کٹی پتنگ اور نوجوان نسل

446

ایک پتنگ تھی رنگ برنگی، خوبصورت اور سڈول۔ بنانے والے نے اسے ایسا تراشا تھا کہ دکھتے ہی دل کو لبھا لیتی تھی۔ بس ایک نظر پڑنے کی دیر تھی اور آپ کا دل وہ گیا۔ اسی لیے وہ آسمانوں پر جھوم جھوم اڑتی تھی، لہرا کر کبھی دائیں ، کبھی بائیں۔ زقند بھر کر کبھی اوپر آسمان کی بلندیوں پر، بادلوں کی گہرائیوں میں اور کبھی ایک ہی جست میں نیچے زمین کے پاس۔ وہ اونچا اڑنا چاہتی تھی، اونچا، بہت ہی اونچا۔ آزاد پنچھیوں کی مانند، افق کے اس پار تک جانا چاہتی تھی، نئی بلندیوں کو چھونا چاہتی تھی، نئے مقام کو تلاش کر کے فتح کرنا چاہتی تھی، اپنی من پسند زندگی کو اپنے انداز سے جینا چاہتی تھی۔

وہ پابندیوں کی قائل نہیں تھی، ہرجائی نہیں تھی مگرایک ڈور ہی سے بندھا رہنا نہیں چاہتی تھی۔ آوارہ نہیں تھی، مگر مزاج نت نئے تجربات کرنے میں حائل بھی نہیں تھا۔ کچھ نیا چاہتی تھی مگر یہ ڈور بھی نا۔۔۔ یہ اس کی راہ میں حائل تھی، اس کے راستے کا کانٹا۔ ہمیشہ ایک ہی راستے پر چلنے پر مجبور کیے رکھتی تھی، ایک ہی راستہ وہ بھی سیدھا۔ ہمہ وقت تن کر رہنا، ہمہ وقت چوکنا، جب کبھی بھی یہ بے چاری پتنگ کچھ ” لیثرلی موڈ” میں آ کررنگین ادا ہوئی نہیں کہ اس کے سر میں ایک زور دار جھٹکا اس کم بخت ڈورنے دیا نہیں۔ کسی اور پتنگ کو دیکھ کر مسکرانے کی اجازت تو با لکل نہیں تھی اسے۔ جب کبھی بھی کسی اور نے قریب آنے کی کوشش کی اور بہتوں نے اس کے قریب آنے کی کوشش کی، بہت سے خوبرو گڈے اس کے قریب آ کر مسکرائے، اس سے سلام دعا کی کوشش کی،اسے آنکھوں ہی آنکھوں میں اشارے کیے۔ بعض کم بخت تو اتنے دل کش اور خوبرو تھے کہ جیسے سینے سے دل ہی نکال لیتے تھے۔ ان معنی خیز ملاقاتوں اور اشاروں کنایوں میں ہونے والی گفتگو کے نتیجے میں جب کبھی بھی پتنگ نے دائیں یا بائیں مڑنے کی کوشش کی، اس ڈور نے ہمیشہ اسے ٹوکا، جب کبھی اس نے رخ بدلا، اس نے اسے ایک زور دار ٹہوکا دیا۔ اس کی ہر ہر حرکت پر نظر رکھتی تھی، اس کی ہر ہر حرکت کو اپنی نگاہوں کے ایکسرے سے ہمہ وقت سکین کرتی رہتی ،اس کی ذاتی زندگی میں انتہا کی دخل انداز ہو چلی تھی اور شخصی آزادی کا گلا گھونٹ دیا تھا، یا کم از کم پتنگ کو تو ایسا ہی لگتا تھا۔

رنگیلی پتنگ بے جا روک ٹوک کی قائل نہیں تھی، نہ ہی پابندیاں برداشت کرنے کی اسی کوئی عادت تھی۔ لہذا جلد ہی اس ایک ڈور سے بندھے رہنے کی اپنی اس زندگی کی اس کیفیت سے تنگ آ گئی۔ ہر آزاد منش باسی کی طرح جو قید اور قفس دونوں توڑنے کے چکر میں رہتا ہے، یہ بھی اپنے موقع کی تلاش میں جت گئی۔ اسے معلوم تھا کہ مواقع آتے ہیں، موقع ملتے ہی موقع کواستعمال کرنا مگر کسی کسی کو آتا ہے۔ یہ انتظار زیادہ دیر تک جاری نہیں رہا۔ شکر خور کو شکر کہیں نہ کہیں سے مل ہی جاتی ہے، اسے بھی بالآخر یہ موقع مل ہی گیا۔

کسی کمزور لمحے جب ڈور نے اسے ڈھیلا چھوڑا، تو یہ اس سے اپنا دامن ہمیشہ کے لیے چھڑا کر آگے کی جانب چل دی۔ اتنے انتظار کے بعد جب آزادی میسر ہوئی تو یہ مسکرا دی۔ مگر جب ڈور کو اپنے غم میں غش کھا کر نیچے کی جانب گرتے دیکھا تو یہ مسکراہٹ زہر خند ہو گئی۔ ہم سب اپنے لیے تشویش کرنے والوں کے لیے کم و بیش ایسے ہی جذبات رکھتے ہیں۔ پھر ہوا کی رفتار اسے اپنے ساتھ لے اڑی، دور، بہت ہی دور، تیز بہت ہی تیز۔ اس سفر میں اک روانی تھی، اس سفر میں اک سرشاری تھی، اس سفر میں اک لذت تھی۔ اور پھر یہ خیال کہ آج کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں ہے، یہ احساس تو جیسے مدہوش کر دینے والا تھا۔ ہم سب ہر قسم کی پابندیوں سے ایسے ہی آزادی چاہتے ہیں، ہر ضابطے سے، ہر روایت سے، ہر اصول سے، ہر قاعدے سے۔ یہ سوچ کر ہی اس پر مدہوشی سی طاری ہونے لگی کہ آج کوئی ڈور اس کے سر پر سوار نہیں، کوئی اسے ٹہوکا نہیں دے رہا، کوئی اس کی گردن کو مڑنے پر مجبور نہیں کر رہا۔ وہ اڑتی رہی۔ ہوا بھی شاید کوئی سازش سی کر رہی تھی، یا شاید اس کے ساتھ تھی، اسے لے کر اوپر سے اوپر ہوتی چلی گئی، اتنا اونچا کہ نیچے والے سب نظر سے اوجھل ہو گئے۔

پھر وقت آیا کہ ہوا تھم گئی۔ جب ہوا تھم گئی تو اس کی واپسی کا سفر شروع ہوا مگر ایسے سفر ہمیشہ پستی کی جانب ہوا کرتے ہیں، سو اس کا سفر بھی ایسا ہی تھا۔ تھوڑی سی پروان کے بعد ایسی پستی، نیچے دیکھ کر ہی اس کی جان نکلنی شروع ہو گئی۔ پستی کے اس سفر میں وہ ان تمام دلکش و دلربا گڈوں کے پاس سے گذری جواسے اشارے کیا کرتے تھے، کئی ایسوں کے پاس سے بھی گذری جو سینے پر ہاتھ رکھ کر زندگی بھر ساتھ نبھانے کا دعوٰی کیا کرتے تھے، کئی ایسے ہی آج دوسری پتنگوں کے ساتھ عشق پیچے لڑانے میں مشغول تھے، کسی نے اسے نظر اٹھا کر بھی نہ دیکھا، اس لیے نہیں کہ سب حاجی ہو گئے تھے، بلکہ اس لیے کہ کٹی پتنگوں کو بھی بھلا کوئی۔۔۔۔۔۔۔۔بہرحال پستی کی عمیق گہرائیوں میں جانے سے پہلے اس نے یہ بات ضرور جان لی تھی کہ جب تک وہ ڈور سے بندھی رہی، وہ محفوظ اور باقیوں کے لیے قیمتی اور پرکشش تھی، مگر جیسے ہی ڈور سے اس نے اپنا رابطہ منقع کیا اس کی پستی کا سفر شروع ہو گیا۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

جنید منصور مثبت تنقید کے ذریعے تبدیلی لانے کے متمنی ہیں، سیاست و سماج پر لکھنے کے زیادہ شوقین ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.