سی پیک کا انقلابی ایم ایل ریلوے منصوبہ

761

1804ء میں ایک انگریز انجینیر رچرڈ ٹرے دی تھک نے بھاپ سے چلنے والا انجن تیار کیا۔ اس کے بعد جارج سٹیفن سن نے اس سے زیادہ طاقتور انجن بنایا۔ اس انجن کے کامیاب تجربے کے بعد سٹاکٹن سے ڈارلنگٹن تک ریل کی پٹڑی بچھائی گئی جس پر صرف مال گاڑیاں چلائی گئیں۔ 1830ء میں لیور پول سے مانچسٹر کو ملانے والی ریلوے لائن کا افتتاح ہوا اور برطانیہ میں سب سے پہلی مسافر گاڑی اسی ریلوے لائن پر چلی۔ اس کے بعد ریاست ہائے متحدہ میں 1833ء، بلجیئم اور جرمنی میں 1835ء ، کینیڈا 1836، فرانس 1837ء ،ہالینڈ اور اٹلی میں 1839ء میں ریل گاڑیاں چلنے لگیں۔

ہندوستان میں ریلوے کی تاریخ کا آغاز 1845ء سے ہوا۔ برصغیر میں ریل کا اغاز مواصلات کے جدید اور بڑی حدتک انقلابی ذریعے کے طور پر ہوا مگرجلد ہی ریل ایک اہم علامت بھی بن گئی۔ برصغیر کے جن علاقوں میں ریل کی پٹڑیاں بچھائی گئیں، وہاں ایک نئی ثقافت کا اغاز ہوا۔ موجودہ پاکستان میں ریلوے کا آغاز 13 مئی 1861ء میں ہوا جب کراچی سے کوٹری 169 کلومیٹر ریلوے لائن کا افتتاح ہوا۔ 1885ء تک موجودہ پاکستان میں چار ریلوے کمپنیاں سندھ ریلوے، انڈین فلوٹیلا ریلوے، پنجاب ریلوے اور دہلی ریلوے کام کرتی تھیں۔ 1885ء میں انڈین حکومت نے تمام ریلوے کمپنیاں خرید لیں اور 1886ء میں نارتھ ویسٹرن اسٹیٹ ریلوے کی بنیاد ڈالی جس کا نام بعد میں نارتھ ویسٹرن ریلوے کر دیا گیا۔ قیام پاکستان کے وقت پاکستان میں تین مختلف براڈ گیج، میٹر گیج اور نیرو گیج ریلوے لائنیں استمال ہوتی تھیں جن میں سے کچھ میٹر گیج اور نیرو گیج ریلوے لائنیں براڈ گیج میں تبدل کر دی گئیں اور باقی بند ہو چکی ہیں۔ اب پاکستان ریلوے کے نظام میں صرف براڈ گیج ریلوے لائنیں استمال ہو رہی ہیں.پاکستان ریلویز کی ٹرینوں کی رفتار زیادہ سے زیادہ 120 کلو میٹر فی گھنٹہ ہے۔ پاکستان، بھارت، ایران اور ترکی سے بذریعہ ریل منسلک ہے۔

عوام کیلئے سستا‘ معیاری سفر، ریل گاڑی آمد و رفت، سامان کی ترسیل کیلئے سستا اور آسان ترین ذریعہ، مال بردار ٹرینیں ریلوے کا سب سے بڑا ریونیو حاصل کرنے کا ذریعہ مال بردار گاڑیوں کے ذریعے گڈز کی آمدورفت سے وابستہ ہے۔ ایم ایل ون پاکستان ریلوے کا تاریخ ساز منصوبہ کیونکہ ماضی میں ریلوے کی ترقی کے حوالہ سے اتنے بڑے منصوبے نہیں لائے گئے۔

چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) نے ریلوے کے انقلابی ایم ایل ون منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔ پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے منصوبے ایم ایل ون کے تحت ریل کے انفرا اسٹرکچر میں بہتری آئے گی۔ ریلوے کی ترقی کے لئے ایسا منصوبہ ناگزیر تھا۔ ایم ایل ون منصوبہ کے بعد ایم ایل 2، ایم ایل 3 بھی ہیں جو روہڑی جنکشن ریلوے اسٹیشن سے شروع ہو کر چمن ریلوے اسٹیشن پر ختم ہوتا ہے، ایم ایل-4 کی ریلوے لائن ایران میں داخل ہوتی ہے اور زاہدان تک جاتی ہے۔ ایم ایل 5 خنجراب ریلوے یا قراقرم ریلوے پاکستان کے گلگت بلتستان کے ضلع ہنزہ نگر کو براستہ درہ خنجراب عوامی جمہوریہ چین کے خود مختار علاقے شنجیانگ سے ملانے کا ایک منصوبہ ہے .

لاہور میٹرو پاک چین اقتصادی راہداری کے تحت چینی اورنج لائن، لاہور میٹرو کی پہلی لائن ہے۔ اس کے مالی اخراجات اور تعمیر پاک چین اقتصادی راہداری کے تحت چینی حکومت نے کئے۔ منصوبے کے لیے زمین پنجاب حکومت نے مہیا کی. وزیراعظم عمران خان کی حکومت میں ریلوے کے شعبہ میں تاریخ ساز ترقیاتی کام ہونے جا رہے ہیں۔ اس منصوبہ سے ریلوے کا سارا سسٹم خودکار ہو جائے گا، ایم ایل ون منصوبہ میں 90 فیصد ملازمتیں پاکستانیوں کیلئے مختص ہوں گی۔ منصوبہ سے نہ صرف ٹرینوں کی تعداد بڑھے گی بلکہ سفر کا دورانیہ بھی کم ہو گا.ایم ایل ون منصوبہ سے کراچی سے پشاور تک 1780 کلومیٹر کا ڈبل ٹریک پر کام ہو گا اور اس منصوبہ پر چین کے تعاون سے 6.80 بلین ڈالر لاگت آئے گی. اس منصوبہ پر 90 فیصد پاکستانی لیبر کام کرے گی جس سے ڈیڑھ سے 2 لاکھ افراد کو روزگار میسر آئے گا، ریلوے میں حادثات کی بڑی وجہ ریلوے کراسنگ ہے، اس منصوبہ سے خودکار سسٹم شروع ہو گا جس سے نہ صرف حادثات سے بچا جا سکے گا بلکہ سفر کی تکمیل میں بھی وقت کی بچت ہو گی۔

ایم ایل ون ملک کی تقریباً 71 فیصد آبادی سے گزر کر جائے گا جس سے شہریوں کو سفر کی بہتر سہولیات میسر آئیں گی.۔ مسافر ٹرینوں میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہو گا جو 34 سے بڑھ کر 140 ، مال بردار ٹرینوں کی تعداد بھی 160 تک پہنچ جائیں گی.نئے اور بہتر ٹریکس سے مسافر ٹرینوں کی رفتار 110 سے بڑھ کر 160 کلومیٹر فی گھنٹہ ہوجائےگی۔ کراچی سے خیبر تک سامان کی آسان محفوظ اور سستی ترین ترسیل مال گاڑیوں کی بدولت ہے اور دفاعی ساز و سامان کی نقل و حرکت صرف مال بردار گاڑیوں کے ذریعے باآسانی منتقل ہو سکے گا۔

تمام ٹریکس کے اردگرد حفاظتی باڑ اور راستے میں جدید ٹیلی کام سنگنلز کی تنصیب ہوگی جب کہ ہر روز ٹرینوں کی آمدورفت کی تعداد بڑھ جائے گی۔ اس منصوبے سے ڈیڑھ لاکھ افراد کو بالواسطہ یا بلا واسطہ روزگار میسر ائے گا، یہ پاکستانی عوام کے لئے ایک عظیم منصوبہ ہے جو ملک میں سفری سہولتوں کے حوالے سے انقلاب برپا کر دے گا۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

کمال حسین نظریہ پاکستان سے محبت کے سبب وطن عزیز کی بہتری کیلئے قلم کے ذریعے جہاد کرتے ہیں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.