محبت کے لازوال سچے جذبے کے نام ایک تحریر

923

باغ عدن سے اپنی متجسس طبیعت لیے نکالے گئے اور صدیوں اک دوجے کی تلاش میں سرگرداں رہنے والے دو سنہرے دلوں کے نام۔۔۔۔

محبت کی وحی کے نزول کا لمحہ بهی کیسا جاوداں اور لافانی لمحہ ہوتا ہے جب دل کی زمین میں جنتی ہوائیں اس لاہوتی بیل کے بیج بو جاتی ہیں اور یہ آپ کو اپنے حصار میں لینا شروع کرتی ہے تو آپ خود کو بالکل بے بس محسوس کرتے ہیں۔ یہ برکها جب برسنی شروع ہوتی ہے تو روئیں روئیں سے سنہری کرنوں کی مانند پهوٹتی ہے۔ پهر سارے رنگ اڑ جاتے ہیں اور ایک ہی رنگ ہوتا ہے، سارے موسم ختم نہ جاڑے نہ بہار نہ خزاں سرد نہ گرم، بس ایک ہی موسم؛ وہ محبت کا موسم ہوتا ہے۔ یہ مسلسل ہے۔ ہر وقت ہر لمحہ ایک ایک پل؛ اس کی اپنی بہاریں ہیں، اس کے اپنے جاڑے ہیں، اس کی اپنی گرما ہے۔۔ طلب و وصل کی تڑپ رہتی ہے اور ہجر کے منحوس سائے ڈراتے ہیں اور اسی گهاٹی میں آپ محصور ہو جاتے ہیں۔ مگر کیا “حاصل” ہی محبت ہے؟؟ جونہی وصال میسر آئے تو سب سے پہلی چیز جو گئی وہ طلب کی دولت ہے، وہ مناجات ہیں، وہ شب گریہ ہے، وہ آہ نیم شبی ہے جو ہجرزادے اپنے دامن میں لیے گلیوں گلیوں پهرتے ہیں اور ہر چہرے میں ہر سنہرے منظر میں اپنے محب کو دیکهتے ہیں۔ ہر ہر سہانا منظر اسی کا پرتو لگتا ہے۔ ان کی زیارتیں دوسروں سے الگ ہوتی ہیں، ان کے مقدس مقام دنیا سے الگ ہوتے ہیں، کیونکہ محبت سے لبریز دل، محبت کرنے والے لوگ دنیا سے الگ ہوتے ہیں۔ ان کی زیارت وہی ہے جہاں ان کا محبوب قدم قدم چلا۔ جہاں اس نے اپنی روپہلی سانسیں ہوا میں تحلیل کیں، وہی وصل کی نمی سے بهرپور ہوا۔ ان ہجر زدہ دکهتے بدنوں کے لیے کسی اوتار کے مقدس ہاتهہ سے رکهے پهاہے اور مرہم کا کام کرتی ہے۔ اندر دید کی تمنا لیے مقفل در جب کسی انجان دستک پہ کهلتے ہیں اور سامنے وصل اپنا سنہرا چہرہ لیے کهڑا ہوتا ہے تو ہجر کی برص کے چاٹے ہوئے چہرے پهر سے کهل اٹهتے ہیں۔ بالکل جیسے مسیح مادر زاد کوڑهیوں کو ہاته کے لمس سے بهلا چنگا کر دیتے تهے۔ محبت دست عیسی کا دوسرا نام ہے۔ محبت ہمہ وقت وجد کا نام ہے۔ یہ ایک ایسی مسلسل کیفیت ہے جو جب آپ پہ طاری ہو جاتی ہے تو پهر آپ وصل کی اذانوں پہ بے اختیار دیوانہ وار اپنی محبت کے کعبے کی سمت دوڑے چلے جاتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.