“آزادی کی قیمت”

639

آزادی دنیا کی وہ حسین نعمت ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں، اس کی قیمت ان خاندانوں سے پوچھی جائے جنہوں نے 1857 سے 1947 تک اپنے پیاروں کو قربان کیا۔ آزاد ملک کے لیے اپنی جان، عزت و آبرو کی قربانی دی، ان سب کا واحد مقصد ایک آزاد فضا میں سانس لینا تھا۔ ہجرت کے دوران بھی خون کی ندیاں بہیں، جنہوں نے ہجرت کے دوران اپنا سب کچھ دے کر آزادی کی قیمت چکائی، وہی آزادی کے اصل مفہوم سے آشنا ہیں۔

ہم آزادی کا مفہوم جان ہی نہیں سکتے کیونکہ ہم آزاد ہوتے ہوئے بھی صحیح معنوں میں آزاد نہیں ہوئے۔ تعلیمی، معاشی، معاشرتی و ثقافتی لحاظ سے ذہنی غلامی اور پسماندگی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ آزاد فضا میں رہنے والی آزاد قومیں کیسی ہوتی ہیں کس طرح اپنے مقاصد کے حصول کے لئے ڈٹ کر کھڑی رہتی ہیں، اس کی واحد مثال ترکی ہے جو مغرب کے اندر رہتے ہوئے مغرب کے سامنے سینہ سپر ہے۔

پامیر ٹائمز – دنیا کی سب سے بڑی ہجرت

سال 1965 میں ہم بھی ایک زندہ اور آزاد قوم تھے، ہم نے دشمن کے ٹینکوں کے نیچے لیٹ کر اپنے ملک کو پانچ گنا بڑے دشمن کے اچانک حملے سے بچایا تھا لیکن اس جنگ کو پچاس برس گزر چکے ہیں۔ اب وہ جذبات سرد پڑ چکے ہیں جو ہتھیار دشمن کے لیے اٹھنے تھے، ان توپوں کا رخ اب ہم نے اپنے ہموطنوں کی طرف کر دیا ہے۔ اب ہم صرف” زندہ قوم ہیں۔۔۔۔ پائندہ قوم ہیں” کے ملی نغمے گا سکتے ہیں، گلی کوچوں کو رنگ برنگی جھنڈیوں سے سجا سکتے ہیں لیکن ایک ہوکر جذبہ ایمانی کے تحت اپنی طرز معاشرت اور ثقافت سے بھارت کی یلغار کو باہر نہیں نکال سکتے۔

جس دو قومی نظریے کی بنیاد پر ہم نے الگ وطن حاصل کیا تھا وہ دو قومی نظریہ اب کہیں نظر نہیں آتا۔ اب حکمران اور عوام پڑوسی ملک سے امن دوستی کے خواہاں نظر آتے ہیں۔ کرتارپور بارڈر کا کھولا جانا اس کی تازہ مثال ہے۔ اس دو قومی نظریہ کی خاطر کشمیر خون سے رنگین ہے اور کشمیری اس کی اصل قیمت ادا کر رہے ہیں اور ہم پاکستانی صرف ملی نغمے گا کر ہی خوش ہو جاتے ہیں۔ انڈین ثقافت کی یلغار میں جہاں دو قومی نظریہ دفن ہوا وہیں کہیں پاکستانیوں کی غیرت اور حمیت بھی دفن ہو گئی۔

کشمیری آج بھی آزاد فضا میں سانس لینے کے لئے اپنے بچے، بوڑھے، جوان، عورتیں سبھی کچھ قربان کر رہے ہیں، اپنی آزادی کی جنگ کے ساتھ ساتھ پاکستان کی بقا کی جنگ بھی لڑ رہے ہیں۔

مسلمانان ہند کو آزادی کیسے حاصل ہوئی، لرزہ خیز داستان - محمد ...

وڈیروں اور جاگیرداروں کی غلامی میں رہتے ہوئے ہم آزادی کا اصل مفہوم جان ہی نہ سکے۔ پہلے انگریزوں اور ہندوؤں کی غلامی اور اب حکمرانوں اور انکے خاندانوں کی غلامی۔ یہ غلامی کیسی غلامی ہے کہ کہنے کو ہم آزاد ہیں لیکن اس کی قیمت موت کے ذریعے چکا رہے ہیں۔ صحت، تعلیم و تجارت کوئی ایک تو ایسا شعبہ ہو جسے ہم نے آزادی کے بعد پروان چڑھتے دیکھا ہو۔ ہاں صرف ایک شعبہ ہے وہ شعبہ بے حیائی اور فحاشی کا۔ کیا یہ عذاب اس لیے تو نہیں کہ ہم نے جس نظریے کے تحت وطن عزیز حاصل کیا تھا وہ نظریہ ہم نے کہیں پس پشت ڈال دیا۔ کشمیری آج بھی اس نظریے کے تحت آزادی کی لڑائی لڑنے میں مصروف عمل ہیں۔ پچھلے ایک سال سے لاک ڈاؤن کی کیفیت سے گزر رہے ہیں۔ لاکھوں بھارتی افواج کے سامنے سینہ سپر ہیں لیکن ہم اپنے کشمیری بھائیوں سے منہ موڑے صرف لفظی گولہ باری میں مصروف ہیں۔

یومِ آزادی اور عہدِ نو | Sunday Magazine

آج جب بھی کسی کشمیری کا جنازہ اٹھتا ہے تو اسے پاکستان کے جھنڈے میں لپیٹا جاتا ہے، جب سید علی گیلانی جذبہ ایمانی کے ساتھ کشمیریوں کو پکارتے ہیں کہ پاکستان سے رشتہ کیا تو جواب آتا ہے لاالہ الا اللہ۔ قائداعظم نے فرمایا تھا کشمیر ہماری شہ رگ ہے مگر ہم نے اپنی شہ رگ دشمن کے حوالے کر دی۔ بھارت نے سیکولر ملک ہونے کے باوجود بھارت میں رہنے والے مسلمانوں کے خلاف اور کشمیری مسلمانوں کے خلاف ظلم بربریت کی وہ تاریخ رقم کی جس کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔

پاکستان کو اپنے کلمے، دو قومی نظریے اور اپنی شہ رگ کی حفاظت کے لیے عملی اقدامات کرنا ہوں گے، اگر ہم نے ایسا نہ کیا تو ہمیں اس خاموشی کی قیمت چکانی پڑے گی جو کہ ہم چکا بھی رہے ہیں۔ بے حیائی اور فحاشی کی صورت، معاشرتی اور معاشی عدم استحکام کی صورت۔ آزادی صرف اس صورت قائم رہ سکتی ہے جب ہم بحیثیت قوم ہر محاذ پرغیرت و حمیت کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہوجائیں، جو غیرت مند قوموں کا طرہ امتیاز ہے۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

صائمہ واحد تاریخ سے دلچسپی رکھنے کے علاوہ خواتین سے متعلق معاشرتی مسائل پر قلم آزمائی کرتی ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.