زندگی کا سفر..

459

زندگی کا سفر نہایت طویل اور کٹھن ہے، اس کا ایک ایک پل نہایت قیمتی ہے جسے ہم اپنی نادانی اور ناسمجھی میں گنوا بیٹھتے ہیں اور پھر زندگی کے ایک مرحلے پر اسی سب کو نہایت شدت سے یاد کرتے ہیں جو ہم پیچھے چھوڑ آئے۔ واپس لوٹنا چاہتے ہیں مگر ایسا بھلا کب ممکن ہے۔

اس کے برعکس دیکھا جائے تو زندگی کی کچھ ایسی کٹھن حقیقتیں ہوتی ہیں جن سے ہم منہ چھپائے پھرتے ہیں، بھول جانا چاہتے ہیں ایسے واقعات جو یاد آنے پر آج بھی نشتر چبھوتے ہیں لیکن بھلائے نہیں بھولتے۔ وقت گزرنے کے ساتھ شکر کرتے ہیں تکلیف دہ لمحوں کے گزر جانے کا، جو اب ماضی کا ایک بھیانک روپ بن کر ذہن کو کچوکےلگاتے رہتے ہیں۔

زندگی کا سفر ماں کی کوکھ سے شروع ہوتا ہے اور پھر چھوٹے سے بچے سے جوانی کا سفر دیکھتے ہی دیکھتے ایسے طے ہو جاتا ہے کہ پتہ بھی نہیں چلتا۔ پھر روزمرہ امور نبھاتے، ذمہ داریوں کی یلغار میں وقت پر لگا کر اڑتا ہے تو انسان زندگی کا خاصا تجربہ حاصل کر چکا ہوتا ہے۔ اس دوران بہت کچھ جان جاتا ہے، بہت کچھ سیکھ جاتا ہے۔ زندگی میں کامیابی بھی دیکھتا ہے، ناکامی بھی۔ ٹھوکریں بھی کھاتا ہے، گرتا بھی ہے اور سنبھلتا بھی ہے۔ اپنوں کو کھو دینے کا غم بھی سہتا ہے اور انھیں پانے کی خوشی بھی۔

یہ گرنا، سنبھلنا یا خوشی اور غم، زندگی کے سفر کا حصہ ہے جو طے کرتے کرتے انسان کو بہت تھکا بھی دیتا ہے یا پر سکون کر دیتا ہے۔ کبھی انسان تھک ہار کے اپنی زندگی سے کوچ کرنے کی طلب کرتا ہے، تو کبھی رو رو کر زندگی کی طلب کرتا ہے۔ کبھی وقت گنوا کر پچھتاتا ہے تو کبھی اس کا درست استعمال کر کے خوشی محسوس کرتا ہے۔ اور یہ سب مراحل مل کے انسان کی زندگی میں رنگ بکھیر دیتے ہیں۔ جن میں سے کچھ رنگ تو بےرنگ کہلائے اور کچھ رنگیں اور خوبصورت۔

یہاں تک کہ انسان زندگی کی ان سب مسافتوں کو طے کرتے کرتے بڑھاپے کو پہنچ جاتا ہے اور یہاں تک کہ زندگی سے کوچ کر جاتا ہے مگر زندگی کا سفر اختتام اختیار نہیں کرتا ہاں رک ضرور جاتا ہے کچھ دیر کیلئے، کچھ لوگ اسے موت کہتے ہیں لیکن اہل عشق کے ہاں یہ تو آغاز ہوتا ہے “موت کے بعد زندگی کے سفر کا” یعنی رب سے ملاقات کا۔ اسی لئے تو صوفیا موت کو عرس یعنی شادی کہتے ہیں کیونکہ عام شخص کیلئے جیسے شادی انتہائی خوشی کا لمحہ ہوتا ہے ایسے ہی اہل حق کیلئے موت محبوب یعنی اللہ رب العزت سے ملنے کا لمحہ ہوتا ہے جو سب خوشیوں پر ایسے بھاری ہوتا ہے جیسے سمندر پانی کے ایک قطرے پر۔ بس ہمیں اس زندگی میں ایسے کام کرنے کی ضرورت ہے کہ موت آئے تو ہمیں عشق کی تکمیل کا احساس ہو۔

یہ کیسے ہو گا، بس کچھ زیادہ نہیں کرنا۔ اس دنیا میں رب کے بندوں سے محبت کرنی ہے، کس لئے اللہ جل شانہ کیلئے، زندگی کے تمام امور نمٹانے ہیں تو رب پاک کی محبت میں، صرف اسی کیلئے، کہ وہ راضی ہو جائے۔ کیوں بھلا، سب صرف اسی کیلئےکیوں کرنا ہے۔ ارے بھئی سب کچھ دیا بھی تو اسی نے ہے نا۔ ہم کھانا کھاتے ہیں تو کیا ہضم کرنے کی طاقت رکھتے ہیں؟ نہیں نا۔ ہماری قدرت صرف کھانے کی حد تک ہے، اسے کتنے ہی مراحل سے گزار کر خوراک کو جسم کے گوشے گوشے تک پہنچانا (ہضم کرنا) صرف اسی کا کام ہے۔ ورنہ کتنے ہی لوگ بیمار ہوتے ہیں، کھانا کھاتے ہیں لیکن خوراک جسم کو نہیں لگتی، وہ بڑی خوراکیں بدلتے ہیں، دوائیاں کھاتے ہیں لیکن جب تک رب سوہنے کا حکم نہیں ہوتا خوراک جسم کا حصہ نہیں بنتی، ہاں اگر شفا کا حکم آئے تو ہی خوراک جزو بدن بنتی ہے ورنہ نہیں۔

ارے انسان تو پیدا بھی اپنی مرضی سے نہیں ہوا، اور جب ہوا بھی تو اتنا کمزور کہ پانی کا قطرہ حلق میں اتارنے کی سکت نہیں رکھتا۔ اگر رب کی مرضی نہ ہو، یعنی اس نے ماں باپ کے دل میں محبت نہ اتاری ہو تو کیا وہ جی سکتا ہے؟ ورنہ بعض مائیں جن کے دل میں وہ رب ممتا نہیں اتارتا وہ بچے کو کوڑے کے ڈھیر پر پھینک بھی تو آتی ہیں، جہاں وہ ایڑیاں رگڑ رگڑ مر جاتا ہے یا کسی درندے کی خوراک بن جاتا ہے۔

تو اگر آج تم زندہ ہو، سانس چل رہی ہے، اعضا درست کام کر رہے ہیں تو یہ سب سوہنے رب ہی کی دَین ہے۔ سب اسی کا ہے۔ ہمارا جسم، یہ زمین، یہ چاند یہ سورج یہ نظام شمسی حتی کہ تمام کائنات اسی کی ہے تو ہم بھی اسی کے کیوں نہیں بن جاتے۔ بس یہی بات ہے جن کو سمجھ آ گئی ان کیلئے موت محبوب سے ملاقات کا لمحہ ہے، اس سے پرلطف، خوبصورت، دلکش، میٹھا لمحہ کوئی اور ہو ہی نہیں سکتا، بس یہیں سے اصل زندگی شروع ہوتی ہے، ہاں مجاز سے حقیقت کا سفر شروع ہوتا ہے۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

علینا کمیر تخیل کی پرواز سے زندگی کی پہیلیوں کا حل تلاش کرنے کی کوشش کرتی ہیں، معاشرتی مسائل بھی قلم و قرطاس سے رشتہ جوڑے رکھنے کا بہانہ ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.