ڈٹ کے کھڑا ہے کپتان

377

پی ٹی آئی سرکار کے دو سال مکمل ہونے پر ہونے والے تبصروں اور تجزیوں کو سن کر بظاہر یوں لگ رہا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت ناکام ہو چکی ہے، اگر ہم موجودہ معاشی اشاریوں کا موازنہ گزشتہ حکومت سے کریں تو یہ تبصرے اور تجزیے درست معلوم ہوتے ہیں لیکن ہم تصویر کا دوسرا رخ دیکھیں تو ہمیں لگتا ہے کہ امید باقی ہے۔

بائیس سال کی طویل جدودجہد کے بعد اقتدار میں آنے والے محترم جناب عمران خان صاحب اگر اقتدار ملتے ہی وطن عزیز کے معروضی حالات کو سمجھے بغیر اپنے نظریات، ارادوں اور وعدوں کی تکمیل کرنے کی کوشش کرتے تو انہیں بھی محمد مرسی بنتے دیر نہ لگتی اور اب تک وہ ماضی ہو چکے ہوتے، یہاں پر اختصار سے عرض کرتا چلوں کہ محمد مرسی اور خان صاحب میں اس قدر مماثلت ضرور ہے کہ مصر کے محمد مرسی کی جماعت ملک اور عالم اسلام کی تقدیر بدلنے کے لیے ایک طویل عرصے سے اقتدار میں آنے کی کوششوں کے باوجود ناکام تھی۔ پھر یوں ہوا کہ حسنی مبارک کی پے درپے غلطیاں نہ صرف ان کے اقتدار سے محرومی کا سبب بنیں بلکہ تاریخ میں پہلی بار اخوان المسلمین بھی اقتدار کی لذت سے آشنا ہوئی۔ لیکن اپنے بے لچک رویئے اور متشدد نظریات کی بدولت انتہائی مختصر عرصے میں اخوان المسلمین نہ صرف بھولی بسری داستان بن چکی ہے بلکہ محمد مرسی پابند سلاسل رہنے کے بعد وفات پا چکے ہیں۔

دوسری جانب اسلامی جمہوریہ پاکستان کی دوبڑی سیاسی جماعتوں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی سیاسی اور غیر سیاسی غلطیوں کی بدولت پی ٹی آئی کو مسند اقتدار نصیب ہوئی، اگر خان صاحب بھی اپنے رویئے میں لچک نہ پیدا کرتے تو آج وہ بھی وزیراعظم کے دفتر جانے کی بجائے، نیب کے دفتر جارہے ہوتے۔

یہ عمران خان کی بہت بڑی کامیابی ہے کہ ناتجربہ کاری، جذبہ حب الوطنی سے سرشاری اور دھرتی سے اندھی محبت کے باوجود انہوں نے وطن عزیز کے معروضی حالات کو نہ صرف سمجھا بلکہ حالات کے مطابق ہر کسی کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنے کی بجائے کچھ لو کچھ دو کی پالیسی پر عمل کیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج دوسال گزرنے کے بعد اگرچہ ملک میں مہنگائی کا طوفان آیا ہوا ہے۔ آبادی کا بڑا حصہ، غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے، بیروزگاری میں بے پناہ اضافہ ہوچکا ہے، روپیہ اپنی تاریخ کی بدترین تزلی کا شکار ہے، ملکی قرضوں میں آئے روز اضافہ ہورہا ہے، اور اب تو حالت یہ ہے کہ حکومت کو قرض واپس کرنے کے لیے بھی قرض لینا پڑتا ہے۔ ڈالر کو گویا پر لگے ہوئے ہیں، پہلے یہ خدشہ تھا کہ لوگ بھوک سے مرجائیں گے، اب حکومت کی جانب سے ادویات کی قیمتوں میں10 فیصد اضافہ نے جینے کی امید ہی چھین لی ہے، الغرض ایسا لگ رہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ہر طرف تاریکی ہے۔

لیکن کپتان وکٹ پر موجود ہیں، حالات دھیرے دھیرے غیر محسوس طریقے سے تبدیل ہورہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ بین الاقوامی معاشی ماہرین اچھے مستقبل کی نوید دے رہے ہیں۔ ملکی چوروں سے ان کی شرائط کے مطابق ہی سہی دامے درمے سخنے لوٹی ہوئی دولت کی واپسی شروع ہوچکی ہے۔ اگر کپتان نے پانچ سال پورے کرلیے تو امید ہے کہ 100 میں سے 33 نمبر نہ سہی تو 30 نمبر ضرور حاصل کرلیں گے اور عوام انہیں رعائتی نمبر دے کر اگلی مدت کے لیے منتخب کرلیں گے۔ اور اگر کپتان کو جناب اردگان کی طرح وقت مل گیا تو امید ہے کہ سنہرے دن لوٹ آئیں گے اور پاکستان جناب ایوب خان کے دور کی طرح ساڑھے سات فیصد کے حساب سے ترقی کرے گا۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

محمد عمران چوہدری کامرس گریجوئیٹ ہونے کے ساتھ ، کمپیوٹر سائنسز ،ای ایچ ایس سرٹیفیکٹس اور سیفٹی آفیسر ڈپلومہ ہولڈر ہیں۔ مختلف میڈیا گروپس میں بلاگز لکھتے ہیں، فی الوقت ایک ملٹی سکلڈ پروفیشنل ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.