14 اگست، آرزوؤں کی تکمیل کا دن

358

وطن عزیز کو قائم ہوئے 73 برس مکمل ہوئے۔ 1947ء میں مشیت ایزدی نے علامہ محمد اقبال کے روح پرور افکار، قائد اعظم محمد علی جناح کی بے مثال قیادت اور مسلمانان برصغیر کی قربانیوں کو اپنی شانِ کریمی سے قبول کرتے ہوئے 27 رمضان کی مبارک ساعتوں میں آزادی جیسی عظیم نعمت سے نوازا جو کہ برطانوی استعمار اور انڈین نیشنل کانگریس گٹھ جوڑ کی بھرپور ناکامی ثابت ہوئی۔ یوں جنوبی ایشیا کی دو مملکتوں میں تقسیم اور دنیا کے نقشے پرایک نئی اسلامی ریاست کا قیام کرہِ ارض پر بیک وقت تاریخ اور جغرافیہ بدلنے کا نادر واقعہ ہے۔ خالق کائنات کے خصوصی فضل و کرم سے ایک آزاد، خود مختار، اسلامی فلاحی ریاست، پاکستان کامعرض وجود میں آنا بلاشبہ مسلمانان برصغیر کے لیے قدرت الٰہی کا بہت بڑا انعام ہے۔ جدوجہد آزادی میں ان لاکھوں بزرگوں، ماﺅں، بہنوں، بیٹیوں اور مسلح افواج کے نوجوانوں کو خراج عقیدت جو اپنا اپنا گھر بار چھوڑ کر غلامی سے آزادی کی طرف سفر کرتے ہوئے اپنی جانوں سے گزر گئے اور وہ جنہوں نے اپنے ہم وطنوں اور ہجرت کرنے والوں کی حفاظت کرتے ہوئے اپنا آپ قربان کر دیا۔

مسلمانان برصغیر وہ عظیم قوم ہیں جنہوں نے ہر قسم کے حالات کا خندہ پیشانی اور بہادری سے سامنا اور مقابلہ کیا۔ یہ وہی پاکستان ہے جس کی سرحد پر پہنچتے ہی لٹے پٹے اور زخموں سے چور مہاجرین وارفتگی کے عالم میں زمین پر گر کر اسے چومتے اور اس کی مٹی کو مٹھیوں میں بھر کر اپنی آنکھوں سے لگاتے رہے، اپنے معصوم بچوں کے نیزوں پر جھولتے لاشے اور اپنی عزتوں کو بچانے کیلئے دریاوں اور کنووں میں چھلانگیں لگاتی بہنوں، بیٹیوں اور اپنے نوجوان بیٹوں کے خاک اور خون میں تڑپتے لاشے دیکھنے کے بعد جن میں زندہ رہنے کی خواہش دم توڑ چکی تھی اب انہیں زندگی پیاری لگ رہی تھی اور وہ بے ساختہ پکار اٹھتے کہ ہم نے بہت کچھ کھو کر بھی سب کچھ پالیا ہے ، ہمیں آزاد و خود مختار ملک پاکستان مل گیا ہے۔

مگر صد افسوس کہ ہم بحیثیت قوم بھلا بیٹھے کہ قیام پاکستان کا مقصد کیا تھا۔ اگر غیر جانبداری سے تحریک پاکستان کا تجزیہ کیا جائے تو یہ حقیقت آسانی کے ساتھ سمجھی جا سکتی ہے کہ مختلف صوبوں، علاقوں اور مختلف فرقوں سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کو جس قوت نے ایک متحدہ قوم بنا دیا تھا وہ قوت دو قومی نظریہ تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ قیام پاکستان کے بعد ہم اپنی کوتاہ اندیشیوں اور لیڈروں کی خود غرضیوں اور سازشوں کے باعث مشرقی اور مغربی پاکستان کو متحد نہ رکھ سکے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ اسلام نے ہی ہمیں قیام پاکستان کے مخالفین کے مقابلہ میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنا دیا تھا۔ تحریک آزادی کے دنوں میں قائداعظم سے سوال پوچھا جاتا تو وہ فرمایا کرتے تھے کہ ہمیں خداوند تعالیٰ نے چودہ سو سال قبل قرآن کی شکل میں آئین اور دستور عطا فرما دیا ہے۔ یہی پاکستان کا آئین اور دستور ہو گا۔ ہمیں کسی اور دستور کی ضرورت نہیں۔

قائد اعظم کے مشہور سلوگن ایمان، اتحاد اور تنظیم پر ہی غور کر لیا جائے کہ ایمان کی طاقت نے ہمیں متحد کیا۔ ہم ایک قوم بنے اور ہم اپنے لئے ایک الگ علاقہ، مملکت اور وطن حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ 8 مارچ 1944ء کی مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں قائداعظم کی تقریر میں یہ مختصر اقتباس میں درج ہے۔ ”پاکستان اسی دن وجود میں آگیا تھا جب ہندوستان میں پہلا ہندو مسلمان ہوا تھا، مسلمانوں کی قومیت کی بنیاد کلمہ توحید ہے۔ وطن اور نسل نہیں“۔

قیام پاکستان کی نظریاتی بنیاد کے جو دشمن یہ اظہار خیال کرتے ہوئے نہیں تھکتے کہ قرارداد لاہور میں اسلام کا حوالہ موجود نہیں اور نہ ہی قیام پاکستان کے بعد نفاذ اسلام کا کوئی عزم و ارادہ ظاہر کیا گیا تھا۔ وہ اس بات پر غور کریں کہ قائد اعظم کے نزدیک کلمہ توحید کے مختصر ترین الفاظ کا مفہوم کتنا وسیع تھا کہ انہوں نے فرمایا کہ پاکستان اسی دن معرض وجود میں آگیا جب ایک ہندو مسلمان ہو گیا۔ کیا قائد اعظم نے کلمہ توحید کے حوالہ صرف ہندوستان کا جغرافیہ تقسیم کرنے کے لئے دیا تھا۔ قائد اعظم نے اسلام کو پاکستان کا جذبہ محرکہ اور وجہ جواز بھی قرار دیا تھا۔ جن لوگوں کا یہ دعویٰ ہے کہ قائد اعظم سیکولر ذہن رکھتے تھے اور وہ پاکستان میں سیکولر نظام لانے کے حق میں تھے۔ سیکولر ازم کا ڈھول بجانے والا یہ گمراہ ٹولہ اگر اس دور کے ہندو اخبارات میں ہندو سیاست دانوں کے بیانات پڑھ لیں تو انہیں علم ہو جائے گا کہ ہندو طبقہ پاکستان کی مخالفت ہی اس وجہ سے کر رہا تھا کہ وہ پاکستان کے مطالبہ کو اسلام ازم کی ایک کڑی سمجھتے تھے۔ وہ سیکولر طبقہ جو یہ پروپیگنڈا کرتا ہے کہ پاکستان اسلام کے نفاذ کے لئے نہیں بنایا گیا تھا اور نہ ہی پاکستان کا یہ مقصد تھا کہ یہاں اللہ کے آخری رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر نازل ہونے والی اللہ کی آخری اور جامع کتاب قرآن کریم کے اصولوں کے مطابق نظام حکومت قائم کیا جائے گا شاید انہیں قائداعظم کے درج ذیل فرمان ہی سے کچھ سمجھ آ جائے۔ ”اس حقیقت سے ہر شخص واقف ہے کہ قرآن مسلمانوں کا بنیادی اور مکمل ضابطہ حیات ہے۔ جو معاشرت، مذہب، تجارت، عدالت، فوجی امور، دیوانی، فوجداری اور تعزیرات کے ضوابط کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے“۔

قائد اعظم نے مسلمانوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا یہ حکم بھی یاد کروایا کہ ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ قرآن حکیم کا ایک نسخہ اپنے پاس رکھے تاکہ وہ اس سے اپنے لئے رہنمائی حاصل کر سکے“۔ قائد اعظم نے بڑے واضح اور دو ٹوک انداز میں یہ بھی فرمایا تھا کہ ”پاکستان سے صرف حریت اور آزادی مراد نہیں اس سے فی الحقیقت مسلم آئیڈیالوجی مراد ہے جس کا تحفظ ضروری ہے“۔ اب اگر مسلم نظریئے کے تحفظ سے مراد سیکولر ازم ہے اور انسانی زندگی کے ہر شعبہ یعنی روحانی زندگی سے لے کر معاشرت، سیاست، معیشت اور فوجداری اور دیوانی قوانین تک قائد اعظم قرآن حکیم سے رہنمائی لینے کی جو بات کرتے ہیں، اس کا مطلب بھی سیکولر ازم ہے تو پھر یہ کہا جا سکتا ہے کہ قائد اعظم کا ایجنڈا سیکولر تھا۔ اور اگر قرآنی تعلیمات اور قرآنی احکامات کو نافذ کرنے کا مطلب سیکولر ازم نہیں ہے تو پھر قائد اعظم کی سوچ کو سیکولر کیسے کہا جا سکتا ہے۔ 14 اگست برصغیر کے مسلمانوں کی آرزووں کی تکمیل کا دن ہے ، جشن آزادی پاکستان مناتے ہوئے ہمیں تجدید عہد کرنا چاہیے کہ جس نظریہ پاکستان کی برکت سے ہم نے اسے حاصل کیا تھا اسی نظریے یعنی قرآن کریم کی اصولی ہدایات پر عمل کر کے اور اسوہ رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی پیروی سے ہم پاکستان کو ایک مضبوط، خوبصورت، پرامن ، خوشحال اور اسلامی فلاحی ریاست بنائیں گے۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

رانا اعجاز سیاسی و سماجی موضوعات پر لکھنا پسند کرتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.