچلے، درمیانے طبقے یا غربت کے مارے خاندانوں کا بیٹا، بیٹی ہوں لیکن اس بات سے مطمئن ہوں کہ:
فرشتے آ کر ان کے جسم پر خوشبو لگاتے ہیں،
زمانے کے ہاتھوں جو بچے بِن کھلے مرجھا جاتے ہیں

میری زندگی بھی کچھ چاہتی ہے، زندہ رہنا، خوش ہونا، علم حاصل کرنا اور آگے بڑھنا۔ زندگی ایک نعمت ہے۔ ہونے اور نہ ہونے کے درمیان کا ایک دورانیہ ہے جس میں ہر انسان چاہتا ہے کہ ہرے بھرے درخت، پھول خوشبو، ٹھنڈا پانی، آسودہ دھوپ اور بارش کی پھوار جیسی خوبصورتیوں پر مشتمل ایک منظر آنکھوں کے سامنے ہو مگر صاحب ثروت کے بچوں کو چھوڑ کر ہمارے چہروں پر نظر ڈالیے۔ ہمارے ہونے اور نہ ہونے کے درمیانی دورانیے میں صرف درد، دکھ اور تکلیف، بے چینی، ٹھوکریں، طعنہ، گالیاں، احساس کمتری، بھوک و افلاس کی یلغار، ذہین و فطین ہونے کے باوجود بے بسی، ادھورے خواب ہیں۔ میں کسی خوشی کے دِن بھی مزدوری کے لیے پریشان ہوتا ہوں، امیروں کے کتے بھی دودھ پیتے ہیں اور میں سٹرک کنارے سے ٹکڑے چن کر کھاتا ہوں۔

یہ درد آنکھوں میں کرچیوں کی طرح چبھتا ہے۔ لہو میں سرسراتا ہے اور بدن پر یاسیت طاری کردیتا ہے۔ پر ہم زندہ کیسے ہیں؟ یہ معجزہ ہی تو ہے، مجھے تو اس بات کا بھی یقین نہیں ہے کہ کل ہم بھوکے نہیں سوئیں گے۔ ہم بیمار ہوں گے تو ہمیں علاج معالجے کی لازمی سہولت میسر ہو گی۔ ہم اچھی تعلیم حاصل کرسکیں گے، جیسے دوسرے صاحب لوگوں کے بچے حاصل کرتے ہیں۔ ہمیں رہنے کے لئے چھت میسر ہو گی۔ سب سے اہم یہ کہ ہماری جان، عزت اور ذہنی صحت کا تحفظ ہو گا اور ہمارا کام صرف کوشش کرنا، خوش رہنا اور آگے بڑھنا ہوگا۔

غریب کے بچوں کی آواز.. نہیں یہ آواز نہیں ہے، منجمد سی فریاد ہے۔ دلخراش آہ ہے۔ اور اس سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ کہ کوئی پریشان نہیں ہے۔ یہ غریب کا مستقبل ہے:
جب آدمی کے حال پہ آتی ہے مفلسی،
کس کس طرح سے اس کو ستاتی ہے مفلسی

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

عابد ضمیر پیشہ ور صحافی ہیں، کرنٹ افیئرز سمیت دیگر موضوعات پر قلم آزمائی کرنے کے علاوہ سوشل میڈیا سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر ایکٹو ہیں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.