رافیل اور جا چھوڑ دے میری وادی

471

بھارتی فضائیہ میں پانچ رافیل طیاروں کی شمولیت نے جہاں بھارتی میڈیا کو چیخنے کا موقع دیا وہیں پاکستانی بھی ان سے پیچھے نہ رہے ۔ ٹی وی چینلز بالخصوص سوشل میڈیا پر بحث و مباحثہ جاری تھا۔ اسی دوران سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو دیکھی جس میں بھارتی فوج کا ایک ریٹائرڈ میجر جسکا اکثر و بیشتر سابق ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کے ساتھ ٹویٹر پر پھڈا چلتا رہتا تھا، وہ پاکستان کے ایک صوبے بلوچستان کو توڑنے کی بات کر رہا تھا۔ ویڈیو میں اس نے کراچی کے حالات یوں بیان کیے کہ کراچی میں بھارت کرائے کے قاتلوں کو ڈبل ریٹ دے کر کہے جہاں پاکستانی فوجی افسر نظر آئے مار دو۔ یہی حال بلوچستان میں کرنا چاہئے۔ بلوچستان سے لوگوں کو اکٹھا کر کے بھارت میں ٹریننگ کے بعد ہتھیار دے کر بلوچستان کاروائیاں کروائی جائیں تاکہ بلوچستان پاکستان سے علیحدہ ہو جائے۔ ان دعووں کو اگر گہری نظر سے دیکھا جائے تو یہ پتہ چلانے میں کوئی مشکل نہیں کہ بلوچستان میں موجود کالعدم تنظیموں کے پاس جدید ہتھیار اور لانگ رینج زوممنگ کیمرے کہاں سے آتے ہیں جو وہ کاروائی کے دوران استعمال کرتے ہیں اور واقعے کی پوری ویڈیو بناکر لیک بھی کرتے ہیں۔

رافیل طیاروں کی آمد کے بعد جب حالات کا جائزہ لیا، بھارت میں موجود ذرائع سے معلوم کیا تو پتہ چلا کہ رافیل طیارے کسی کام کے نہیں ہیں۔ پاکستانی فضائیہ نے جو 2 بھارتی طیارے گرائے اس سے بھارتی فضائیہ میں خطرناک حد تک تشویش دوڑ چکی تھی۔ بھارتی فضائیہ کے بہت سے افسران نے بہت دفعہ کاروائی کرنے سے منع کیا اور اس بنیاد پر منع کیا کہ ہمارے پاس نہ تو جدید ہتھیار ہیں اور نہ ہی جدید طیارے۔ جس وقت ابھی نندن اپنا طیارہ لیے پاکستانی حدود میں داخل ہوا اسے پتہ ہی نہیں چلا تھا کہ وہ پاکستانی حدود میں داخل ہوچکا ہے جبکہ دوسری جانب کنٹرول ٹاور میں بیٹھی خاتون افسر جو ریڈیو پر اسے چیخ چیخ کر کہہ رہی تھی کہ “ابھی واپس مڑو تم پاکستانی حدود میں ہو” اسکا میسج ابھی نندن تک پہنچ ہی نہیں پا رہا تھا جس نے بھارتی فضائیہ کے ریڈار اور ریڈیو سسٹم پر بھی بہت سے سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔ بھارتی فضائیہ کے مورال کو دوبارہ بحال کرنے کے لیے مودی نے پانچ طیارے بھارتی فضائیہ میں شامل کرکے انہیں حوصلہ دیا جنکی اہمیت ایک شوپیس کی سی ہے۔

ابھی ہندوستانی میڈیا اپنے اس ہنی مون پیریڈ میں تھا کہ جس میں پاکستانی بھی بڑھ چڑھ کرحصہ لے رہے تھے تو آئی ایس پی آر کی جانب سے ریلیز کیا گیا نیا نغمہ “جا چھوڑ دے میری وادی” نے توپوں کا رُخ اپنی طرف موڑ لیا۔ سوشل میڈیا پر جاری بحث و مباحثے میں پاک فوج کے نغمے کو بہت زیادہ تنقیدی نظر سے دیکھا گیا، سوشل میڈیا پر میمز بننا شروع ہوگئیں۔

دوسری جانب اگر دیکھا جائے تو یہ نغمہ کشمیریوں سے اظہار یکجہتی اور انکی آواز کو پوری دنیا کے سامنے پیش کرنے کے لیے بہترین حکمت عملی ہے۔ اقوام متحدہ اور دنیا کی تمام دوسری ہیومن رائٹس کی تنظیموں کی مثال بہتے دریا کی روانی جیسی ہے ، جس طرف دنیا کی توجہ جاتی ہے انکا ایکشن پلان بھی ویسے ویسے تبدیل ہوجاتا ہے۔ بھارت ہر محاظ پر یہ قبول کرچکا ہے کہ ہائبرڈ وار میں وہ پاکستان کو شکست نہیں دے سکتے۔ کشمیر ایشو پر قراردادیں پہلے ہی موجود ہیں، سفارتی سطح پر پاکستان کو جو کرنا چاہیے وہ کررہا ہے، کشمیر پر پہلے بھی تین جنگیں ہوچکی ہیں لیکن نتیجہ صفر نکلا۔ یہ ہائبرڈ وار فیئر کا نتیجہ ہے کہ بھارت پوری دنیا میں ننگا ہوکر رہ گیا ہے۔ یہ ڈیجیٹل زمانہ ہے جہاں جنگیں بھی ڈیجیٹیل طریقے سے لڑی جارہی ہیں ۔ نغمہ کیا اثر کرے گا اسکی مثال پاکستان میں نشر ہونے والا ترکش ڈرامہ ارتغل غازی سے لے لیں تو سمجھ آجائے گی کہ ڈیجیٹل وار کیا ہے۔ دشمن ہر طرح سے پاکستان کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے مگر یہ پاکستان ہے کہ جو یہ جانتا ہے کہ دشمن کو زیر کیسے کرنا ہے۔ نغمے پر تنقید کرنے والے ستائیس فروری کو بھی یاد رکھیں جب جیسا وقت آئے گا اسے ویسے ہی طریقے سے ہینڈل کیا جائے گا۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.