پانچ اگست کشمیر کی تاریخ‌ کا سیاہ دن

601

5 اگست 2019 تاریخ کا وہ سیاہ دن ہے جب بھارت نے مقبوضہ کشمیر کو دی گئی خصوصی حیثیت ختم کر دی۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں میں آج بھی کشمیر ایک متنازع علاقہ ہے یعنی 1947 میں ہونے والی تقسیم ہند میں متحدہ ہندوستان کی دیگر ریاستوں کا فیصلہ تو ہو گیا لیکن کشمیر ایسی ریاست ہے جس کا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔

1949 میں اس تنازع پر پاکستان اور بھارت میں جنگ چھڑ گئی، بھارت نے اپنی ہار دیکھی تو مسئلے کو اقوام متحدہ میں لے گیا۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور بھارت و پاکستان میں اقوام متحدہ کے کمیشن نے تین قراردادوں کی منظوری دی جن میں دونوں ملکوں سے کہا گیا کہ ریاست پاکستان کا حصہ بنے گی یا ہندوستان کا، فیصلے کیلئے کشمیری عوام جس ملک کے ساتھ رہنے کا ارادہ ظاہر کریں گے اس پر عمل ہو گا، اور کشمری عوام کی رائے استصواب رائے کے ذریعے معلوم کی جائے گی۔

بھارت نے استصواب رائے کا وعدہ تو کر لیا لیکن بعد میں ٹال مٹول سے کام لینا شروع کر دیا۔ اسے معلوم تھا اگر کشمیری عوام سے رائے لی گئی تو وہ مسلمان ہونے کے ناطے پاکستان کے حق میں ہی فیصلہ دیں گے۔ کشمیری عوام کو مطمئن کرنے کیلئے مئی 1954 میں بھارتی حکومت نے ایک آرڈیننس نافذ کیا جس کو دی کانسٹیٹیوشن ایپلی کیشن ٹو جموں و کشمیر 35 اے کا نام دیا گیا اور بھارتی آئین میں شامل کردیا گیا۔ اس آرٹیکل کے تحت جموں و کشمیر کو بھارت کی دیگر ریاستوں کے شہریوں کو کشمیر میں مستقل شہریت سے محروم کردیا گیا۔ اس کے تحت واضح کیا گیا تھا کہ مقبوضہ کشمیر کا مستقل شہری کون ہے اور جموں و کشمیر کی حدود سے باہر کسی بھی علاقے کا شہری ریاست میں غیر منقولہ جائیداد کا مالک نہیں بن سکتا، یہاں نوکری حاصل کرسکتا ہے اور نہ ہی اسے یہاں سرمایہ کاری کا اختیار حاصل ہے۔ بھارت کی ماضی کی حکومتوں، خواہ کانگریس ہو یا بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے اپنے آئین کے آرٹیکل 35 اے اور 370 کے تحت کشمیر کی متنازع حیثیت کو کبھی نہیں چھیڑا۔

تاہم بدنام زمانہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی جن کی گجرات میں مسلمانوں کے قتل عام سمیت مجرمانہ سرگرمیوں کے سبب ایک وقت میں امریکہ داخلے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی تھی، نے اپنی کرائم ہسٹری میں ایک اور جرم کا اضافہ کر لیا۔ گزشتہ سال 5 اگست کو بھارتی وزیر داخلہ امیت شا نے آرٹیکل 35 اے اور 370 کو ختم کرنے لئے راجیہ سبھا میں بل پیش کیا جسے اپوزیشن کے احتجاج کے باوجود منظور کر لیا گیا۔

بھارت کے اس اقدام کو پاکستان کی جانب سے نہ صرف مسترد کر دیا گیا بلکہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے بھارت کی خطے میں کشیدگی بڑھانے کی ایک اور کوشش قرار دیا۔ نریندر مودی کی حکومت نے 5 اگست کو 80 لاکھ سے زائد آبادی کا حامل یہ خطہ متنازع طور پر تقسیم کر کے رکھ دیا۔ اس اقدام سے مقبوضہ وادی کو ایک بڑے جیل خانے میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ تعلیمی ادارے مسلسل ایک سال سے بند ہیں۔ غذائی اجناس کی شدید قلت ہے۔ ہسپتالوں میں ڈاکٹر نہیں بلکہ وہاں پر بھارتی فوج کا بسیرا ہے۔ بھارت نے اکثریتی علاقوں میں سخت ترین کرفیو نافذ کر رکھا ہے اور موبائل نیٹ ورک اور انٹرنیٹ سروس معطل ہے جس سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

عالمی میڈیا نے کشمیر کی خودمختاری ختم کرنے کے اقدام کو مودی کی فاش غلطی قرار دیا، مشرق وسطی کے معروف چینل الجزیرہ نے 5 اگست کو ‘سیاہ دن’ سے تشبیہ دی۔ امریکہ کے بڑے اخبارات واشنگٹن پوسٹ اور نیو یارک ٹائمز نے مودی کے فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اس فیصلے سے خطے میں امن کو خطرہ درپیش ہو گا۔ سعودی عرب کے سعودی گزٹ نے بھی آرٹیکل 370 اور 35 اے کے خاتمے کو خطرناک غلطی قرار دیا۔

جاپان کے اخبار ’’ایشین ریویو‘‘ نے لکھا کہ بھارت کی جانب سے کشمیر کی خود مختاری چھیننے سے جنوبی ایشیا میں مزید بدامنی پھیلے گی۔ عالمی جریدے ’’بلوم برگ‘‘ نے نریندر مودی کے متنازع فیصلے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ پاکستان اور بھارت کے مابین خطرناک جنگ چھڑ سکتی ہے۔ معروف میگزین ’’فارن پالیسی‘‘ نے بھارت کو تنازع کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے لکھاکہ کشمیر کی خصوصی حثیت ختم کرنے پر مودی کو لینے کے دینے پڑ سکتے ہیں۔

حیرت انگیز طور پر طویل لاک ڈاون اور مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے غیر انسانی اقدام پر عالمی برادری خاموش رہی۔ امریکا، برطانیہ، فرانس اور دیگر عالمی طاقتوں نے بھارتی جبر واستبداد پر چپ سادھ لی تاہم ہمسایہ ملک چین، برادر اسلامی ممالک ترکی، ملائیشیا، دیگر عالمی اداروں اور شخصیات نے کھل کر پاکستان کے موقف کی حمایت کی اور مودی سرکار کے اقدام کو انسانی حقوق، جمہوری اقدار اور دو طرفہ عالمی معاہدوں کے منافی قرار دیا۔

چین نے دو ٹوک انداز میں مقبوضہ جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کو اپنی خودمختاری پر حملہ قرار دیتے ہوئے معاملہ سلامتی کونسل میں اٹھانے کا اعلان کیا۔ حتی کہ بھارت کی جانب سے اپنے نقشے میں شامل کئے گئے علاقے لداخ کے معاملے پر دونوں ممالک کے مابین تنازع اس قدر بڑھا کہ باقاعدہ سرحدی جھڑپیں شروع ہو گئیں جن میں کرنل سمیت 20 بھارتی فوجی مارے گئے جبکہ 100 فوجی چین نے قیدی بنا لئے، یہ سرحدی تنازع تاحال جاری ہے اور چین نے لداخ میں بھارت کے تقریبا 35 مربع کلو میٹر علاقے پر قبضہ کر لیا ہے۔

اِدھر مقبوضہ کشمیر میں سخت ترین کرفیو کے باوجود مظاہرے جاری ہیں، کشمیری نوجوان وقتا فوقتا بھارتی قبضے کے خلاف احتجاج جاری رکھے ہوئے ہیں، بھارتی عوام کی جانب سے پتھراؤ کے متعدد واقعات بھی سامنے آئے جن میں بھارتی فوج اور پولیس کو اینٹوں اور پتھروں کی شدید بارش کے سبب پسپائی اختیار کرنا پڑی۔ کشمیریوں کا موقف تھا کہ مودی کی خود مختاری ختم کرنے کی سازش سے کشمیر بھی فلسطین بن جائے گا کیونکہ مودی اس فیصلے کے بعد کشمیر میں بھارتی باشندے بسائے گا اور علاقے میں کشمیریوں کی آبادی کا تناسب بدلنے کی کوشش کر کے کشمیر کو ہڑپ کرنے کی کوشش کرے گا۔

کشمیری عوام نے سرینگر کا علاقہ صورہ احتجاجی تحریک کا مرکز بنا لیا جہاں سے مظاہرین احتجاج کرتے ہوئے نکلتے اور بھارتی فوج کو تگنی کا ناچ نچائے رکھتے۔ یہ بھارت سے کشمیری نوجوانوں کی نفرت کا اظہار تھا۔ کشمیریوں کی جانب سے ایسے مظاہرے تقریبا سارا سال جاری رہے۔

گزشتہ روز بھی بھارت نے وادی بھر میں کرفیو نافذ کئے رکھا، سرینگر انتظامیہ نے آج بھی مظاہروں کے خوف کے سبب مکمل کرفیو کے نفاذ کا اعلان کر رکھا ہے۔ پاکستان بھر میں‌ پانچ اگست کے موقع پر یوم استحصال کشمیر منایا جا رہا ہے جس کے دوران ملک بھر میں‌ سرکاری و غیر سرکاری سطح‌ پر احتجاجی ریلیاں اور سیمینار منعقد کئے گئے. آزاد کشمیر میں‌ بھی مظاہرے جاری ہیں تو مقبوضہ کشمیر کی صورتحال بھی مختلف نہیں جہاں بڑے پیمانے پر مظاہرے کشمیری عوام کی امنگوں‌ آواز بن رہے ہیں. سرینگر کے خوفزدہ مجسٹریٹ نے کرفیو نافذ کرنے کی بودی دلیل اس طرح دی ’ایسی خفیہ اطلاعات ملی ہیں کہ علیحدگی پسند اور پاکستان کے حمایت یافتہ گروپس پانچ اگست کو یوم سیاہ منانے کا ارادہ رکھتے ہیں لہذا شدید مظاہروں کے امکان سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ پانچ اگست کو پُرتشدد مظاہروں کی بھی اطلاعات ہیں اور لوگوں کے جان و مال کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ ‘ بھارتی حکام کا یہ خوف اس بات کی دلیل ہے کہ انہیں 7 لاکھ بھارتی فوج کے باوجود وادی میں ‌تحفظ حاصل نہیں۔ یہی خوف انہیں کشمیر سے نکالنے کی بنیاد بنے گا کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ کسی کے گھر پر کیا گیا قبضہ بالآخر چھوڑنا ہی پڑتا ہے۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

1 تبصرہ

  1. عابد ہاشمی کہتے ہیں

    شاندار اور جاندار مضمون لکھا ہے۔

تبصرے بند ہیں.