کیا کورونا دُنیا کا اختتام ہے؟

416

کورونا نے عالمی سطح پر سماجی زندگی کا نقشہ مستقل طور پر بدل کر رکھ دیا، حفاظتی ماسک اور دستانے عمومی زندگی کا لازمی حصہ بن گے۔ انسان ، انسان سے دور بھاگنے لگا، رضاکارانہ حفاظتی رویوں کا انتظام آداب زندگی کا جزو لازم ہو چکا ہے۔

اب دُنیا میں کیا ہو گا، حتمی جواب کسی کے پاس نہیں، لیکن اب کیا کچھ ہو سکتا ہے؟ اس کا جواب بہت سے لوگوں کے پاس ہے۔ کورونا وائرس کے ساتھ یا اس کے بعد کی دْنیا کیسی ہو جائے گی، اس کے خدوخال کیا ہوں گے؟ کورونا کے بعد دْنیا یکسر مختلف ہوگی سوچنے کا انداز بدل جائے گا۔ کیا جان لیوا نادیدہ کورونا وائرس اگلے دو ماہ میں ختم ہوجائے گا اور کیا اس کی ویکسین مفت میں دستیاب ہوگی؟ کیا اس کی شدت میں اس حد تک کمی آجائے گی کہ زندگی دوبارہ پرانی ڈگر پہ لوٹ آئے گی؟ کیا اس کی شدت میں اور اضافہ ہوگا کہ اب سے کئی گْنا زیادہ کیسز اور اموات ہونگی اور زندگی انتہائی مْشکل ہوجائے گی؟ اس بات سے قطع نظر کہ کورونا کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے، بنی نوع انسان یہ جان لے گا اور جانچ بھی لے گا کہ اس کے ساتھ کس طرح چلتے رہنا ہے۔

کوئی وباء یا قدرتی آفت ہو، یہ دُنیا کو ہلا کر رکھ دیتے ہیں۔ کورونا فقط دُنیا کے زوال کے طرف اشارہ نہیں کر رہا بلکہ اس بات کی طرف بھی متوجہ کر رہا ہے کہ اسکے بعد دُنیا کا نظام تبدیل ہو جائیگا۔ کورونا یہ بھی بتا رہا ہے کہ ایٹم بم دُنیا کا قدیم اسلحہ ہوچکا ہے اور اب دُنیا پر ایٹم بم نہیں بلکہ بائیولوجیکل سائنس کی حکمرانی ہو گی، دُنیا ڈیجیٹل ہو جائے گی۔ دوسری جنگ عظیم میں بھی غالب گمان تھا کہ یہ آخرالزمان ہے اور امام مہدی علیہ السلام کا ظہور نزدیک ہے، لیکن دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپ ایک نئے اقتصادی اور صنعتی ترقی کے دور میں داخل ہوگیا اور دنیا میں ایک جدید نظام کا آغاز ہوگیا، جس کے بعد یورپ نے اقتصادی میدان میں اس قدر ترقی کی کہ یورپی یونین کی تشکیل کیساتھ جرمنی، فرانس اور انگلینڈ دنیا کے طاقتور ترین ممالک میں شامل ہوگئے۔ دُنیا کے مفکرین اور تجزیہ نگار اس فکر اور سوچ میں ہیں کہ کورونا کے بعد دُنیا کا مستقبل کیا ہو گا؟ بعض مفکرین کے مطابق دُنیا کی موجودہ حالت خطرے میں ہے اور دُنیا بالکل تبدیل ہونے جا رہی ہے۔ ایک نیا نظام ہو گا اور حکمرانی کا طریقہ بھی تبدیل ہو جائے گا۔

بعض مفکرین کا خیال ہے کہ ہم آخرالزماں کے نزدیک پہنچ چکے ہیں، منجی بشریت امام مہدی علیہ السلام کا ظہور نزدیک ہے۔ کورونا کو تیسری جنگ عظیم کا نام بھی دیا جا رہا ہے، جس نے پوری دُنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ کورونا وائرس سونامی سے بھی بدتر ہے جس طرف بھی رخ کر رہا ہے، تباہی پھیلا رہا ہے۔ لاکھوں نفوس لقمہ اجل، معاشی تباہی کر گیا۔ کورونا کا ڈر اور خوف اپنی جگہ پر لیکن کورونا کے بعد دُنیا کا کیا ہوگا، یہ اس سے بھی زیادہ باعث تشویش ہے۔ دنیا کے طاقتور ترین ممالک امریکہ اور یورپ اپنے آپ کو دُنیا کا نجات دہندہ سمجھنے والوں کو یہ سمجھ نہیں آرہی کہ اس وائرس سے کیسے نمٹا جائے، یہ ممالک بھی اس وائرس کے مقابلے سے عاجز دکھائی دیتے ہیں۔ ڈر اور خوف کے مارے اس کا اعتراف بھی کر رہے ہیں، جس کی ایک مثال جرمن ریاست کے وزیر خزانہ تھامس شیفر کی خودکشی ہے۔ امریکہ کے معروف مفکر اور تجزیہ نگار عمانوئل والرسٹن جو کہ ماہر عمرانیات اور ماہر معاشیات بھی ہیں، اپنی معروف کتاب دی ماڈرن ورلڈ سسٹم میں اس بات کا اظہار کرتے ہیں کہ دُنیا کا نظام دو قطبی یعنی شرق و غرب سے نکل کر تین قطبی یا چند قطبی کی طرف جا رہا ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ خطرناک کورونا وائرس دُنیا کے موجودہ نظام کو تباہی کی طرف اور جدید نظام کی بنیاد رکھنے جا رہا ہے؟ اور کیا یہ کورونا وائرس ایک بائیولوجیکل ہتھیار ہے یا ایک طبیعی وائرس ہے؟

دنیا کی بعض معروف شخصیات کے مطابق اس چیز کا قوی امکان ہے کہ یہ ایک بائیولو جیکل جنگ ہے، بہرحال اس کی حقیقت کچھ عرصہ تک واضح ہو جائے گی کہ کہانی کیا ہے۔ کورونا کے بعد کی کہانی کیا ہوگی، اس کے بارے میں عمانوئل والرسٹن کا مقالہ امریکی زوال کے تنائج، جو 2013ء میں شائع ہوا، بتایا کہ لوگ آنے والے وقت میں دُنیا میں ایک جدید نظام کا مشاہدہ کریں گے، جس میں امریکہ سپر پاور نہیں ہوگا اور اس کا متبادل چین ہوسکتا ہے، لیکن تجزیہ نگار کے مطابق امریکہ کے بعد کسی ملک کو دُنیا پر حکمرانی کرنے کے لئے نصف صدی کی ضرورت ہوگی، جو ایک طویل عرصہ ہے، جس میں کئی اہم واقعات رونما ہوسکتے ہیں۔ امریکہ کے فوراً بعد شاید کوئی بھی ملک دُنیا پر حکمرانی کرنے کے قابل نہ ہو اور دُنیا کو کنٹرول کرنا ایک ملک کے بس کی بات نہیں ہوگی، بلکہ ممکن ہے کہ چند ممالک مل کر دُنیا میں حکمرانی کریں۔

سال2013 میں ایک مقالہ لکھا گیا تھا کہ امریکہ کو عراق اور افغانستان سے برُی طرح شکست کھا کر نکلنا پڑے گا اور ڈالر کی جگہ چین کی کرنسی یوان(Yuan) یا روس، چین، ترکی، ایران، پاکستان و ایشیاء کے کچھ اور ممالک مل کر ڈالر کے متبادل کوئی کرنسی متعارف کروائیں گے، جس سے امریکہ اس ضعیف اور ناتوان بوڑھے شخص کی طرح ہو جائے گا، جو فقط اپنے زندہ ہونے کا اظہار کرسکے گا اور یورپی ممالک بھی اس طرح سے اہمیت نہیں رہے گی۔ مشرق وسطی کی صورت حال کو دیکھ کر بھی یہ کہا جا سکتا ہے کہ امریکہ اب مشرق وسطیٰ میں آخری سانسیں لے رہا ہے اور کسی صورت بھی اس خطے میں کامیابی حاصل نہیں کرسکتا۔ ایران کے سپاہ پاسداران کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت کے بعد امریکہ کی کامیابی مشرق وسطیٰ میں مشکل سے ناممکن تک کا سفر طے کرچکی ہے۔

امریکہ اپنے زوال کا سبب ایران کو سمجھتا ہے، ایران خطے میں امریکہ کی ہر پالیسی کی مخالفت بھی کرتا ہے اور اس کا راستہ بھی روکتا ہے، جس کی وجہ سے امریکہ ایران کو اپنا سب سے بڑا دشمن تصور کرتا ہے اور اس پر سخت اقتصادی پابندیاں لگاتا ہے۔ کورونا نے دُنیا کو ڈیجیٹل کر دیا، ہمارا نظام تعلیم بھی جو شاہد کبھی بھی آن لائن نہ ہوتا، وہ بھی آن لائن کی طرف آرہا ہے ۔ یہ بات حقیقت پر مبنی ہے کہ دُنیا بدل رہی ہے اور یکسر نظام زندگی بدل جائے گا اور شائد دُنیا کی معاشی حالت کو سنبھلتے وقت لگے گا۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

1 تبصرہ

  1. عابد عمران کہتے ہیں

    اللہ جانے کہ کورونا دنیا کا اختتام ھے یا نہیں، لیکن ایک بات واضح ھے کہ ھم لوگوں سے انسانیت کا اختتام ضرور ہو گیا ھے. بڑے دکھ اور کرب سے یہ بات کہہ رہا ہوں کہ سو میں سے پچانوے فیصد لوگوں میں‌ خدا ترسی اور ایک دوسرے سے ھمدردی ناپید ھوتی جا رھی ھے. کورونا ختم ہو یا نہ ہو انسانیت ضرور دم توڑتی جا رہی ھے، اب تو دعا ہی کی جا سکتی ہے.

تبصرے بند ہیں.